طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب
روایت: ”جنت میں ایک جنت ہے، اس میں نہ حور ہیں اور نہ قصور، صرف یہ ہے: {رب أرني أرني}. اے رب! مجھے دیدار کرائیں، مجھے دیدار کرائیں“، یہ غلط ہے۔
تفصیل
”فرمایا : بعض صوفیا ء اس کے قائل ہیں کہ جنت میں ایک جنت ہے، اس میں نہ حور ہیں اور نہ قصور، صرف یہ ہے: {رب أرني أرني}. فرمایا: یہ غلط ہے، اگر کشف ہے تو بھی غلط ہے، نصوص کے خلاف ہے۔۔۔“[1]۔
ایک دوسرے انداز سے
ملتی جلتی احادیث
کتاب ”وفات نامہ “ میں بھی بعض روایتیں بالکل غلط ہیں۔
غلط روایتوں کو بیان کر نا ایجاد فی الدین ہے۔
من گھڑت باتیں شریعت کے کسی فائدہ کے لئے بھی بیان کرنا بالکل غلط ہے۔
روایت: ”میں نے اپنے رب کو مدینہ کی گلیوں میں پھرتے دیکھا “ ( معاذ اللہ )۔
یہ گھڑی ہوئی حدیث ہے۔
حضرت عکاشہ r کی مشہور حکایت ہے، بالکل غلط ہے۔