’’حضرت فاطمہ R کا حضرت علی r کے غصہ اور ناگواری کی شکایت فرمانا اورآپﷺ کا ان سے یہ فرمانا کہ اگر علی r نے تمہیں اس غصہ کی حالت میں طلاق دیدی، تو مشکل پڑجائے گی‘‘، یہ کھلا جھوٹ اور ناپاک الزام ہے۔
تفصیل
’’سوال: ۔۔۔ ونیز ایں کلام مخالف شرع واجماع امت متوجہ شود، کہ روزے حضرت فاطمہ R بخدمت محمد ﷺ شکایت غصہ وغضب حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ کردند، عتابا فرمود کہ اے فاطمہR! چہ می گوئی، اگر علی ترادراں حالت غیضیت وجلالت طلاق دادندے، مشکل واقع گردیدے۔ ۔۔‘‘۔
ترجمہ: ’’۔۔۔ نیز شریعت اور اجماع امت کے خلاف یہ بھی کہتا ہے کہ ایک دن حضرت فاطمہ R نے حضرت رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں، حضرت علی r کے غصہ اور ناگواری کی شکایت فرمائی، حضرت رسول اکرم ﷺ نے ناپسندیدگی کے ساتھ فرمایا: اے فاطمہ R ! کیا کہتی ہو، اگر علی r نے تمہیں اس غصہ کی حالت میں طلاق دیدی، تو مشکل پڑجائے گی۔ ۔۔‘‘۔
جواب: ’’۔۔۔اور جوحضرت علی r فاطمہ R کو طلاق دینے کے متعلق روایت نقل کرتے ہیں، وہ کھلا جھوٹ اور ناپاک الزام ہے(اللہ تعالیٰ اس گھڑنے والے پر لعنت فرمائے)اس کو شیعوں نے گھڑا ہے ۔ ۔۔‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] باقیات فتاوی رشیدیہ : فضیلت شیخین p کامنکر رافضی ہے، ص: ۱۹ ـ ۲۲،دار الکتاب لاہور۔
ملتی جلتی احادیث
’’غدیر کے دن حضرت علی r کے بارے میں آپﷺ کے ارشاد {من کنت مولاه فعلي مولاه} پر ایک منافق کی ناگواری اور آسمان سے اس پر پتھر کا برسنا‘‘، پتھر گرنے کا قصہ واہی موضوع ہے۔
’’آپ ﷺ نے فرمایا: آدم e نے بحق محمدﷺ، علی r ، فاطمہ R ، حسن r ، اللہ سے سوال کیا تھا‘‘، یہ روایت من گھڑت ہے۔
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔