التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

’’حضرات حسنین q کااپنی خوش خط آپ ﷺ کو،پھر ابوبکر r کو، بالآخر اللہ کو دکھانا [معاذاللہ]‘‘،یہ محض افتراء اور کذب محض ہے، کہیں اس کی اصل نہیں،اس کا واعظ فاسق ہے اس کا وعظ سننا حرام ہے۔

تفصیل

’’سوال: واعظ مرقوم[اس کے حولہ سے اور بھی کئی سوال ہیں، جس میں سے ایک روزہ کے باب میں درج ہے، نور] نے بیان کیا کہ حضرت امام حسن وحسین q ایامِ طفولیت میں، بسم اللہ لکھ کر، حضرت رسالت پناہ کے حضور میں لے گئے، اور استفسار کیا کہ نانا جان!دونوں میں سے کون سی خوش خط ہے؟ حضرت e نے فرمایاکہ بیٹا میں کس کو خوشخط بتاؤں اور کس کو بدخط، مجھے تو تم دونوں برابر ہو، اگر ایک کو خوشخط بتاؤں گا تو بدخط والا رنجیدہ ہوگا، الغرض آپ نے کچھ جواب نہ دیا، پھر دونوں صاحبزادے صدیق اکبر r کے پاس گئے، اور کہا آپ فر مایئے،
ان میں سے کون سی اچھی ہے، اور کون سی بری ہے؟ آپ نے کہا کہ جب آں حضرت ﷺ نے نہیں بتایا، تو میں کیوں کر بتاؤں؟ غرض اسی طرح بہت سے مقاموں میں گئے، سب نے یہی کہا کہ جب جنابِ رسالت مآب وصدیق عالی صفات نے نہیں بتایا، تو ہم کیوں کر بتاویں، آخر میں حضرت حسنین
q  اللہ کے پاس گئے اللہ نے بھی وہی جواب دیا اور کہا کہ جب میرے رسول ﷺ اور میرے صدیق r  نے بھی نہیں بتایا تو میں کیوں کر بتاؤں اور چلتے وقت ایک پر سرخ اور ایک پر سبز نشان کردیا۔

آیا یہ تینوں باتیں صحیح ودرست ہیں؟ مفصل تحریر فر مایئے، اور کیا مسئلہ ثانی کی تفسیر میں کسی مفسر نے یہ تحریر وتفسیر کی ہے اور کیا تیسری روایت[یعنی زیرِ بحث]، سنیوں کی کسی معتبر کتاب میں پائی جاتی ہےیا نہیں؟۔

جواب: یہ قصہ [حضرات] حسنین q کا محض افتراء اور کذب محض ہے، کہیں اس کی اصل نہیں، اور ایسی حکایاتِ واہیہ بے معنی کرنے والا خر[گدھا،احمق]بے تمیز ہے، اس کا ہر گز وعظ نہ سننا چاہئے، ایسا واعظ گمراہ کرنے والا ہے اور ایسا وعظ سننا بھی حرام ہے۔

{قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من كذب عليّ متعمدا فليتبوأ مقعده من النار}.

ترجمہ: جو کوئی جھوٹ بولے مجھ پر جان کر، چاہئے کہ وہ ٹھکانہ کرلیوے اپنا آگ میں(ت۔ن)۔

پس یہ کہانی واہیہ، افتراء علی رسول اللہ ﷺ ہے، ایسا واعظ فاسق گمراہ کنندہ ہے، اور اس کا وعظ سننا حرام ہے، فقظ واللہ تعالیٰ اعلم‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1] باقیات فتاویٰ رشیدیہ : حضرت حسنین q  سے منسوب ایک بے حقیقت قصے کا تذکرہ، ص: ۳۰ ـ ۳۱، دار الکتاب  لاہور ۔ 

ملتی جلتی احادیث