التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

نبیﷺکا حضرت فاطمہ R کے عقدِ نکاح میں چھوہاروں کے لٹانے کی روایت من گھڑت ہے۔

تفصیل

’’۔۔۔اور سنت جان کر لُوٹنا اور لُٹانا [یعنی چھوہارے] بدعت ہے، اور روایت لُٹانے آنحضرت ﷺ کی، عقدِنکاح حضرت فاطمہ R  میں، اگرچہ بعض کتبِ سیر مانند ’’مواہب‘‘ و’’مدارج‘‘ و’’روضۃ الاحباب‘‘ میں منقول ہے، لیکن موضوع ہے، ’’فوائد المجموعة في الأحاديث الموضوعة‘‘ میں مرقوم ہے:

{أن النبي صلى الله عليه وسلم تزوج إمرأة من نسائه فنشروا على رأسه تمر عجوة. رواه الخطيب عن عائشة رضي الله عنها مرفوعا، وفي إسناده سعيد بن سلام كذاب، والحديث باطل». [یعنی نبی ﷺ کا  اپنی ازواج میں سے کسی ایک سے نکاح ہوا،جس میں صحابہ رضی اللہ عنہم  نے آپﷺ کے سرہانے عجوہ کھجور لُٹائی۔اسے خطیبl نے عائشہ R  سے موفوعاً تخریج کیا ہے،اور اس روایت کی سند میں سعید بن سلام کذاب راوی ہے،نیز یہ حدیث باطل ہے]۔

اور  ’’ میزان اعتدال‘‘ میں مسطور ہے :

{محمد بن دينار العرفي عن هيثم [كذا في الأصل، والصحيح العِرْقِي عن هشيم] أتى بحديث كذب، ولايدری من هو}. [یعنی محمد بن دینار عِرْقِی نے ہُشَیْم سے ایک جھوٹی حدیث نقل کی ہے،نہ معلوم یہ کون ہے]۔

اور ابن حجر عسقلانی l  نے  ’’لسان الميزان‘‘  میں ذکر کیا ہے کہ وہ حدیث جھوٹی ہے، کہ جس میں انتہابِ[لُٹانا] چھواروں کا ذکر ہے، عقد نکاح حضرت فاطمہ R میں، اور مانند اسی کے ذکر کیا ہےسیوطی l  نے  ’’لآلئ المصنوعة في الأحادیث الموضوعة‘‘ میں،اور عراقی [اصل میں اسی طرح ہے،صحیح ابن عراق l ہے]نے ’’تنزيه الشریعة‘‘ میں، اور ذہبی l  نے  ’’تمحیض‘‘ میں[اصل میں اسی طرح ہے،صحیح تلخیص ہے]، اور سوا اس کے اور احادیث سے جو کھجوروں کے لٹانے پر بعض دلیل لائے ہیں، وہ سب موضوع ہیں اور قابل احتجاج کے نہیں، اس حدیث کو کہ: {تزوج (رسول الله) صلى الله عليه وسلم إمرأة من نسائه فنثروا على رأسها تمر عجوة}. [یعنی رسول اللہ ﷺ کا  اپنی ازواج میں سے کسی ایک سے نکاح ہوا،جس میں صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپﷺ کی زوجہ R  کے  سرہانے عجوہ کھجور لٹائی]۔

ابن طاہر پٹنی  l نے اپنے  ’’ تذکرہ‘‘ میں اور شوکانی  l نے اپنی کتاب  ’’موضوعات ‘‘  میں لکھا ہے کہ یہ حدیث باطل ہے، اور اس کے اسناد میں سعید بن سلام کذاب ہے اور  ’’تنزیہ الشریعۃ ‘‘  میں (سعید بن سلام کے متعلق ) مذکور ہے :

{قال أحمد وابن معين: كذاب. وقال البخاري: يذكر بوضع الحديث}. [یعنی اس  سعید کو احمد l و ابن معین l نے کذاب کہا ہے،اور بخاری l  فرماتے ہیں کہ اس کا ذکر حدیث گھڑنے میں کیا جاتا ہے]۔

اور حدیث: {لم أنهكم عن نهبة الولاء [ کذا في الأصل والصحیح: الولائم]} بھی موضوع ہے، اس کے اسناد میں بشربن ابراہیم ہے کہ روایت کرتا ہے موضوعات کو، ایسا ہی ذکر کیا ابن طاہر پٹنیl  اور شوکانی l نے اور  ’’تنزیہ الشریعہ‘‘  میں مرقوم ہے:

{قال ابن حبان وغيره: كان يضع الحديث}. [یعنی اس بشر کے بارے میں ابن حبان l وغیرہ کا کہنا ہےکہ یہ حدیث گھڑتا تھا] واللہ تعالیٰ اعلم!

انتہاب [لُٹانا] بلاشبہ باعثِ فساد ہے، اگر یوں ہی تقسیم کرے بغیر اعتقادِ سنیت تو شیوع اور قرینہ اباحت میں ہے‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1] باقیات فتاوی رشیدیہ :  مجلس نکاح میں چھوہارے لٹانے کا حکم ، ص: ۵۶۷،  دار الکتاب  لاہور ۔

[2] باقیات فتاوی رشیدیہ : نکاح میں چھوارے لٹانے کی روایت صحیح نہیں، ص: ۲۵۰، دار الکتاب  لاہور ۔ 

ملتی جلتی احادیث