التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

”حضرت حوا ؑ کی قبر جدہ میں ہے“، یہ کسی نے گھڑ لیا ہے۔

تفصیل

فرمایا : حضرت حوا ؑ  کی قبر مکہ میں، پہاڑ ”ابو قبیس“ کے پاس ہے، جدہ میں نہیں، جدہ اصل عربی میں ”جدی“ ہے: {طریق واسع في الجبل}. پہاڑ میں کشادہ راستہ کو کہتے ہیں، اس سے بعض نے یہ گھڑ لیا کہ حضرت حوا ؑ کی قبر جدہ میں ہے۔  (عربی  ”جدہ “ کے معنی ہیں ”وادی“، اس لئے لوگوں نے اس سے یہ سمجھا)[1]۔

حوالہ جات

[1] ملفوظات حکیم الامت :حضرت حوا ؑ   کی قبر پہاڑا ابو قبیس کے پاس ہے ،  ۲۶/۲۲۹، ادارہ  تالیفات اشرفیہ،ملتان ۔

حافظ ابو جعفر ابن جریر طبری ؒ  کی ” تاريخ الرسل والملوك“ (۱/۱۶۱)میں موجود ایک روایت کے مطابق حضرت حوا  ؑ  کی قبر جبل ابو قبیس میں حضرت آدم کے ساتھ ہے، اور علامہ شہاب  الدین احمدخفاجی ؒ (المتوفی:۱۰۶۹ھ)نے ”شفاء الغليل“(ص:۶۹) میں حضرت حوا  ؑ   کی قبر کے ”جدہ“ میں ہونے کو بے اصل کہا ہے۔