’’حضرات حسنین q کااپنی خوش خط آپ ﷺ کو،پھر ابوبکر r کو، بالآخر اللہ کو دکھانا [معاذاللہ]‘‘،یہ محض افتراء اور کذب محض ہے، کہیں اس کی اصل نہیں،اس کا واعظ فاسق ہے اس کا وعظ سننا حرام ہے۔
تفصیل
’’سوال: واعظ مرقوم[اس کے حولہ سے اور بھی کئی سوال ہیں، جس میں سے ایک روزہ کے باب میں درج ہے، نور] نے بیان کیا کہ
حضرت امام حسن وحسین q ایامِ طفولیت میں، بسم اللہ لکھ کر، حضرت رسالت پناہ
کے حضور میں لے گئے، اور استفسار کیا کہ نانا جان!دونوں میں سے کون سی خوش خط ہے؟
حضرت e نے فرمایاکہ بیٹا میں کس کو خوشخط بتاؤں اور کس کو
بدخط، مجھے تو تم دونوں برابر ہو، اگر ایک کو خوشخط بتاؤں گا تو بدخط والا رنجیدہ
ہوگا، الغرض آپ نے کچھ جواب نہ دیا، پھر دونوں صاحبزادے صدیق اکبر r کے پاس گئے، اور کہا آپ فر مایئے،
ان میں سے کون سی اچھی ہے، اور کون سی بری ہے؟ آپ نے کہا کہ جب آں حضرت ﷺ نے نہیں بتایا، تو میں کیوں کر بتاؤں؟ غرض اسی طرح بہت سے مقاموں میں
گئے، سب نے یہی کہا کہ جب جنابِ رسالت مآب وصدیق عالی صفات نے نہیں بتایا، تو ہم
کیوں کر بتاویں، آخر میں حضرت حسنین q اللہ کے پاس گئے اللہ نے بھی وہی جواب
دیا اور کہا کہ جب میرے رسول ﷺ اور میرے صدیق r نے
بھی نہیں بتایا تو میں کیوں کر بتاؤں اور چلتے وقت ایک پر سرخ اور ایک پر سبز نشان
کردیا۔
آیا یہ تینوں باتیں صحیح ودرست ہیں؟ مفصل تحریر فر مایئے، اور کیا مسئلہ ثانی کی تفسیر میں کسی مفسر نے یہ تحریر وتفسیر کی ہے اور کیا تیسری روایت[یعنی زیرِ بحث]، سنیوں کی کسی معتبر کتاب میں پائی جاتی ہےیا نہیں؟۔
جواب: یہ قصہ [حضرات] حسنین q کا محض افتراء اور کذب محض ہے، کہیں اس کی اصل نہیں، اور ایسی حکایاتِ واہیہ بے معنی کرنے والا خر[گدھا،احمق]بے تمیز ہے، اس کا ہر گز وعظ نہ سننا چاہئے، ایسا واعظ گمراہ کرنے والا ہے اور ایسا وعظ سننا بھی حرام ہے۔
{قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من كذب عليّ متعمدا فليتبوأ مقعده من النار}.
ترجمہ: جو کوئی جھوٹ بولے مجھ پر جان کر، چاہئے کہ وہ ٹھکانہ کرلیوے اپنا آگ میں(ت۔ن)۔
پس یہ کہانی واہیہ، افتراء علی رسول اللہ ﷺ ہے، ایسا واعظ فاسق گمراہ کنندہ ہے، اور اس کا وعظ سننا حرام ہے، فقظ واللہ تعالیٰ اعلم‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] باقیات فتاویٰ رشیدیہ : حضرت حسنین q سے منسوب ایک بے حقیقت قصے کا تذکرہ، ص: ۳۰ ـ ۳۱، دار الکتاب لاہور ۔
ملتی جلتی احادیث
1 رسول اللہﷺ کا حضرت بلال r کو بعوض حسنین q خریدنا محض غلط ہے، ایسی باتیں بے اصل، بیان کرنے والامستحق وعظ گوئی نہیں۔
2 ابوہریرہ r کا نکاح بعد وفات رسول اللہﷺ ہوا ہے، پہلے نہیں ہوا، آپ ﷺ کی خدمت میں اس نکاح کے کھانے کا پہنچنا لا اصل ہے۔
3 آنحضرت ﷺ کا شب معراج میں حور کے نور کو سجدہ کرنا بالکل افتراء ہے، قرآن شریف کے بالکل مخالف ہے: {ماكذب الفؤاد مارأى} [جھوٹ نہیں کہا رسول( اللہ ﷺ) کے دل نے جو دیکھا] صاف بیان ہے کہ آپ کو کسی قسم کی غلطی نہیں ہوئی، ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے، سخت زندیق ہے۔
3 شب برات کو تین غسل کرنا، یا حلوا وغیرہ کا پکانا شریعت سے ثابت نہیں، یہ باتیں محض لا اصل ہیں۔
1 ’’بایزید بسطامی l کاباری تعالیٰ کے اختیار دینے پر مختلف چیزیں مانگنا اور باری تعالی کا انھیں دینے سے عاجز ہونا‘‘[معاذاللہ]۔
2 ’’عثمان ہارونی l کاباری تعالیٰ سے روٹھ کر کافر،پھر آپ ﷺ کے منانے پر مسلمان ہونا‘‘ [معاذاللہ]۔
3 ’’حضرت حسین r کے دونوں پاؤں کے نیچے تلووں میں قرآن مجید لکھا ہوا تھا‘‘ [معاذاللہ]۔
4 ’’کلمہ توحید میں دو چیزیں کفر ہیں۔۔۔‘‘ [معاذاللہ]۔
5 ’’بت خانے میں باری تعالی کا خاص بندہ‘‘ [معاذاللہ]۔
6 ’’ایک چور کی حکایت‘‘۔
7 ’’سید عبد القادر l کا اوپر کے ہاتھ سے آسمان اور عصا سے زمین کو تھامنا‘‘ [معاذاللہ]۔
اس وعظ کہنے والے شخص کے کفر میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں، اس کا تمام وعظ سرا سر جہالت اور گمراہی ہے۔
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔