روایت: ”شیخ اپنی قوم میں ایسا ہے جیسے نبی اپنی امت میں “، اس کا حدیث ہونا ثابت نہیں۔
تفصیل
”اس پر سوال کیا گیا کہ مرید کےلئے تو شیخ کی مخالفت بہت ہی شدید ہو گی، حدیث میں ہے: {الشیخ في قومه کالنبي في أمته}. [یعنی شیخ اپنی قوم میں ایسا ہے جیسے نبی اپنی امت میں] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرید کو شیخ کی مخالفت نبی کی مخالفت کا ساحکم رکھتی ہے، فرمایا: اس کا حدیث ہونا ثابت نہیں، اور اگر حدیث ہو بھی تو شیخ سے مراد بوڑھا ہے، کیونکہ اس زمانہ میں شیخ بمعنی پیر مستعمل نہ تھا۔۔۔“[1]۔
حوالہ جات
[1] ملفوظات حکیم الامت :حدیث :الشیخ فی قومہ موضوع ہے، ۲۰/۱۱۰،ادارہ تالیفات اشرفیہ،ملتان ۔
حافظ ابن حبان ؒ،حافظ ابن تیمیہ ؒ،حافظ ذہبی ؒ،حافظ عراقی ؒ،حافظ زرکشی ؒ،حافظ ابن حجرؒ،حافظ سخاوی ؒان سب نے اسے موضوع کہا ہے،دیکھئے: ”تنزيہ الشريعہ“(۱/۲۰۷)، ”اتحاف السادة المتقين“(۱/۷۴۴).
ملتی جلتی احادیث
روایت: ”باری تعالی ٰ فرماتے ہیں کہ میں ایک خزانہ تھا۔۔۔“۔
یہ نبی ﷺ کا کلام نہیں ہے، لیکن اس کا مضمون صحیح ہے۔
روایت: ”اے علی r!تمھارا گوشت میرا گوشت ہے، اور تمھارا خون میرا خون ہے “، یہ حدیث ثابت نہیں۔
”ستائس رجب کا روزہ، ثواب میں ہزار روزوں کے برابر ہے“، شریعت میں اس کی کوئی قوی اصل نہیں۔
” آپ ﷺ کا ردائے مبارک سو ٹکڑوں میں پھاڑ کر صحابہ رضی اللہ عنہم میں تقسیم کرنا“، یہ روایت ثابت نہیں ہے۔
روایت: ”چالیس دن مسلسل گوشت کھانے سے دل پر سختی آجاتی ہے “، یہ حدیث نہیں۔