روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’حجوا الفرائض، فإنها أعظم أجرا من عشرين غزوة في سبيل الله، وإن الصلاة علي تعدل ذا كله‘‘. فرض حج ادا کرو، وہ بیس مرتبہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے سے بڑھا ہوا ہے، اور بلاشبہ مجھ پر درود پڑھنا اس تمام کے برابر ہے‘‘۔
حکم: شدید ضعیف ہے، بیان نہیں کرسکتے۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] الغرائب الملتقطة من مسند الفردوس:۴/1۲۸،رقم:۱۳۴۶،ت:إيروان سفيان،جمعية دار البر ـ دبئي،الطبعة الأولى1439هـ .
[2] القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع:ص:274،رقم:28،ت:محمد عوامة،دار اليسر ـ المدينة المنورة،الطبعة الثالثة1432هـ .
[3] الدر المنضود في الصلاة والسلام على صاحب المقام المحمود:ص:174،ت:بو جمعة عبد القادر مكري ومحمد شادي مصطفى عربش،دار المنهاج ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴26هـ .
[4] امام بخاری l نے ’’التاريخ الصغير‘‘میں یعلی بن اشدق کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال 1۶1 ھ سے 1۷۰ھ کے درمیان ہوا ہے۔ (التاريخ الصغير:2/۱۳۹،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ) .
[5] انظرالجرح والتعدیل:9/303،رقم:1305،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[6] انظرالجرح والتعدیل:9/303،رقم:1305،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[7] انظرتاريخ دمشق:74/184،رقم:10154،ت:محب الدين أبو سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة1421هـ .
[8] التاريخ الصغير:2/۱۶۵،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[9] الجرح والتعدیل:9/303،رقم:1305،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[10] الجرح والتعدیل:9/303،رقم:1305،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[11] انظرتاريخ دمشق:74/184،رقم:10154،ت:محب الدين أبو سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة1421هـ .
[12] المجروحين :۳/۱۴۲،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[13] الكامل في ضعفاء:۹/۱۸۴،رقم:۲۱۸۶،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[14] الكامل في ضعفاء:۹/۱۸۵،رقم:۲۱۸۶،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[15] الكامل في ضعفاء:۹/۱۸۵،رقم:۲۱۸۶،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
حافظ ابن عدی l کی مکمل عبارت ملاحظہ ہو: ’’ويعلى هذا قد روي عنه غير من ذكرته، عن عمه عبد الله بن جَرَاد عن النبي صلى الله عليه وسلم أحاديث إلا أن نسخته التي يقولها عن عمه، لم أجدها إلا من رواية ابن وهب وهاشم بن القاسم وأيوب الوَزَّان عن يعلى، عن عمه، وهذه الأحاديث عامتها مناكير غير محفوظة، وما أظن أن لعمه صحبة، وذاك أن عمه يروي عن جماعة من الصحابة، وقد ذكرت بعد ذاك رواية عن أبي ذر، وعن أبي هريرة، وهذا مما يدل على أن لا صحبة له، وبلغني عن أبي مُسْهِر أنه قال: قلت ليعلى بن الأشدق: ما سمع عمك من رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال: جامع سفيان، وموطأ مالك، وشيئا من الفوائد، فان كانت الحكاية عن أبي مُسْهِر صحيحة، فرواية يعلى لهذه النسخة لا يجوز الاشتغال بها‘‘.
[16] الضعفاء والمتروکون:ص:405،رقم:605،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
حافظ ابو بکر برقانی l فرماتے ہیں: امام دار قطنی l ان اوراق (یعنی اس کتاب ) میں حروف معجم کی ترتیب پر اُن راویوں کو لے کر آئے ہیں جن کا ’’متروک‘‘ ہونا ہمارے اور امام دار قطنی l کے درمیان قرار پا یا ہے، حافظ ابو بکر برقانی l کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’قال أبو بكر أحمد بن محمد بن غالب الخوارزمي البرقاني: طالت محاورتي مع أبي منصور إبراهيم بن الحسين بن حمكان، لأبي الحسن علي بن عمر الدارقطني عفا الله عني وعنهما في المتروكين من أصحاب الحديث، فتقرر بيننا وبينه على ترك من أثبته على حروف المعجم في هذه الورقات‘‘. (الضعفاء والمتروکون: ص:95،ت: موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ) .
[17] الاستيعاب في معرفة الأصحاب:3/880،رقم:1487،ت:علي محمد البجاوي،دار الجيل ـ بيروت،الطبعة الأولى1412هـ .
[18] ذخيرة الحفاظ:1/261،رقم:163،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .
[19] ذخيرة الحفاظ:3/1684،رقم:3786،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .
[20] التحقيق فی أحاديث الخلاف:2/77،رقم:1068،ت:مسعد عبد الحميد محمد السعدني،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .
[21] سير أعلام النبلاء:۸/۲۷۲،رقم:65،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1403 هـ .
[22] تاريخ الإسلام:2/726،رقم:114،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۴هـ .
[23] تاريخ الإسلام:۴/۱۰۱۰،رقم:۴۲۱،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۴هـ .
[24] ميزان الاعتدال:2/400،رقم:4242،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[25] مجمع الزوائد:۳/۲۰۹،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[26] الإصابة في تمييز الصحابة:1/۴۱۱،رقم:617،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .
[27] الإصابة في تمييز الصحابة:1/۵۷۷،رقم:۱۱۲۲،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .
[28] الإصابة في تمييز الصحابة:۶/۳۱۱،رقم:۸۶۶۰،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .
[29] الدراية في تخريج أحاديث الهداية:۱/۲۷۶،رقم:362،ت:عبد الله هاشم اليماني،دار المعرفة ـ بيروت .
[30] نتائج الأفكار:۵/۱۰۲،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،دار ابن كثير ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .
[31] تنزيه الشريعة:۱/129،رقم:۶2،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من حج حجة الإسلام، وغزا بعدها غزوة كتبت غزاته بأربع مائة حجة، قال: فانكسرت قلوب قوم لا يقدرون على الجهاد، ولا الحج، قال: فأوحى الله عز وجل إلي: ما صلى عليك أحد إلا كتبت صلاته بأربع مائة غزاة، كل غزاة بأربع مائة حجة‘‘. جو شخص حج اسلام کرلے اور اس کے بعد جہاد کرے، تو اس کا جہاد چار سو حج کے ساتھ لکھا جائے گا، علی r فرماتے ہیں: ان لوگوں کے دل ٹوٹ گئے جو جہاد کی طاقت نہیں رکھتے تھے، اور نہ ہی حج کی، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر اللہ عزوجل نے مجھ پر وحی نازل فرمائی: جو آپ پر درود پڑھے گا، اس کا درود چار سو جہاد کے ساتھ لکھا جائے گا، ہر جہاد چار سو حج کے ساتھ‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’الدعاء سلاح المؤمن، وعماد الدين، ونور السماوات والأرض‘‘. دعا مؤمن کا ہتھیار، دین کا ستون اور آسمان وزمین کا نور ہے‘‘۔
روایت: ’’حضرت ابو بکر صدیق r کی رفاقت حضور اقدس ﷺ کےساتھ شام کے سفر میں ہوئی تھی، جب ان کی عمر اٹھارہ سال کی تھی، اور حضور ﷺ کی عمر شریف بیس سال کی تھی، اس سفر میں راستہ میں ایک بیری کے درخت کے پاس ان دونوں حضرات کا قیام ہوا، وہاں ایک راہب تھا، حضرت ابو بکر r اس سے ملنے تشریف لے گئے، اور حضور ﷺ درخت کے سایہ میں تشریف فرما رہے، اس راہب نے حضرت ابو بکر r سے پوچھا کہ یہ شخص جو درخت کے نیچے ہے کون ہے؟ آپ نے فرمایا: محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب، راہب نے کہا: خدا کی قسم! یہ نبی ہیں، حضرت عیسی علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کے بعد سے اس درخت کے نیچے کوئی نہیں بیٹھا، یہی نبی آخر الزماں ﷺہیں، جب حضور ﷺ کی عمر شریف چالیس سال کی ہوئی اور آپ کو نبوت ملی تو حضرت ابو بکر r مسلمان ہوئے‘‘۔
روایت: ایک حدیث میں آیا ہے:’’ حج اور عمرہ کا پورا پورا ادا کرنا یہ ہے کہ اپنے گھر سے حج کا یا عمرہ کا احرام باندھ کر چلے‘‘۔
روایت: ’’ آپ ﷺ نے چار دراہم کی ایک قمیص خرید کر اسے پہنا، اچانک ایک انصاری آدمی سامنے آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ!یہ قمیص مجھے دے دیں، اللہ تعالی آپ کو جنت کا لباس پہنائیں گے، آپ ﷺ نے قمیص اتار کر اسے دے دی، آپ ﷺ پھر دکان دار کے پاس گئے، اور اس سے چار دراہم کے بدلہ ایک قمیص خرید لی، آپ ﷺ کے پاس دو درہم باقی رہ گئے، راستہ میں ایک باندی ملی جو رو رہی تھی، آپ ﷺ نے وجہ پوچھی تو باندی نے کہا: میرے گھر والوں نے مجھے آٹا خریدنے کےلئے دو درہم دئے تھے، وہ دونوں ہلاک ہوگئے، سو نبی ﷺ نے بچے ہوئے دو درہم اسے دے دئے، پھر وہ روتے ہوئے پلٹی، آپ ﷺ نے فرمایا: اب کیوں رو رہی ہو؟ باندی نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے ماریں گے، آپ ﷺ اس کے ساتھ گھر گئے، آپ ﷺ نے سلام کیا تو انہوں نے آپ ﷺ کی آواز کو پہچان لیا، آپ ﷺ نے پھر سلام کیا، پھر سلام کیا، غرض یہ کہ آپ ﷺ نے تین دفعہ سلام کیا ،پھر انہوں نے جواب دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا آپ لوگوں نے پہلا سلام سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، لیکن ہم نے چاہا کہ آپ ہم پر سلام کی زیادتی کریں، ہمارے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کتنی بلند شخصیت ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ باندی ڈر رہی تھی کہ تم اسے مارو گے، باندی کے مالک نے کہا: آپ کے اس کے ساتھ چل کر آنے کی وجہ سے یہ اللہ کی رضا کےلئے آزاد ہے، چنانچہ اللہ کے نبی ﷺ نے انہیں خیر اور جنت کی خوشخبری دی، پھر فرمایا: اللہ تعالی نے دس میں برکت دے رکھی ہے، اللہ تعالی نے اپنے نبی کو بھی قمیص پہنائی، اور انصار کے ایک آدمی کو بھی قمیص پہنائی، اور ان کے ذریعہ سے اللہ تعالی نے ایک گردن کو آزاد کروایا، اور میں اللہ تعالی کی تعریف بیان کرتا ہوں، وہی ہے جس نے ہمیں اپنی قدرت سے عطا کیا‘‘۔