التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

1 رسول اللہﷺ کا حضرت بلال r کو بعوض حسنین q خریدنا محض غلط ہے، ایسی باتیں بے اصل، بیان کرنے والامستحق وعظ گوئی نہیں۔

2 ابوہریرہ r کا نکاح بعد وفات رسول اللہﷺ ہوا ہے، پہلے نہیں ہوا، آپ ﷺ کی خدمت میں اس نکاح کے کھانے کا پہنچنا لا اصل ہے۔

3 آنحضرت ﷺ کا شب معراج میں حور کے نور کو سجدہ کرنا بالکل افتراء ہے، قرآن شریف کے بالکل مخالف ہے: {ماكذب الفؤاد مارأى} [جھوٹ نہیں کہا رسول( اللہ ﷺ) کے دل نے جو دیکھا] صاف بیان ہے کہ آپ کو کسی قسم کی غلطی نہیں ہوئی، ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے، سخت زندیق ہے۔

3 شب برات کو تین غسل کرنا، یا حلوا وغیرہ کا پکانا شریعت سے ثابت نہیں، یہ باتیں محض لا اصل ہیں۔

تفصیل

’’سوال: 1 زید نے وعظ میں بیان کیا کہ حضرت بلال r کو رسول اللہﷺ نے بعوض حضرت امام حسنین q  کے خریدکیا، برضامندی ان کے والدین q  کے، یہ قصہ صحیح ہے یا غلط؟ اگر غلط ہے تو زید پر کیا حکمِ شرعی نافذ ہوگا؟ اور بلال ایک ہی تھے، یا کئی، عمرو اس کو باطل کہتا ہے؟

  ’’سوال: 2 زید نے وعظ میں بیان کیا کہ ابو ہریرہ r    کا نکاح ہوا اور ان کی زوجہ نے کھانا پکا کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجنے کو کہا، ابوہریرہ r    کا نکاح ہوا یا نہیں، اور ابوہریرہ r  ایک ہی شخص تھے، یا چند صحابیوں کا نام تھا؟

’’سوال: 3 زید نے وعظ میں بیان کیا کہ شبِ معراج رسول اللہ ﷺ نے ایک حور کا نور پھیلا ہوا دیکھ کر اس کو سجدہ کیا نورِخدا سمجھ کر، حور نے کہا یا ندا ہوئی کہ یا رسول اللہ ﷺ!آپ کو دھوکہ ہوا، میں حورہوں، یہ قصہ صحیح ہے یا نہیں؟ اگر صحیح نہیں تو ایسا عقیدہ رکھنے والا کون ہے؟ عمرو کہتا ہے یہ افتراء ہے اور خلافِ قرآن ہے۔

’’سوال: 4 زید نے وعظ میں بیان کیا کہ  میں تم کو بروزِ شبِ برات حلوا پکانے کو منع نہیں کرتا، اگرچہ ثابت نہیں، مگر میں تم کو ایک طریقہ سنت کا بتاتا ہوں، وہ یہ ہے کہ تم چاول، دہی، شہد، شب برات کو پکاؤ، مُردوں کی روح کو ثواب پہنچاؤ، باہم تقسیم کرو، رسول اللہ ﷺ نے شبِ برات کو پکوایا ہے، اے مفتی صاحبو! اس کی کچھ اصلیت ہے، یا نہیں، عمرو کہتا ہے کہ یہ لااصل ہے ؟

’’سوال: 5 زید نے وعظ میں بیان کیا کہ شبِ برات میں تین غسل کرنے چاہئیں، ایک اول شب میں، ایک آدھی رات کو، ایک اخیر رات کو، اے مفتی صاحبو! اس کی بھی  کچھ اصلیت ہے، یا نہیں، عمرو کہتا ہے کہ یہ لااصل ہے ؟

’’سوال: 6 عمرو نے لوگوں سے پوچھا کہ شب برات کو حلوا یا چاول یا دہی یا شہد پکانا کیسا ہے؟ عمر ونے کہا خصوصیتِ ایام محض باطل ہے، مُردوں کو ثواب جب چاہو پہنچاؤ، کسی دن اور کسی طعام کو خاص مت کرو ۔ ۔۔۔

جوابِ ذیل از جناب برکت مآب زبدۃ العارفین عمدۃ المحدثین حضرت مولانا مولوی رشید احمد صاحب مد  فیوضہم گنگوہی وعلمائے دیوبند۔

جواب: رسول اللہﷺ کا حضرت بلال r    کو بعوض حسنین q خریدنا محض غلط ہے، ایسی باتیں بے اصل، بیان کرنے والا مستحق وعظ گوئی نہیں، بلال r  اور بھی ایک صحابی کا نام تھا، پروہ حر الاصل[یعنی شروع سے آزاد تھے،غلام نہ] تھے، ابوہریرہ r     کا نکاح بعد وفات رسول اللہﷺ ہوا ہے، پہلے نہیں ہوا، یہ نکاح کے کھانے کا آپ [ﷺ] کی خدمت میں پہنچنا لا اصل ہے، ابوہریرہ r  اور کسی صحابی کا نام نہیں، شبِ معراج نورِ حور کو، آنحضرت ﷺ کا سجدہ کرنا بالکل افتراء ہے، قرآن شریف کے بالکل مخالف ہے: (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأى). [جھوٹ نہیں  کہا رسول(اللہ ﷺ) کے دل نے جو دیکھا]صاف بیان ہے کہ آپ کو کسی قسم کی غلطی نہیں ہوئی، ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے، سخت زندیق ہے، شب برات کو تین غسل کرنا، یا حلوا وغیرہ کا پکانا شریعت سے ثابت نہیں، یہ باتیں محض لا اصل ہیں، ان مسائل میں قولِ عمرو صحیح ہے اور قولِ زید باطل۔ واللہ اعلم!‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1] باقیات فتاوی رشیدیہ : ایک جاہل واعظ کی بیان کی ہوئی سات بے اصل باتوں کی حقیقت، ص: ۵۶۸ -۵۷۳،دار الکتاب  لاہور ۔ 

ملتی جلتی احادیث