’’ارواحِ مؤمنین ہر جمعہ کی شب کو اپنے اہل وعیال میں آتی ہیں‘‘، یہ کہیں ثابت نہیں ہے،یہ روایات واہیہ ہیں، اس پر ہرگز عقیدہ نہیں رکھنا چاہیئے۔
تفصیل
’’سوال: ارواحِ مؤمنین ہر جمعہ کی شب کو اپنے اہل وعیال میں آتی ہیں یہ صحیح ہے یا نہیں؟ اس طرح کا عقیدہ رکھنا درست ہے یا نہیں؟
جواب: ارواحِ مؤمنین کا شبِ جمعہ وغیرہ کو اپنے گھر آنا کہیں ثابت نہیں ہوا، یہ روایاتِ واہیہ ہیں، اس پر عقیدہ کرنا ہر گز نہیں چاہیئے، فقط واللہ تعالیٰ اعلم، کتبہ الراجی رحمۃ ربہ رشید احمد گنگوہی‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] تالیفات رشیدیہ : مؤمنین کی روحوں کا شب جمعہ اپنے گھر آنا، ص: ۲۳۳، ادارہ اسلامیات لاہور ۔
[2] تالیفات رشیدیہ : مردہ کی روح کا شب جمعہ گھر آنا، ص: ۲۳۴، ادارہ اسلامیات لاہور ۔
شیخ ابو الحسن ہکَّاری (المتوفی ۴۸۵ ھ)نےاپنی کتاب ’’ہدیہ الاحیاء للاموات‘‘ (مخطوط،ص:۶)میں متعلقہ سوال پر مشتمل روایت ان لفظوں سے تخریج کی ہے:
{أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن الحسين بن موسى السلمي كتابة، قال: ثنا أبو القاسم عبد الله بن محمد النيسابوري، عن علي بن موسى البصري، عن ابن جريج، عن موسى بن وردان، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أهدوا لموتاكم، قلنا: وما نهدي يا رسول الله! إلى الموتى؟ قال: الصدقة والدعاء، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
إن أرواح المؤمنين يأتون كل جمعة إلى سماء الدنيا فيقفون بحذاء دورهم وبيوتهم، فينادي كل واحد منهم بصوت حزين: يا أهلي وولدي وأهل بيتي وقراباتي! اعطفوا علينا بشيء، رحمكم الله، واذكرونا ولا تنسونا، وارحموا غربتنا وقلة حيلتنا وما نحن فيه، فإنا قد بقينا في سحيق وثيق، وغم طويل، ووهن شديد، فارحمونا رحمكم الله، ولا تبخلوا علينا بدعاء أو صدقة أو تسبيح، لعل الله يرحنا قبل أن تكونوا أمثالنا، فيا حسرتاه! وانداماه! يا عباد الله! اسمعوا كلامنا، ولا تنسونا، فأنتم تعلمون أن هذه الفضول التي في أيديكم كانت في أيدينا، وكنا لم ننفق في طاعة الله، ومنعناها عن الحق فصار وبالا علينا ومنفعته لغيرنا، والحساب والعقاب علينا، قال: فينادي كل واحد منهم ألف مرة من الرجال والنساء، اعطفوا علينا بدرهم أو رغيف أو كسرة.
قال: فبكى رسول الله صلى الله عليه وسلم وبكينا معه، فلم نستطع أن نتكلم ثم قال: أولئك إخوانكم كانوا في نعيم الدنيا، فصاروا رميما بعد النعيم والسرور، قال: ثم يبكون وينادون بالويل والثبور والنفير على أنفسهم، يقولون: يا وليتنا! لو أنفقنا ما كان في أيدينا ما احتجنا [.. ..] فيرجعون بحسرة وندامة، فينادون: ما أسرع ما تبكون أنتم على أنفسكم! ثم لم ينفعكم فبادروا قبل أن تلحقوا بنا، فتكونوا أمثالنا، وقد نصحنا لكم، مهلا مهلا، ثم ينادون بأجمعهم إن كنا أيسنا من أهالينا فإن الرحمن يذكرنا [.. ..] هو يرحمنا، فإن رحمته وسعت كل شيء.
فقالوا: يا نبي الله! صف لنا الصدقة للأموات؟ فقال: إنك لتصدق عن ميتك بصدقة فيجيئه ملك من الملائكة بطبق من نور فيجعلها على الطبق ولها نور ساطع في سبع سماوات، فيقوم على شفير قبره فينادي: السلام عليك يا صاحب القبر الغريب! إن أهلك أهدوا إليك بهدية فاقبلها، قال: فيدخل الله في قبره وينور له في قبره، ويوسع عليه بها، من أعطى صدقة لميت فله عند الله من الثواب، مثل جبل أحد، ومثل جبل [..] وهو في ظل عرش الله يوم لا ظل إلا ظله، ولا حساب عليه، فتصدقوا رحمكم الله على موتاكم، فانتم تنجون يوم القيامة من عذاب الله وتفرحون في جنة الله}. (هدية الأحياء للأموات وما يصل إليهم من النفع والثواب على ممر الأوقات: المخطوطة، أصل هذه النسخة في مكتبة شهيد علي باشا بتركيا).
واضح رہے کہ صاحبِ کتاب ابو
الحسن ہکَّاری، نُقَّاد محدثین کے
نزدیک شدید مجروح ہے،چنانچہ حافظ ابن
نجار l’’ذیل تاریخ بغداد‘‘ (ص:۳/
۱۷۳)میں لکھتےہیں: ’’ابو الحسن ہَکَّاری کی روایات میں
غرائب اور منکرات غالب ہیں،اور اس کی حدیث اہلِ صدق کی احادیث کی طرح نہیں ہے، ان
سے منقول احادیث کے الفاظ من گھڑت ہیں، جنہیں
صحیح سندوں کے ساتھ چسپاں کیا گیا ہے، (ابن نجار l فرماتے
ہیں) میں نے اصبہان کے بعض محدثین کی تحریرات میں دیکھاکہ یہ(ابو الحسن) حدیثیں
گھڑتا ہے‘‘۔
حافظ ذہبی l ’’تاریخ الاسلام‘‘ (۲۹ /۲۹۷) میں فرماتے ہیں: ’’ابن نجارl کاکہناہے۔۔۔ ابو الحسن ہَکَّاری نے ابو بکر دِیْنَوَرِی سے حضرت سلمان فارسی r کی طرف منسوب کر کےچالیس روایا ت ذکر کی ہیں۔میں (یعنی حافظ ذہبیl) کہتا ہوں کہ یہ روایات من گھڑت ہیں‘‘۔
[3] باقیات فتاویٰ رشیدیہ : مردوں کی روحیں گھروں پر نہیں آتیں، ص: ۴۳۵، دار الکتاب لاہور ۔
ملتی جلتی احادیث
1 رسول اللہﷺ کا حضرت بلال r کو بعوض حسنین q خریدنا محض غلط ہے، ایسی باتیں بے اصل، بیان کرنے والامستحق وعظ گوئی نہیں۔
2 ابوہریرہ r کا نکاح بعد وفات رسول اللہﷺ ہوا ہے، پہلے نہیں ہوا، آپ ﷺ کی خدمت میں اس نکاح کے کھانے کا پہنچنا لا اصل ہے۔
3 آنحضرت ﷺ کا شب معراج میں حور کے نور کو سجدہ کرنا بالکل افتراء ہے، قرآن شریف کے بالکل مخالف ہے: {ماكذب الفؤاد مارأى} [جھوٹ نہیں کہا رسول( اللہ ﷺ) کے دل نے جو دیکھا] صاف بیان ہے کہ آپ کو کسی قسم کی غلطی نہیں ہوئی، ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے، سخت زندیق ہے۔
3 شب برات کو تین غسل کرنا، یا حلوا وغیرہ کا پکانا شریعت سے ثابت نہیں، یہ باتیں محض لا اصل ہیں۔
’’میت کی بخشش کے لئے ایک لاکھ یا ستر ہزار مرتبہ کلمۂ طیبہ پڑھنے سے میت کی بخشش‘‘، یہ حدیث کتبِ صحاح ستہ، ’’مشکوٰۃ شریف‘‘ و’’دارمی شریف‘‘ و’’ مؤطا امام محمد‘‘ میں کہ ہندوستان میں کتبِ مشہور ہیں، کہیں موجود نہیں، اور حالِ صحت وغیرِ صحت بدون سند کے معتبر نہیں۔
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔
’’حضرت علی r کی اجازت کے بغیر کوئی صراط پر سے نہ گزرے گا، نیز قبرمیں سب سے حضرت علی r کی امامت کا سوال کیا جائےگا‘‘، یہ روافض کی روایات ہیں۔