التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

احادیث غیر معتبر وموضوعہ سے ثواب وعقاب کا ثبوت نہیں ہوتا۔

تفصیل

 ’’۔۔۔الغرض قیام ذکرِ ولادت، بایں وجہ ہے کہ ان لوگوں کو کوئی حدیثِ موضوع، دربابِ ثوابِ قیامِ مذکور ملی ہو، یا کسی بزرگ کا قول یا فعل ان کو معلوم ہوکہ اس کے موافق ثواب جان کر قیام کرتے ہیں، اور یہ معلوم ہوچکا ہے کہ احادیثِ غیر معتبر وموضوعہ سے ثواب وعقاب کا ثبوت نہیں ہوتا، اور قول وفعل بزرگوں سے بھی جواز واستحباب ثابت نہیں ہوتا، جب تک کہ کوئی دلیلِ شرعی موجود نہ ہو، پس باوجود امورِ مذکورہ (کے)، ہر گز یہ فعل موجبِ ثواب ومستحسن نہیں ہوسکتا، بلکہ بدعت ہی رہےگا۔۔۔‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1] باقیات فتاویٰ رشیدیہ :ذکر ولادت کے وقت قیام کے بدعت ہونے کی مفصل بحث، ص: ۸۱،دار الکتاب  لاہور ۔

علامہ لکھنوی l نے  ’’الآثار المرفوعہ‘‘ (ص:۴۶)میں آنجناب ﷺ کی ولادت باسعادت کے تذکرہ کے وقت کھڑےہونے کو بے دلیل کہا ہے،ملاحظہ ہو:

{ومنها ما يذكرونه من أن النبي يحضر بنفسه في مجالس وعظ مولده عند ذكر مولده، وبنوا عليه القيام عند ذكر المولد تعظيما وإكراما.

وهذا أيضا من الأباطيل لم يثبت ذلك بدليل، ومجرد الاحتمال والإمكان خارج عن حد البيان، وأمثال هذه القصص التي ذكرناها كثيرة تذكرها وعاظ الفضل المحمدي والمولد الأحمدي مع اختلاقها وعدم ثبوتها، ظنا منهم أن في ذكر جلالة القدر المحمدي ثوابا عظيما، وفضلا جسيما، غافلين عما يترتب من الإثم العظيم على من كذب على النبي عليه الصلاة والتسلیم فی قول أو فعل أو وصف جمالي أو کمالي کما دلت علیه الاخبار الصریحة والآثار الصحیحة}.