غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (تیرہواں حصہ)
40 احادیث ملیں
روایت: ایک حدیث میں آیا ہے:’’ حج اور عمرہ کا پورا پورا ادا کرنا یہ ہے کہ اپنے گھر سے حج کا یا عمرہ کا احرام باندھ کر چلے‘‘۔
روایت: جس دستر خوان پر سبزی ہو اس پر رحمت نازل ہوتی ہے۔
روایت: حدیث میں ہے: ’’من قرأ آية الكرسي عند منامه فتح الله عليه أبواب الرحمة إلى الصباح، وأعطاه بكل شعرة على جسده مدينة من نور، وإن مات من ليلته مات شهيدا‘‘. جو شخص سوتے وقت آیت الکرسی پڑھےگا تو اللہ تعالی اس کےلئے رحمت کے دروازے کھول دیں گے، اور اس کے جسم پر موجود ہر بال کے بدلہ اسے نور کا ایک شہر دیں گے، اور اگر وہ اس رات مرگیا تو شہید مرا۔
روایت: حدیث میں ہے: ’’جب بندہ لاالہ الااللہ کہتا ہے تو ایک فرشتہ اسے لےکر آسمان کی جانب روانہ ہوتا ہے، آسمان میں ایک دوسرا فرشتہ اس کے سامنے آتا ہے، یہ اسے کہتا ہے: کہاں سے آرہے ہو؟ وہ اس سے پوچھتا ہے کہ تم کہاں جارہے ہو؟ یہ فرشتہ کہتا ہے: میں بندہ کی شہادت اس کے پروردگار کے پاس لے جارہا ہوں، یہ دوسرا فرشتہ کہتا ہے: اور میں اس کی آگ سے خلاصی کو لےکر اتررہا ہوں‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ نے فرمایا: ’’الزارع يتاجر ربه‘‘.کھیتی کرنے والا اپنے رب کے ساتھ تجارت کرتا ہے‘‘۔
روایت: ’’ آپ ﷺ نے چار دراہم کی ایک قمیص خرید کر اسے پہنا، اچانک ایک انصاری آدمی سامنے آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ!یہ قمیص مجھے دے دیں، اللہ تعالی آپ کو جنت کا لباس پہنائیں گے، آپ ﷺ نے قمیص اتار کر اسے دے دی، آپ ﷺ پھر دکان دار کے پاس گئے، اور اس سے چار دراہم کے بدلہ ایک قمیص خرید لی، آپ ﷺ کے پاس دو درہم باقی رہ گئے، راستہ میں ایک باندی ملی جو رو رہی تھی، آپ ﷺ نے وجہ پوچھی تو باندی نے کہا: میرے گھر والوں نے مجھے آٹا خریدنے کےلئے دو درہم دئے تھے، وہ دونوں ہلاک ہوگئے، سو نبی ﷺ نے بچے ہوئے دو درہم اسے دے دئے، پھر وہ روتے ہوئے پلٹی، آپ ﷺ نے فرمایا: اب کیوں رو رہی ہو؟ باندی نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے ماریں گے، آپ ﷺ اس کے ساتھ گھر گئے، آپ ﷺ نے سلام کیا تو انہوں نے آپ ﷺ کی آواز کو پہچان لیا، آپ ﷺ نے پھر سلام کیا، پھر سلام کیا، غرض یہ کہ آپ ﷺ نے تین دفعہ سلام کیا ،پھر انہوں نے جواب دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا آپ لوگوں نے پہلا سلام سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، لیکن ہم نے چاہا کہ آپ ہم پر سلام کی زیادتی کریں، ہمارے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کتنی بلند شخصیت ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ باندی ڈر رہی تھی کہ تم اسے مارو گے، باندی کے مالک نے کہا: آپ کے اس کے ساتھ چل کر آنے کی وجہ سے یہ اللہ کی رضا کےلئے آزاد ہے، چنانچہ اللہ کے نبی ﷺ نے انہیں خیر اور جنت کی خوشخبری دی، پھر فرمایا: اللہ تعالی نے دس میں برکت دے رکھی ہے، اللہ تعالی نے اپنے نبی کو بھی قمیص پہنائی، اور انصار کے ایک آدمی کو بھی قمیص پہنائی، اور ان کے ذریعہ سے اللہ تعالی نے ایک گردن کو آزاد کروایا، اور میں اللہ تعالی کی تعریف بیان کرتا ہوں، وہی ہے جس نے ہمیں اپنی قدرت سے عطا کیا‘‘۔
روایت: ’’ إن الملائكة تحضر المائدة، إذا كان عليها بقل‘‘. بلا شبہ فرشتے دستر خوان پر آتے ہیں، جبکہ اس پر کوئی سبزی موجود ہو۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے آدم e پر دو خوبیوں کی وجہ سے فضیلت دی گئی ہے: میرا شیطان کافر تھا، پھر اللہ تعالی نے اس کے مقابلے میں میری مدد فرمائی، یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوگیا، اور میری بیویاں میری مددگار ہیں، اور آدم e کا شیطان کافر تھا ، اور ان کی زوجہ نے لغزش پر ان کا ساتھ دے دیا‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من حج إلى مكة، ثم قصدني في مسجدي كتبت له حجتان مبروتان‘‘. جو شخص حج کےلئے مکہ جائے پھر میرا قصد کرکے میری مسجد میں آئے، اس کےلئے دو مقبول حج لکھے جاتے ہیں‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’والله! إن تربتها ميمونة‘‘. اللہ کی قسم! بے شک اس کی مٹی میمونہ ہے‘‘، بعض مقام پر یہ الفاظ ہیں: ’’والله! إن تربتها مؤمنة‘‘. اللہ کی قسم! اس کی مٹی مؤمنہ ہے‘‘۔