حضرت عمر r کا اپنے بیٹے ابو شحمہ پر حد نافذ کرنے کا مشہور قصہ موضوع وباطل ہے، صحیح واقعہ دوسرا ہے۔
تفصیل
سوال (۵۳۰) ایک قصہ درمیان واعظین کے مشہور ومعروف ہے جس کی صحت کی ضرورت ہے، اس واسطے حضور کو تکلیف دیتا ہوں، مع حوالہ کتاب کے جواب باصواب سے مشرف فرمایا جاؤں، حضرت عمر r کے کوئی بیٹے اُسامہ نامی تھے حافظ قرآن، ان پر کسی عورت نے دعویٰ زنا کیا تھا، اور اس سے بچہ پیدا ہوا، جس کو بر سرِ اجلاس حضرت عمر r کے رُو برو رکھ دیا، اس پر حضرت عمر r نے ثبوتِ زنا ہونے پر اُسامہ کے دُرّے لگائے، پورے دُرّے نہ ہونے پائے تھے کہ ان کا انتقال ہوگیا، بقیہ دُرّے اس کے قبر پر یا لاش پر مارے۔
رات کو خواب میں دیکھا کہ حضرت اُسامہ جنت الماوی ٰکے اندر قرآن شریف پڑھتے ہیں، حضرت عمر r سے کہا کہ اے باپ! اگر آپ بقیہ دُرّے نہ مارتے تو مجھ کو ہر گز یہ مقام نصیب نہ ہوتا۔ اور زیادہ لمبا چوڑا قصہ ہے، یہ مختصر عرض کیا گیا، لہذا یہ قصہ کہاں تک صحیح ہے؟
الجواب : اس قسم کا قصہ جن کا مشہور ہے ان کا نام ابو شحمہ ہے، اور قصہ اس طرح منقول نہیں جیسا سوال میں لکھا ہے، اور طرح منقول ہے، مگر محدثین رحمہم اللہ نے اس کو موضوع وباطل کہا ہے، چنانچہ ”اللآلی المصنوعہ“ جلد ثانی، کتاب الاحکام والحدود میں یہ روایت شِیرُوَیہ شہر یار l کی سند سے نقل کر کے کہا ہے : {موضوع، فیه مجاهیل، قال الدارقطني: حدیث مجاهد عن ابن عباس رضي الله عنهما في حدیث أبي شحمة لیس بصحیح. وقد روي من طریق عبد القدوس بن الحجاج، عن صفوان، عن عمر، وعبد القدوس یضع، وصفوان بینه وبین عمر رجال}.
اور اس کے بعد اس کی جس قدر اصل ہے اس کو اس طرح نقل کیا ہے :
{والذي ورد في هذا ما ذکره الزبیر بن بکار وابن سعد في الطبقات وغیرهما: أن عبد الرحمن الأوسط من أولاد عمر، ویکنى أبا شحمة، کان بمصر غازیا، فشرب لیلة نبیذا فخرج إلى السکة، فجاء إلى عمرو بن العاص فقال: أقِم عليّ الحد، فامتنع، فقال له: إني أخبر أبي إذا قدمت علیه، فضربه الحد في داره ولم یخرجه، فکتب إلیه عمر یلومه ویقول: ألا فعلت به ما تفعل بجمیع المسلمین، فلما قدم على عمر ضربه، واتفق أنه مرض فمات}[1].
[خلاصہ یہ کہ اس قصہ میں ابو شحمہ کی جانب زنا کو منسوب کرنا، نیز یہ کہنا کہ حضرت عمر r نے اس پر ان کو کوڑے مارے، حتی کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی قبر پر بقیہ کوڑے مارے، یہ سب من گھڑت ہے، البتہ صرف اتنا ثابت ہے کہ مصر میں ابو شحمہ نے نبیذ پی لی تھی،جس میں نشہ تھا، آپ نے حضرت عمرو بن عاص r سے اصرا ر کیا کہ مجھے اس پر کوڑے لگائے جائیں،حضرت عمرو بن عاص r نے اپنے گھر کے اندر انھیں کوڑے لگوائے، اسے حضرت عمر r نے ناپسند کیا کہ ابو شحمہ کو عام مسلمانوں کی طرح برسرِعام کوڑے کیوں نہیں مارے،چنانچہ حضرت عمر r نے انھیں مدینہ میں دوبارہ برسرِ عام کوڑے مارے، بعد میں اتفاق سے ابو شحمہ طبعی طور پر بیمار ہو گئے اور ان کا انتقال بھی ہو گیا، یہ نہیں کہ کوڑے لگنے سے انتقال ہوا ہے،لیکن لوگوں نے اس واقعہ کےساتھ دیگر من گھڑت باتیں چسپا ں کر کے مشہور کر دیں]۔
حوالہ جات
[1] امدادالفتاویٰ : کتاب مسائل شتیٰ ، موضوع بودن قصہ ابو شحمہ پسر حضرت عمرؓ ، ۴/۴۷۶ ، مکتبہ دارالعلوم،کراچی ۔
اس روایت کو مذکوہ مشہور تفصیل کے ساتھ حافظ جُوزَقانی ؒ نے ”الاباطيل والمناكير“(ص:۲۹۰)میں،حافظ ابن جوزی ؒ نے ”الموضوعات“(۳/ ۲۶۹) میں،حافظ ذہبی ؒ نے ”تلخيص الموضوعات“(ص:۳۵۸)میں،حافظ ابن حجر ؒ نے ”الاصابہ“ (۷/ ۱۰۱)میں،حافظ سیوطی ؒ نے ”اللآلی المصنوعہ“(۲/۱۹۴)میں،حافظ ابن عرّاق نے ”تنزيہ الشريعہ“ (۲/۲۲۰) میں من گھڑت کہا ہے۔
ملتی جلتی احادیث
حضرت سیدنا داؤد e اور اُورِیا کا قصہ، محض بے اصل ہے۔
ہاروت وماروت وزہرہ کا قصہ،نُقَّاد محدثین نے اسے من گھڑت کہا ہے۔
دورانِ نماز حضرت علی r کے بدن سے تیر نکالنے والا مشہور قصہ، بے اصل ہے۔
حضرت عکاشہ r کی مشہور حکایت ہے، بالکل غلط ہے۔
روایت: ”جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا“، آپ ﷺ سے ان الفاظ سے ثابت نہیں، البتہ اس کا معنی صحیح ہے۔