’’آپ ﷺ نے فرمایا: آدم e نے بحق محمدﷺ، علی r ، فاطمہ R ، حسن r ، اللہ سے سوال کیا تھا‘‘، یہ روایت من گھڑت ہے۔
تفصیل
’’سوال: زید حضرت عباس q سے یوں روایت تحریر کرتا ہے کہ حضرت عباس r سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی ﷺ سے ان کلمات کی بابت سوال کیا جن کی تعلیم آیتِ ہذامیں ہوئی، حضور ﷺ نے فرمایا کہ آدم e نے رسول اللہﷺ وعلی r وفاطمہ R وحسنr کو وسیلہ کر کے گناہ کی معافی چاہی، خدا تعالیٰ نے آدم e کی دعا قبول فرمائی، اور ان کے گناہ معاف کر دیئے، حدیث یہ ہے: «أخرج ابن النجار عن ابن عباس قال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الكلمات التي تلقها آدم من ربه فتاب عليه، قال: سأل آدم بحق محمد صلى الله عليه وسلم وعلى رضي الله عنه وفاطمة رضي الله عنها والحسن رضي الله عنه، إن تبت علي فتاب عليه}. (درمنثور سيوطي رحمة الله عليه) [ابن نجار l نے ابن عباس q سے تخریج کیا ہے، آ پ r فرماتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ سے ان کلمات کے بارے میں پوچھا جن کے ذیعہ آدم e نے اپنے رب سے توبہ کی تھی، اور اللہ نے ان کی توبہ کو قبول فرمالیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا، آدم e نے بحق محمدﷺ ، علی r ، فاطمہ R ، حسن r ، اللہ سے سوال کیا تھا .....]
زید کے مقابلہ میں اپنا خیال یہ ہے کہ ’’بحق محمد ﷺ‘‘ تک عبارت صحیح ہے اور پھر آگے زائد ہے، نہیں معلوم کس نے زیادہ کیا، فقط، جواب صحیح حدیث سے عنایت ہو وے۔
جواب: زید نے جو روایت بیان کی ہے وہ محض بے اصل ہے، ’’درمنثور ‘‘ نے اس کو ابن النجار l سے نقل کیا ہے، اس کے علاوہ دَارَقُطْنِیl نے بھی اس روایت کو لیا ہے، لیکن دونوں کتابوں میں سے ایک ہی سند سے روایت موجود ہے، یعنی ابن النجارl اور دَارَقُطْنِیl ہر دوکی سند میں حسین ابن الحسن الاشقر عن عمرو بن ثابت ابی المقدام عن ابیہ موجود ہے، اور یہ حسین رافضی غالی تھا، اور اکثر لوگوں نے اس پر جرح کی ہے، حتی کہ بعض نے کذاب کہا ہے، اور عمرو بن ابی المقدام بھی غالی شیعہ تھا اور اس کے ضعیف ہونے پر سب محدثین کا اتفاق ہے اور بڑے سخت الفاظ میں اس پر جرح کی ہے، چنانچہ ابو داؤد l نے رافضی خبیث کہا ہے، پس یہ روایت موضوع ہے، ہر گز قابلِ اعتماد نہیں۔
’’منہاج السنۃ‘‘ میں صاف لکھا ہے: {کذب موضوع باتفاق أهل العلم} [اہل علم اسے جھوٹ من گھڑت کہنے میں متفق ہیں] (ص: ۳۶، ج: ۴)، اور جب معلوم ہوگیا کہ یہ حدیث نہیں بلکہ حسین یا عمرو کا گھڑا ہوا مضمون ہے تو اس کا دوسرا جواب دینے کی ضرورت نہیں، اگر پھر بھی کسی کو جواب کا شوق ہو تو ’’منہاج السنۃ‘‘ دیکھ لےکہ اس میں دیگر سات جواب موجود ہیں، اور جب یہ معلوم ہوگیا کہ یہ کُل روایت ہی سرے سے گھڑی ہوئی ہے تو پھر بحق محمدﷺ تک کا صحیح ماننا بھی بلا دلیل ہے، اور کلمات کی صحیح اور معتبر تفسیر یہ ہے کہ {ربنا ظلمنا أنفسنا} الخ مراد ہے، اس کو چند صحابہ رضی اللہ عنہم نے بیان فرمایا ہے، اور خود حضرت ابن عباس q نے بھی یہی فرمایا ہے، جیسا کہ ثعلبیl اور ابن المنذر l نے ان سے روایت کی ہے جو ’’درمنثور‘‘ ہی میں موجود ہے۔ واللہ اعلم!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] امدادالاحکام : آیت (فَتَلَقّی آدَمُ مِنْ رَّبِّهِ کَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَیْهِ) سے متعلق ایک رویت کی تحقیق، ۱/۲۹۸، مکتبہ دار العلوم کراچی۔
حافظ ابن جوزی l نے اس روایت کو ’’ موضوعات‘‘ (۲/3) میں شمار کیاہے، حافظ ذہبی l نے ’’تلخیص کتاب الموضوعات‘‘ (ص:۱۵۲)میں، علامہ سیوطی l نے ’’لآلئ المصنوعہ‘‘ (۱/۲۴۹)میں، علامہ شوکانی l نے ’’فوائد مجموعہ‘‘ (۲/۴۸۶)میں اور علامہ پٹنی l نے ’’تذکرۃ الموضوعات‘‘ (ص:۹۸) میں اس روایت کو موضوع کہنے میں حافظ ابن جوزی l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
ملتی جلتی احادیث
’’حضرت علی r کی اجازت کے بغیر کوئی صراط پر سے نہ گزرے گا، نیز قبرمیں سب سے حضرت علی r کی امامت کا سوال کیا جائےگا‘‘، یہ روافض کی روایات ہیں۔
نبیﷺکا حضرت فاطمہ R کے عقدِ نکاح میں چھوہاروں کے لٹانے کی روایت من گھڑت ہے۔
’’ آپ ﷺکا اپنے صاحبزادے ابراہیم r کے لئے فاتحہ خانی کرنا‘‘،اس کا گھڑنے والا ملعون ہےکہ فخر عالم e پر تہمت باندھتا ہے۔
’’غدیر کے دن حضرت علی r کے بارے میں آپﷺ کے ارشاد {من کنت مولاه فعلي مولاه} پر ایک منافق کی ناگواری اور آسمان سے اس پر پتھر کا برسنا‘‘، پتھر گرنے کا قصہ واہی موضوع ہے۔
’’حضرت فاطمہ R کا حضرت علی r کے غصہ اور ناگواری کی شکایت فرمانا اورآپﷺ کا ان سے یہ فرمانا کہ اگر علی r نے تمہیں اس غصہ کی حالت میں طلاق دیدی، تو مشکل پڑجائے گی‘‘، یہ کھلا جھوٹ اور ناپاک الزام ہے۔