التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ اول)

روایت: ۱-’’میرےآسمان اور زمین مجھے نہیں سما سکے،البتہ میرے مومن بندے کا دل، مجھے اپنے میں سما لیتا ہے‘‘۔ ۲-’’دل رب کا گھر ہے‘‘۔

حکم: یہ دونوں روایتیں آپ ﷺ سے ثابت نہیں ہے، البتہ اسرائیلی روایت کی حیثیت سے ثابت ہے؛ اس لئے اسرائیلی روایت کہہ کر بیان کر سکتے ہیں، نیز ان روایتوں سے ملتا جلتا ایک مضمون آپ ﷺ سے ثابت ہے، ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔

تفصیل

ہمارے معاشرے میں اسرائیلی روایات (بنی اسرائیل سے منقول روایات)  کا ایک بڑا ذخیرہ زبان زَد عام ہے،جن کے بارے میں دو امور اصولی طور پر انتہائی اہمیت کے حامل ہیں:

۱-اسرائیلی روایات کو ہماری شریعت کی روشنی میں پرکھا جائے گا،ان میں صرف وہ روایات قابلِ بیان ہوں گی،جو ہماری شریعت کے موافق ہوں یا کم از کم وہ روایات، شریعتِ محمدیہ ﷺ کے خلاف نہ ہوں؛ لہذا اگر کوئی اسرائیلی روایت، ہماری شریعت کے مضامین کے خلاف ہوگی،تواسے بیان کرنے سے احتراز کیا جائے گا، اس اصولی قاعدے کوحافظ ابن کثیرl نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

’’فإنَّهاعلى  ثلاثة أقسام:

أحدهما ماعَلِمْنَا صِحَّتَة مِمَّا بأیدِینَا مِمَّایَشْهَدُ له بِالصِّدْقِ، فذاک صحیحٌ .

الثانی: مَاعَلِمْنَا کِذْبَه بِمَا عندَنا مِمَّا یُخَالِفُه .

والثالث: ماهو مَسْکُوتٌ عنه، لامِنْ هذا القَبِیلِ ولا مِنْ هذا القَبِیلِ، فلا نُؤمِنُ به ولا نُکّذِّبُه، وتَجُوزُ حِکَایَتُه لِمَا تَقَدَّمَ‘‘[1].

’’اسرائیلیات کی تین قسمیں ہیں:

پہلی قسم ان اسرائیلیات کی ہے،جن کی صحت ہمیں معلوم ہے،کیونکہ ہمارے پاس موجودہ نصوص ان کے حق میں صداقت اور سچائی کی شہادت دیتے ہیں۔

دوسری قسم وہ اسرائیلیات ہیں، جن کا جھوٹ ہونا ہمیں معلوم ہو،بایں صورت کہ ہمارے پاس موجودہ نصوص ان کی مخالفت کرنے والے ہیں۔

تیسری قسم وہ اسرائیلیات ہیں، جن کے بارے میں سکوت ہے،ان کا تعلق نہ پہلی قسم سے ہے،نہ دوسری قسم سے ہے،ہم ان پر نہ ایمان لاتے ہیں اور نہ ہی تکذیب کرتے ہیں،سابقہ تفصیل کی بنا پر ان اسرائیلیات کو بیان کرنا جائز ہے۔‘‘

۲-اسرائیلیات کے حوالے سے دوسری اہم بات یہ ہے کہ ان اسرائیلی روایتوں کو بعض اوقات آنحضر ت ﷺ کی جانب منسوب کر دیا جاتا ہے، حالانکہ آپ ﷺ کی جانب صرف وہی روایت منسوب کی جا سکتی ہے،جو کسی معتبر سند سے ثابت ہو؛ اس لیے روایات کو اس قسم کے اختلاط سے محفوظ رکھنا انتہائی اہم ہے،ذیل میں اسی فریضے کے پیشِ نظر دو ایسی اسرائیلی روایتیں ذکر کی جائیں گی، جن کے بارے میں ائمہ حدیث نے یہ صراحت بھی کی ہے کہ یہ روایتیں آپ ﷺ سے ثابت نہیں ہے، اس کا مقتضی یہ تھا کہ ان روایتوں کو آپ ﷺ کی جانب منسوب کیے بغیر بیان کیا جاتا، لیکن عام طور پر انہیں آپ ﷺ کی طرف منسوب کر دیا جاتا ہے، اس لیے ان روایتوں کو مرفوعاً (یعنی آپ ﷺ کے انتساب سے) بیان کرنا جائزنہیں ہے، بلکہ انہیں صرف اسرائیلی روایت کہہ کر بیان کرنا چاہیے۔

حوالہ جات

[1] تفسير ابن كثير:مقدمة،1/31،ت:سامي محمد بن سلامة،دار طيبة ـ الرياض،الطبعة الثانية1420هـ  .

[2] مجموع الفتاوى:18/71،ت:عامر الجزائر وأنور الباز،دار الوفاء المنصورة ـ الطبعة الثالثة1426هـ .

[3] التذكرة في الأحاديث المشتهرة:135،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة۱۴06 هـ .

[4] المقاصد الحسنة:حرف الميم،429،رقم:988،ت:عبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1427هـ .

[5] الدرر المنتثرة:217،رقم:361،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1427هـ .

علامہ سیوطی l نے ’’الزهد لأحمد بن حنبل‘‘ کے جس طریق کو بیان کیا ہے، اس کی مکمل سند یہ ہے:

’’حدثنا عبد الله، حدثني أبي، أخبرنا إبراهيم بن خالد، حدثني عمر بن عبيد، أنه سمع وهب بن منبه يقول: إن الله عز وجل فتح السماوات لحزقيل حتى نَظَرَ إلى العَرْشِ، أو كما قال، فقال حزقيل: سبحانك، ما أَعْظَمَك، يا رَب! فقال الله: إن السماوات والأرض لم تطق أن تحملني، وضقن من أن تسعني، وسعني قلب المؤمن الوارع اللين ‘‘. (الزهد لأحمد بن حنبل:زهد يوسف،1/103،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1403هـ) .

[6] المصنوع:164،رقم:293،ت:الشيخ عبد الفتاح أبو غدة،ایچ ـ ایم ـ سعید کمپنی کراچی .

[7] تذكرة الموضوعات:ص:30،كتب خانه مجيدية ملتان ـ باكستان .

[8] تنزيه الشريعة:الفصل الثالث:۱/148،رقم:45،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق، دارالکتب العلمية ـ بیروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

[9] مجموع الفتاوى:18/71،ت:عامر الجزائر وأنور الباز،دار الوفاء المنصورة ـ الطبعة الثالثة1426هـ .

[10] التذكرة في الأحاديث المشتهرة:1/135،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة۱۴06 هـ .

[11] المقاصد الحسنة:حرف القاف:355،رقم:774،ت:عبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية 1427هـ .

[12] الدرر المنتثرة:198،رقم:313،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1427هـ .

[13] المصنوع:131،رقم:217،ت:الشيخ عبد الفتاح أبو غدة،ایچ ـ ایم ـ سعید کمپنی کراچی .

[14] تذكرة الموضوعات:ص:30،كتب خانه مجيدية ملتان ـ باكستان .

[15] تنزيه الشريعة:الفصل الثالث:۱/148،رقم:45،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق، دار الکتب العلمية ـ بیروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .