”میت پر دفن کے وقت تین بار اس آیت کو پڑھ کر مٹی ڈالنے سے اس کا ہمزاد شیطان بھی اس کے ساتھ دفن ہو جائے گا “، یہ کوئی حدیث نہیں ہے۔
تفصیل
سوال (۵۶۵) احقر کو ایک شبہ ہے وہ یہ کہ ”اعمالِ قرآنی “ حصہ اول مطبوعہ قاسمی دیوبند صفحہ :۷ و ۸ پر آیت (منها خلقنكم وفيها نعيدكم ومنها نخرجكم تارة أخرى) کی خاصیت مشائخ سے منقول ہے کہ اگر میت پر دفن کے وقت تین بار اس آیت کو پڑھ کر مٹی دیوے تو اس کا ہمزاد شیطان بھی اس کے ساتھ دفن ہو جا وے گا، اھ۔
اس عبارت میں ہمزادکا کیا مطلب ہے، میری فہمِ ناقص میں تو اس کا متبادر بین العوام والعوامل مطلب وہی سمجھ میں آتا ہے جو کہ مشہور ہے کہ ہر شخص کے ساتھ ایک شیطان پیدا ہوتا ہے، جس کو ہمزاد کہتے ہیں کہ ساتھ ہی پیدا ہوتا ہے اور ساتھ ہی مرتا ہے اور زندگی بھر ہر وقت ساتھ رہتا ہے، اور عامل لوگ اس کو تابع کرنے کے لئے عملیات کرتے ہیں، اور بعض کہتے ہیں کہ وہ ساتھ مرتا نہیں ہے اور دوسروں کو ستاتا ہے، جیسا کہ عوام میں بعض کا یہی خیال ہے، تو پھر بدون مرے دفن کرنا کیسا ؟ اور اگر ساتھ ہی مرتا ہے تو میت کے ساتھ ہی دفن کرنے کی کیا ضرورت وغرض؟ کیا میت سے علیحدہ دفن ہو گیا ہو تو کچھ نقصان ہے؟ اس مسئلہ کے متعلق اگر کوئی روایت معلوم ہو اور اس کا جس قدر ثبوت اور جس قدر انکار محقق ہو اس سے مطلع فرمادیں اور عبارتِ مذکورہ بالا ”اعمال قرآنی“ کی توضیح بھی فرمادیں، احقر کا مبلغ علم تو اس قدر ہے کہ ”مشکوۃ شریف “ باب الوسوسہ، فصل اول میں حدیث ہے:
{عن ابن مسعود رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عنه: ما منکم من أحد إلا وقد وکل به قرینه من الجن وقرینه من الملئكة} الحدیث. [آپ ﷺ کا ارشاد ہے: تم میں سے ہر شخص پر ایک مصاحب جنات میں سے اور ایک مصاحب فرشتوں میں سے مسلط کیا گیا ہے ۔۔۔] اس سے ہمزاد وہم مرد کچھ نہیں معلوم ہوتا، اور کسی دوسری روایت کی مجھ کو خبر نہیں ۔ ایک شخص نے ”اعمالِ قرآنی“ کی عبارت مذکورہ دکھا کر مجھ کو شبہ میں ڈال دیا، اس لئے عرض کیا گیا، اگر سوالات زیادہ مختلط ہونے کی وجہ سے اس کا جواب دینا خلافِ مصلحت اور طبیعت پر گراں ہو تو اس شبہ کے جواب کو رہنے دیں، پھر کسی دوسرے وقت دریافت کرلوں گا ۔
الجواب : یہ کوئی روایت، حدیث کی نہیں بعض بزرگوں سے منقول تھا لکھ دیا، واقع میں یہ عبارت محتاج توضیح ہے، ورنہ اِیہام کا احتمال ہے، اجزاء توضیح کے یہ ہیں:
۱ - کسی حجت سے اس کا ثبوت نہیں ہے ۔
۲ - ہمزاد سے مراد یہ نہیں کہ اس کے ساتھ اس کی ماں کے پیٹ سے پیدا ہو، بلکہ انسان کے مقابلہ میں ایک شیطان بھی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے جو صرف تولد میں اس کا مشارک ہے، اسی بناء پر اس کو ہمزاد کہدیا، نہ محل میں مشارک ہے نہ زمانِ تولد میں ۔
۳ - مرنے میں مشارکت کہیں منقول نہیں، تو انسان کے مرنے کے بعد وہ اور کسی پر مسلط ہو جاتا ہے تو اس خاصیت کا حاصل یہ ہے کہ اس کی برکت سے و ہ مسجون [قید] ہو جاتا ہے، جیسے برکاتِ رمضان میں مروی ہے: {صفدت الشیطان}. اور طریق ثبوت اس کا محض کشف ہے جس کی نہ تصدیق واجب ہے نہ تکذیب، اور چونکہ ثبوت اس کا اس ضعیف درجہ میں ہے، اس لئے میری رائے یہ ہے کہ اگریہ توضیح ساتھ نہ ہو تو اس مضمون کا چھپنا مناسب نہیں، کہ عوام کے لئے موہم غلطی کا ہے[1]۔
ایک دوسرے انداز سے
ملتی جلتی احادیث
میت کے دفن کر نے کے بعد قبر پر اذان کہنا، بے اصل ہے۔
حکایت : ”حضرت محمد بن علی بن ابی طالب r کی والدہ خولہ حنفیہ جنّیہ تھیں “، یہ بالکل غلط ہے۔
حکایت : ”عصر اور مغرب کے درمیان کھانے والے شخص کو مرتے وقت عصر کا وقت نظر آتا ہے، اس کے سامنے شیطان پیشاب کا پیالہ لاتا ہے، تو یہ شخص اس وقت کھانے کا عادی ہونے کی وجہ سے اسے پی جائے گا“، یہ بالکل غلط اور جھوٹ بات ہے۔
روایت: ”جس کا کوئی پیر نہ ہو تو اس کا پیر شیطان ہے “، یہ حدیث نہیں، لوگوں نے مشہور کر رکھی ہے۔
جو کشف قرآن وحدیث کے خلاف ہو، وہ بالکل غلط ہے۔