التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

بزرگوں کی حکایات اکثر جہلاء نے غلط بنادی ہیں

تفصیل

’’سوال: یہ قصے مشہور ہیں کہ جس وقت حضرت بڑے پیر صاحب کو قبر میں دفن کیا، اور نکیرین آئے تو بڑے پیر صاحب نے نکیرین کا ہاتھ پکڑ لیا اور بجائے جواب دینے کے سوال کرنا شروع کئے، اور نکیرین کو اس کا جواب دینا غیر ممکن تھا، بمجبوری نکیرین نے جنابِ باری میں جاکر عرض کیا کہ الٰہی یہ کیا ماجرا ہے؟ جنابِ باری نے ارشاد فرمایا کہ بے شک تم اس کا جواب نہ دے سکو گے اور تمہارے واسطے خوب ہوا جو اس نے تمہیں چھوڑ دیا۔

اور دوسرا قصہ یہ مشہور ہے کہ ایک عورت بڑے پیر صاحب کی خدمت میں گئی، اور عرض کیا کہ میرے لڑکا نہیں ہوتا، بڑے پیر صاحب نے فرمایا کہ جاتیرے سات بیٹے ہوں گے، چنانچہ اس کے سات بیٹے ہوئے، حالانکہ اس کی تقدیر میں ایک لڑکا بھی نہیں تھا۔

اور تیسرا قصہ یہ مشہور ہے کہ ہر ماہِ نو [نیا مہینہ] قبل رؤیت[دکھائی دینے] کے، بڑے پیر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوتا اور یہ کہتا کہ مجھ میں اب کے اس قدر خدا صاحب نے نقصان رکھے ہیں، اور اس قدر نفع رکھے ہیں۔

اور چوتھا قصہ یہ مشہور ہے کہ ایک روز آپ ممبر پر بیٹھ کر وعظ فرماتے تھے، یکا یک کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ سب اولیاء کی گردن پر میرا قدم ہے، اور اس وقت جس قدر اولیاء جمع تھے سب نے پائے مبارک بڑے پیر صاحب کے اپنی گردن پر رکھ لئے اور حلقۂ اطاعت درگوش کیا، اور ایک ولی نے اس بات کا یقین نہیں کیا اور کچھ اس پر اعتراض کیا ان کا حال تباہ وبرباد ہوگیا۔

 اب استفسار طلب یہ امر ہے کہ آپ کے نزدیک یہ قصے صحیح ہیں یا غلط؟ اور جو علماء ایسے قصوں کو صحیح بتاتے ہیں ان کی کیا دلیل ہے؟اورجو علماء ان کو خلاف بتاتے ہیں ان کی کیا حجت ہے؟ اور حضرت مَخْدُوْمُنَا  ہَادِیْنَا حاجی محمد امداد اللہ صاحب مہاجر سلمہ اللہ تعالیٰ جو  ’’ضیاء القلوب ‘‘ صفحہ: ۱۹، قربِ نوافل میں ارشاد فرماتے ہیں کہ:

 ’’اماقرب نوافل انیست کہ صفات بشریہ سالک ازوے زائل گردد، وصفات حق تعالیٰ بروے ظاہر آیند، چنانچہ زندہ گرداند مردہ راو بمیراند زندہ را باذن اللہ تعالیٰ‘‘ [لیکن نوافل کا قرب یہ ہے کہ صفاتِ بشریہ سالک کے اس سے زائل ہوجائیں، اور حق تعالیٰ کی صفات اس میں ظاہر ہوں، چنانچہ مردہ کو زندہ کردے اور زندہ کو مردہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے]۔

اور قربِ فرائض ایسی ہی زیادہ نعمت ہے، اللہ صاحب جسے نصیب فرمائیں، اور حضرت محدّث  دہلوی l ’’اخبار الاخبار‘‘ میں فرماتے ہیں کہ عارف کی پہچان یہ ہے کہ وہ جو کچھ کہے ہوجاوے۔

 اب سائل یہ عرض کرتا ہے کہ ممکن نہیں، بندہ خداصاحب کے کسی کام میں دخل دے سکے، بندہ چاہے کسی مرتبہ میں ہو بندہ ہے ہر وقت عاجز ہے، مگر یہ مرتبہ، قربِ نوافل کا اور عارف کا، حضرت بڑے پیر صاحب کو حاصل ہوگیا تھا یا نہیں؟ اور جس شخص کو یہ مراتب حاصل ہوگئے ہوں اس سے ایسے قصوں کا وقوع ہوجانا کیوں غیر ممکن ہے ؟اور خدا صاحب تقدیر کے خلاف کرنے پر بھی قادر ہے یا نہیں؟ اور کبھی کبھی بندہ پر خدا صاحب بباعث کسی عتاب یا انعام اپنے کے، اس کی تقدیر کے خلاف کر دیتے ہیں یا نہیں؟ یا خدا صاحب کسی بندہ کے حق میں کسی بندۂ خاص کی سفارش مان کر یا اس کے اعمال کی وجہ سے اس کی تقدیر کے خلاف کردیتے ہیں یا نہیں ؟ مثلاً نیک آدمی کی عمر دراز ہونا یا ظالم کی عمر کم ہونا، یا بباعث سئیات مفلسی آجانا یا بباعث خیرات بلاؤں کا رد ہوجانا وغیرہ وغیرہ۔

اور حضرت صابر صاحب l کے اکثر قصے مشہور ہیں کہ جس کو انہوں نے فرمایا کہ تو اندھا ہے تو وہ فوراً اندھا ہوجاتا، اور جس کو فرما دیا  کہ کیا تو مرگیا تو وہ فوراً مردہ ہی ہوگیا، غرض یہ ہے کہ جو کچھ وہ فرماتے تھے فضلِ الٰہی سے اس کا اسی طرح فوراً ظہور ہوجا تھا، تو یہ قصے بھی صحیح ہیں یا خلاف، اوروہ  فرشتے کہ جن کو نکیرین کہتے ہیں ان کا مرتبہ زیادہ ہے یا اولیائے عظام امت محمد ﷺ کا  ؟

جواب:  بزرگوں کی حکایات اکثر جہلاء نے غلط بنادی ہیں، اور اگر کوئی واقعہ صحیح ایسا ہو کہ مفہوم نہ ہووے [سمجھ نہ آئے]تو شَطْحِیَّات [بے اختیار کلمات جو اللہ والوں کی زبان سے ادا ہو جائیں]کہلاتے ہیں[1]،جس کے معنی فہم میں کسی کے نہیں آتے، اس کو نہ قبول کرے نہ رد کرے سکوت کرے، اور جو امور خلافِ قاعدہ شرع کے ہیں ان کو رد کرنا چاہیئے یا سکوت کرے اگر مصلحت ہو، اور قربِ فرائض قربِ نوافل کا فہم اس کے اہل کا رتبہ ہے، بندہ اس سے عاری ہے، باقی یہ ہے کہ حق تعالیٰ اولیاء کی قبولیت کے واسطے اکثر دعا ان کی قبول کرتا ہے یہ ان کی کرامت ہے، مردہ زندہ کرنا خود خرقِ عادت وکرامت ہے، حق تعالیٰ ہی کرتا ہے، مگر بظاہر کسی ولی نبی کا ذریعہ ہوجاتا ہے، لہٰذا کرامت ومعجزہ کہلاتا ہے، فقط‘‘[2]۔

حوالہ جات

[1]  حافظ ابن رجب حنبلی l نے بھی ’’ذیل طبقات الحنابلہ‘‘ (۲/۱۹۷)میں حکایت ’’سب اولیاء کی گردن پر میرا قدم ہے‘‘  کو شَطْحِیَّات قرار دیا ہے،عبارت ملاحظہ ہو:

{فأما الحكاية المعروفة عن الشيخ عبد القادر أنه قال: قدمي هذه على رقبة كل ولي لله، فقد ساقها هذا المصنف عنه من طرق متعددة .

وأحسن ما قيل في هذا الكلام ما ذكره الشيخ أبو حفص السُهْرَوَرْدِي في عوارفه: أنه من شطحات الشيخ التي لا يقتدی بهم فيها، ولا يقدح في مقاماتهم ومنازلهم، فكل أحد يؤخذ عليه من كلامه ويترك إلا المعصوم صلى الله عليه وسلم}.

نیز عورت کو بچے دلوانے والی حکایت اورمنکر نکیر سے سوالات کے قصہ کو حضرت فقیہ العصر گنگوہی l  اسی مقام پر موجودسابقہ سوال میں بے اصل قرار دے چکے ہیں۔

[2] تالیفات رشیدیہ : بڑے پیر کی کرامات، ص: ۱۰۶، ادارہ اسلامیات لاہور  ۔ 

ملتی جلتی احادیث