التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

1 ’’بایزید بسطامی l کاباری تعالیٰ کے اختیار دینے پر مختلف چیزیں مانگنا اور باری تعالی کا انھیں دینے سے عاجز ہونا‘‘[معاذاللہ]۔

2 ’’عثمان ہارونی l کاباری تعالیٰ سے روٹھ کر کافر،پھر آپ ﷺ کے منانے پر مسلمان ہونا‘‘ [معاذاللہ]۔

3 ’’حضرت حسین r کے دونوں پاؤں کے نیچے تلووں میں قرآن مجید لکھا ہوا تھا‘‘ [معاذاللہ]۔

4 ’’کلمہ توحید میں دو چیزیں کفر ہیں۔۔۔‘‘ [معاذاللہ]۔

5 ’’بت خانے میں باری تعالی کا خاص بندہ‘‘ [معاذاللہ]۔

6 ’’ایک چور کی حکایت‘‘۔

7 ’’سید عبد القادر l کا اوپر کے ہاتھ سے آسمان اور عصا سے زمین کو تھامنا‘‘ [معاذاللہ]۔

اس وعظ کہنے والے شخص کے کفر میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں، اس کا تمام وعظ سرا سر جہالت اور گمراہی ہے۔

تفصیل

’’سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے اسلام اس شخص کے حق میں جو علی الاعلان اپنے وعظوں میں مندرجہ ذیل مضامین بیان کرتا ہے، اور اپنے کلام کی کچھ تاویل نہیں کرتا، اور درصورتِ استفتاء [سوال ]کے غصہ کرتا ہے، لوگوں کو مرید کرتا ہے، اس کے مریدوں کا بھی یہی حال ہے، اس کے اقوال یہ ہیں:

1 بعضے وقت صوفی کا علم خدا کے علم پر بھی غالب آجاتا ہے، مولانا روم l  فرماتے ہیں:

علم حق با علم صوفی گم شود      

ایں سخن کے باورِ مردم شود

اس کی یہ مثال ہے کہ حضرت بایزید بسطامی l  کے پاس ایک ٹوپی تھی، اس پر  ’’یا محمد‘‘لکھا ہوا تھا، خدائے عاشق کو اپنے معشوق کے نام کی ٹوپی پسند آگئی، کہا اے بایزید! یہ ٹوپی ہم کو دیدے اور اس کے عوض جو چاہے ہم سے مانگ لے! بایزید نے کہا تیرے پاس کیا رکھا ہے، جو مانگوں ؟ خدا تعالیٰ نے اصرار کیا کہ مانگ ! بایزید نے رسالت مانگی، خدا نے فرمایا: وہ محمد ﷺ پر ختم ہوگئی، بایزید : صدیقیت دیدے، خدا : وہ حضرت ابوبکر r پر ختم ہوگئی، بایزید: سخاوت، خدا : عثمانr  پر ختم ہوئی، بایزید : شجاعت، خدا : علی r  پر ختم ہوئی، بایزید : شہادت، خدا : امام حسین r  پر ختم ہوئی، کرامت، خدا : پیرانِ پیر پر ختم ہوچکی۔

بایزید نے کہا کہ میں اول ہی کہہ چکا تھا کہ تیرے پاس کچھ نہیں رہا، اب صرف دوزخ اور جنت باقی ہے، خدا تعالیٰ نے کہا کہ ان میں سے ہی کچھ مانگ ! کہا تو وہ بھی نہ دے گا، خدا نے کہا کہ میں ضرور دوں گا، بایزید نے دوزخ مانگی، کہاکہ وہ تو میرے دشمنوں کی جگہ ہے، کہا کہ میں تو وہی لوں گا، کہا اچھا دیا، بایزید نے کہا کہ میں دوزخ کے در پر لاٹھی لیکر بیٹھوں گا، جو اس میں آوے گا اس کی ٹانگ توڑ دوں گا اور اندر نہیں جانے دوں گا، فرمایا ایسا نہیں ہوسکتا، پھر میں دوزخیوں کو کہاں رکھوں گا، کہا بس !تو یہ بھی نہ دے سکا۔

 اگر تیرے سوا کوئی اور شخص وعدہ خلافی کرتا تو میں اس کے منافق ہونے کا فتوی دیتا، خدا تعالیٰ نے فرمایا: اگر تو ایسی گستاخی کرے گا، تو میں اپنے بندوں کو مطلع کردوں گا کہ وہ تیرے ٹکڑے ٹکڑے کر دیویں گے، بایزید نے کہا کہ میں تیرے بندوں کو گمراہ کردوں گا، وہ تجھ کو کبھی سجدہ نہ کریں گے، پوچھا کس طرح؟ کہا میں ان کو کہہ دوں گاکہ دنیا میں ایک رحمت کا یہ ظہور ہے کہ کسی نافرمان کا نہ رزق بند کیا جاتا ہے، نہ پردہ فاش، قیامت کو ننانوے رحمتوں کا ظہور ہوگا تو کیوں کر کوئی شخص دوزخ میں جاوے گا؟ حق تعالیٰ لا جواب ہوگیا اور کہا اے بایزید! خاموش ہوجا، نہ میں کسی سے کہوں نہ تو کسی سے کہہ، شعر مذکور کے یہی معنی ہیں ۔

2 ایک مال دار عورت نے حضرت عثمان ہارونی  l سے کہا کہ میں بے اولاد ہوں مجھ کو اولاد ملے[اصل میں اسی طرح ہے]، آپ نے دعاء کی، خداتعالیٰ کی طرف سے جواب ملا کہ اس کی قسمت میں اولاد نہیں ہے، آپ نے لوح محفوظ، عرش، کرسی وغیرہ پر دیکھا کہ کسی جگہ اس عورت کی قسمت میں اولاد لکھی ہوئی نہیں تھی، آپ نے عورت کو جواب دے دیا، عورت پیرانِ پیر کے پاس گئی، آپ نے دعاء کی تو وہی جواب آپ کو ملا، آپ نے اصرار کیا، ادھر سے انکار ہوتا رہا، آخر کار آپ نے فرمایا کہ میں نے ایک بیٹا دیا، حق تعالیٰ نے فرمایا: کہ خاموش! کہا دودیئے، کہا خاموش! کہا کہ میں نے تین دیئے، غرض حق تعالیٰ آپ کو روکتا رہا، آپ بڑھتے رہے، یہاں تک کہ میں نے سات بیٹے دیئے۔

 خداتعالیٰ نے فرمایا کہ بس کرو، اس قدر بہت ہیں، اس عورت کے اول لڑکی پیدا ہوئی، آپ نے وہ لڑکا بنادیا، پھر چھ لڑکے پیدا ہوئے، پورے سات ہوگئے، عورت نے جاکر حضرت عثمان ہارونی  l سے یہ قصہ بیان کیا، انہوں نے کہا کہ خدا کیا ہے؟ بڑا ہی دغاباز ہے[معاذاللہ]، مجھ سے کہاکہ اس کی قسمت میں اولاد نہیں ہے، پھر سید عبد القادر l کے کہنے سے اتنی اولاد دے دی، اسی وقت زُنَّار[وہ تاگاجو ہندو گلے اوربغل کے درمیان ڈالے رہتے ہیں] پہن کر بت خانے میں جابیٹھے، چھ ماہ تک بت خانہ کی گھنٹی بجاتے رہے، سب مرید بھاگ گئے، صرف حضرت خواجہ معین الدین چشتی باقی رہےکہ پیر کافر ہے تو میں بھی کافر ہوں، بعد مدت خداتعالیٰ نے حضرت سرورِ عالم (ﷺ ) ان کے پاس بھیجے کہ سمجھا کر لاؤ، حضرت (ﷺ) نے سمجھایا کہ حضرت پیرانِ پیر کی زبان پر وہ سات بیٹے لکھے ہوئے تھے، وہاں آپ نے نہیں دیکھا تھا، یہ خود تمہاری غلطی ہے۔

حضرت عثمان ہارونی  l مسلمان ہو کر بت خانے سے نکلے، خواجہ معین الدین l   کی پشت، آں حضرت ﷺ کی طرف تھی، حضرت عثمان نے فرمایا کہ پشت ادھر مت کرو، انہوں نے کچھ پرواہ نہ کی، آپ نے مکر رسِہ کَرَّ رمنع کیا، تو خواجہ معین الدین چشتی  l نے جواب دیا کہ میرے پاس تو ایک ایمان تھا وہ آپ کو دے چکا، اب دوسرے کی طرف کس طرح سے توجہ کروں، خواجہ عثمان اس پر بہت خوش ہوئے اور ان کو خلافت عطا کردی۔

3 امام حسین r کے پاس کچھ الواح تھی[اصل میں اسی طرح ہے]، ان پر قرآن مجید لکھا ہوا تھا، آپ ان پر اپنے پاؤں رکھ کر کھڑے ہوگئے، حضرت جبریل e نے کہا کہ صاحب زادے! قرآن شریف کا ادب کرو، سرورِ عالم (ﷺ) نے جبریل (e) کو ڈانٹا کہ خبردار! قرآن پر قرآن رکھ دیا، تو کیاحرج ہے، پھر صاحب زادے کو ارشاد فرمایا کہ آپ انہیں اپنے پاؤں دکھلایئے، تو دونوں پاؤں کے نیچے تلووں میں قرآن مجید لکھا ہوا تھا۔

4 کلمہ توحید میں دو چیزیں کفر ہیں، اگر کوئی شخص یہ سمجھے کہ پیغمبر خدا(ﷺ) خدا ہے، تو یہ کفر ہے اور جوجانے کہ آپ غیر خدا ہیں، یہ بھی کفر ہے۔

5 ایک بار جبریل e نے عرض کیا کہ خداوندا ! مجھ کو اپنا خاص بندہ دکھادے، فرمایا فلاں بت خانے میں جا، آپ گئے دیکھا کہ ایک شخص بت کے اعضاء پر ہاتھ رکھ کر کہتا تھا، خدایا یہ تیرا ناک ہے، یہ تیرا منھ ہے، یہ تیری آنکھیں ہیں، بت سے باہر آواز آتی تھی، ’’لیبك عبدی‘‘ (اے میرے بندے میں حاضر ہوں) حضرت جبریل لاحول پڑھ کر بھاگے، خداتعالیٰ نے فرمایا کہ اے جبریل! تو نے اس کے ظاہر کو دیکھا، وہ تو خاص ہم کو پکارتا تھا، ہم ہی جواب دیتے تھے۔

6 خداتعالیٰ ہم کو ہرگز عذاب نہ کرےگا، کیونکہ وہ ہم کو رزق دیتا ہے، پالتا ہے، دیکھو لکڑکو پانی ڈبوتا نہیں ہے، اس واسطے کہ اس کا پَرْوَرْدَہ[پلا ہوا] ہے، ایک چور لوگوں کو دھوکہ دے کر اپنے گھر لے جاتا تھا اور وہاں لے جاکرقتل کردیتا تھا، اس کا اسباب چھین لیتا تھا، ایک شخص کو لے گیا، اس کو کچھ ضرورت پیش آگئی، مسافر کو چھوڑ کر باہر گیا، اس کی بیوی صالحہ تھی، اس نے کہا کہ میاں مسافر تم کہاں پھنس گئے؟ یہ ظالم تم کو مارڈالے گا، مسافر نے کہا میں بھوکا ہوں، کچھ کھلاؤ، عورت نے دو روٹیاں دے دیں، اس نے ایک کھائی، ایک باقی تھی، اتنے میں چور آگیا، کہا تجھ کو یہ روٹی کس نے دی، کہا تمہاری بیوی نے، کہا چلاجا تونے میری روٹی کھائی ہے، اب میں تجھ کو نہیں مارتا۔

7 خواجہ معین الدین چشتی l  نے سید عبد القادر l  سے کہاکہ ہم کو سماع کی ضرورت ہے، آپ نے فرمایا کہ قوال نہیں ہے، مگر ایک لڑکا قوال کا ہے، وہ بلایا گیا، اس نے کہا کہ مجھ کو گانا نہیں آتا، آپ نے اس کے باپ کی قبر پوچھی، وہ قبر پر لے گیا، (خواجہ صاحب نے) قم بإذنی! (یعنی  میرے حکم سے اٹھ جا!) کہہ کر اس کو قبر سے باہر نکالا، وہ مع ساز اور باجے کے گاتا بجاتا ہوا قبر سے نکلا، دونوں صاحبوں نے راگ سنا اور وجد کیا، اس وقت پیرانِ پیر اس طرح کھڑے تھےکہ ایک ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیا اور عصا مبارک زمین پر کھڑا کر کے زیر زَنَخ [اصل میں اسی طرح ہے،بظاہر بمعنی ٹھوڑی ہے]دبایا ہوا تھا، کسی نے سبب پوچھا، فرمایا کہ میں نے اوپر کے ہاتھ سے آسمان اور عصا سے زمین کو تھا ماتھا، اگر میں ان کو نہ تھامتا تو آسمان ٹوٹ پڑتا اور زمین پارہ پارہ ہوجاتی۔

الغرض اس کا کچھ وعظ اسی قسم کا ہوتا تھا، ان میں سے بخوفِ طوالت ان چند اقوال پر اکتفا کی جاتی ہے، بہت سادہ لوح مسلمان اس کو عارف باللہ سمجھ کر اس کے مرید ہوگئے، اور اس کے طریقے کو طریق حق جانتے ہیں، اب علمائے ربانی سے سوال یہ ہے کہ :

1 روایات صحیح ہیں یا نہیں ؟ 2 اگر صحیح ہیں، تو ان کا کیا مطلب ہے؟ 3 جس کی ایسی گفتگو ہو، تو وہ عارف باللہ اور شیخ کامل ہوسکتا ہے، یا نہیں؟   
4 اس کی بیعت رَوَا [جائز]ہے، یا نارَوَا ؟ کیا مرید کو ایسا ہی کرنا چاہئے، جیسا کہ خواجہ معین الدین کی طرف منسوب ہوا ہے 5 اس کے مرید جو ایسا عقیدہ رکھیں، جو اس کو عارف باللہ اور شیخ برحق جانیں کیسے ہیں؟ ان کی امامت درست اور ان کا ذبیحہ حلال ہے، یا نہیں؟ اور ان کو اس کی بیعت پر قائم رہنا چاہئے، یا نہیں؟  6 اس کا وعظ سننا جائز ہے، یا نہیں ؟ بینوا توجروا.

جواب: {قال الله تعالى: وما قدروا الله حق قدره والأرض جميعا قبضته يوم القيامة}.

یعنی اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی، اس کے بندوں نے قدر نہیں جانی، اس کی قدرت، اس کا علم، اس کے جلال وقہر وغضب، رافت ورحمت سے جہلا کو اور اس وقت کے بعض جاہل نام کے مولویوں کو خبر نہیں ہے، اللہ تعالیٰ جل جلالہ کے حکم کے سامنے، نہ کسی ولی کو یارائے دم زَدَن ہے[سانس لینا]، نہ نبی کو:  {مايفتح الله للناس من رحمة فلا ممسك لها ومايمسك فلا مرسل له من بعده وهو العزيز الحكيم}.  جب کسی پر حق تعالیٰ انعام کرنا چاہتا ہے، تو کوئی روک نہیں سکتا اور جب کوئی شئے کسی سے روک لیں، توکوئی اس کو دے نہیں سکتا، مشرکین عرب بھی اپنے آلۂ باطلہ کے سامنے، اللہ پاک جل جلالہ کو عاجز ومجبور نہیں جانتے تھے، اس وقت کے مسلمانوں نے نعوذباللہ، اللہ پاک جل جلالہ کو اس کے بندوں کے سامنے (اپنے دعوی مسلمان پر) عاجز ومجبور ٹھہرا دیا۔

یہ شخص جس کا ذکر سوال میں ہے، اس کے کفر میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں، اس کا یہ تمام وعظ جو سرا سر جہالت اور ضلال [گمراہی]ہے، احادیثِ صحیحہ صریحہ اور نصوص قطعیہ کے سراسر خلاف ہے، چونکہ یہ امر بالکل ظاہر وبد یہی ہے، اس لئے اس مضمون کے اثبات کے واسطے، نہ نقل آیات کی ضرورت ہے نہ بسط ِ روایات کی، پس ایسے شخص سے بیعت ہونا، یا اس کے وعظ ودرس میں شریک ہونا، یا اس کا کلام سننا، یا اس سے ملنا اور محبت کرنا، یا اس کا ذبیحہ کھانا، یا اس کی کسی ایسی تالیف وتصنیف کو دیکھنا، یا اس کے پیچھے نماز پڑھنا، کسی طرح اور کسی حال میں درست نہیں ہے، اور اگر بیعت کرلی ہو تو فسخ کرنا واجب ہے، فقط واللہ تعالیٰ اعلم!‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1] باقیات فتاوی  رشیدیہ :اولیائے کرام حق تعالیٰ کے سامنے بے بس اور مجبور محض ہیں، ص: ۴۲ - ۴۵، دار الکتاب  لاہور ۔ 

ملتی جلتی احادیث