روایت: ”جس کا کوئی پیر نہ ہو تو اس کا پیر شیطان ہے “، یہ حدیث نہیں، لوگوں نے مشہور کر رکھی ہے۔
تفصیل
ایک مولوی صاحب نے کہا کہ ایک حدیث لوگوں نے مشہور کر رکھی ہے: {من لا شیخ له فشیخه الشیطان}.جس کا کوئی پیر نہ ہو تو اس کا پیر شیطان ہے، فرمایا : بلکہ اب تو یہ ہے: {من له شیخ فشیخه الشیطان}. جس کا پیر ہے تو اس کا پیر شیطان ہے[1]۔
حوالہ جات
[1] ملفوظات حکیم الامت :ایک گھڑی ہوئی حدیث ، ۲۶/۳۹۰، ادارہ تالیفات اشرفیہ،ملتان ۔
علامہ اسماعیل حقی استانبولی ؒ نے ”روح البيان“(۵/۲۶۴)میں اسے ابو یزید بَستامی ؒ (متوفی:۲۶۱ھ) کا قول کہا ہے۔
ملتی جلتی احادیث
”میت پر دفن کے وقت تین بار اس آیت کو پڑھ کر مٹی ڈالنے سے اس کا ہمزاد شیطان بھی اس کے ساتھ دفن ہو جائے گا “، یہ کوئی حدیث نہیں ہے۔
دورانِ نماز حضرت علی r کے بدن سے تیر نکالنے والا مشہور قصہ، بے اصل ہے۔
روایت: ”شیخ اپنی قوم میں ایسا ہے جیسے نبی اپنی امت میں “، اس کا حدیث ہونا ثابت نہیں۔
کسی کا کلام یا کتاب سننے یا دیکھنے سے اس کے مصنف کا خفی اثر قلب پر پڑتا ہے۔
قصہ جس میں شہد میں ایک بال دیکھ کر خلفاء اربعہ رضی اللہ عنہم نے اس کی مثال بیان کی، یہ مہمل قصہ ہے۔