روایت: ’’جو جماعت یا طالب علم جس قبر ستان کے قریب سے گزرتے ہیں اس قبرستان کے مردوں کا چالیس روزتک قبر کا عذاب معاف ہو جاتا ہے‘‘۔
یہ روایت بے اصل ہے۔
تفصیل
’’سوال: بعض تبلیغی بھائیوں کی زبانی سنائی دیتا ہے کہ تبلیغی گشت اور سفر یا فضائل علم کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ جماعت یا طالب علم جس قبر ستان کے قریب سے گزرتے ہیں اس قبرستان کے مردوں کا چالیس روزتک قبر کا عذاب معاف ہو جاتا ہے، کیا یہ حدیث میں ثابت ہے؟ اگر ہے تو بحوالۂ کتاب براہ کرم رقم فرما کر تشفی خاطر کر یں۔
جواب: ×قال التفتازاني في شرح العقائد النَسَفِيَّة (ص:۱۲۳): قال m: إن العالم والمتعلم إذا مرّا على قرية، فإن الله تعالى يرفع العذاب عن مقبرة تلك القرية أربعين يوما، انتهى.
قال علي القاري في الموضوعات الكبير (ص:۲۴): قال الحافظ جلال الدين السيوطي: لا أصل له÷[1].
[(حضرت جونپوری l کی اس عبارت کا حاصل یہ ہے) تفتازانی l نے ’’شرح العقائد النَسَفِیَّہ‘‘میں کہا ہے کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: عالم اور طالب علم جب کسی بستی پر گذرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس بستی کے قبرستان سے عذاب اٹھا لیتے ہیں۔
(حضرت جونپوری l آگے لکھتے ہیں) علی قاری l نے ’’موضوعاتِ کبیر‘‘ میں لکھا ہے کہ حافظ جلال الدین سیوطی l نے کہا ہے کہ یہ روایت ’’بے اصل‘‘ہے]
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیۃ: کیا قبرستان کے قبروں کا چالیس روز تک قبر کا عذاب معاف ہو جاتا ہے؟ ۱/۴۳،۴۴۔ علامہ محمدبن خلیل قاؤقجی l نے بھی ’’اللؤلؤالمرصوع‘‘(ص:۵۳،رقم:۹۳)میں اس روایت کو ’’بے اصل‘‘ کہا ہے۔