آیت: {يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا}. کی تفسیر میں نصوح نامی شخص کا قصہ بالکل غلط ہے۔
تفصیل
’’سوال: ایک شخص نے آیت: {يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا}. کی تفسیر یوں بیان کی کہ نصوح ایک شخص تھا، اور وہ، جو ایک قصہ ڈپٹی نذیر احمد جج حیدرآباد نے اپنی کتاب ’’توبۃ النصوح ‘‘ میں تحریر کیا ہے، تائیدا ًبیان کیا۔
جواب: آیت کی تفسیر میں توبۂ نصوح کی،معنی نصوح کے توبہ کرنا اور نصوح کسی شخص کا نام مقر ر کرنا، محض جہل وحماقت ہے، ترجمہ یہ ہے کہ توبہ خالص کرو، توبہ موصوف اور نصوح اس کی صفت ہے، اور یہ ترجمہ جہال کا، توبہ نصوح کی باضافت ہے، پس ایسی تفسیر کرنا اولاً جہل دوسرے تفسیر بالرائے ہے، ایسا شخص ہر گز قابل وعظ نہیں، اور قصہ جس نصوح کا لوگوں میں زبان زد ہے، وہ نزول قرآن شریف سے مدتوں پہلے پیدا ہوا ہے، الغرض یہ مفسر بالکل احمق ہے اور یہ تفسیر اس کی بالکل غلط ہے، فقط واللہ تعالیٰ اعلم!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] باقیات فتاوی رشیدیہ : توبۂ نصوح کا مفہوم کیا ہے ؟ ص: ۴۱۴، دار الکتاب لاہور ۔