روایت: ’’مسجد میں باتیں کرنا، نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے،جس طرح چوپایہ گھاس کھاتا ہے‘‘، اور بعض مقامات پر یہ روایت ان الفاظ سے منقول ہے: ’’مسجد میں جائز گفتگو بھی نیکیوں کو ایسے کھا جاتی ہے،جس طرح آگ لکڑیوں کو‘‘۔
حکم: حضور ﷺ سے ثابت نہیں ہے، بیان نہیں کر سکتے۔ ذیل میں ایک ضمنی روایت بھی لکھی جائے گی۔
تفصیل
ہر خبر سچی یا جھوٹی ہونے کا احتمال رکھتی ہے، جس طرح بعض اوقات عام خبروں میں بھی سچائی ثابت کرنے کے لیے دلیل کی ضرورت پیش آتی ہے،اسی طرح خبرِ رسول اللہ ﷺ میں بھی ردّوقبول کےلیے ایک خاص دلیل اور معیار کی ضرورت ہے، جسے محدثین کی اصطلاح میں ’’اسناد‘‘ کہا جاتا ہے۔
شریعتِ اسلامی میں’’ اسناد‘‘کا استعمال اس قدر عام رہا ہے کہ اہل علم طبقہ حدیث کے علاوہ ادب، شعر، نثر، فقہ، تاریخ، لغت،قصص،حتی کہ ظرافت پر مشتمل حکایات میں بھی ’’اسناد‘‘کا اہتمام فرماتے رہے ہیں، اس اسلامی نظام ِ صدق وسچائی کو شیخ عبد الفتَّاح ابو غدّہl نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
’’هذا (السَّنَدُ)یَمْتَدُّ وَیَتَّسِعُ ویَتّصِلُ بِکُلِّ عِلْمٍ نُقِلَ إلیهم، فما نُقِلَ مِنْ تَفْسِیرٍ لآیاتِ القُرآنِ کان بِسَنَدٍ، وما نُقِلَ مِنْ حدیثٍ نَبَوِيٍّ کان بِسَنَدٍ، وما نُقِلَ مِنْ تفسیرٍ للحدیثِ کان بِسَنَدٍ أیضاً، وما نُقِلَ مِنْ أدَبٍ، أو شِعْرٍ، أو نَثْرٍ، أو فِقْهٍ، أو تاریخٍ، أولغةٍ، کان بِسَنَدٍ أیضاً، بل أشَدُّ مِنْ هذا، ما نُقِلَ مِنْ المُسَلِّیَاتِ أو المُضْحِکَاتِ کأخْبَارِ الحَمْقَی والمُغَفَّلِین، أو أخبار الأذْکِیَاء والنَّابِهین، نُقِلَ بِسَنَدٍ أیضاً‘‘[1].
’’اس سند میں وسعت اور گنجائش بڑھتی رہی، حتی کہ ہماری جانب منقول تمام علوم میں سندیں شامل ہوگئیں،چنانچہ قرآن کی منقولہ تفسیر سند کے ساتھ ہے، ہر منقول حدیث سند کے ساتھ ہے،حدیث کی منقول تفسیر سند کے ساتھ ہے، حتی کہ منقولہ ادب، شعر، نثر، فقہ، تاریخ، لغت، یہ تمام علوم سند کے ساتھ ہیں، بلکہ اس سے بڑھ کرتسلی خیز، اور ظرافت کی باتیں جیسے احمق اور بے وقوف لوگوں کے قصے، ذہین اور زِیرک لوگوں کے واقعات، یہ سب بھی سند کے ساتھ ہیں‘‘۔
بہرحال! دیگر علوم کے مقابلے میں احا دیث کا معاملہ انتہائی نزاکت پر مبنی ہے، جس میں سند ہی کی بنیاد پرردّوقبول کا فیصلہ ہوتا ہے؛ تاکہ شریعتِ اسلامیہ کو رطب ویابس سے بچایا جاسکے،اور اگر کسی روایت کی سند نہ ہو،تو وہ روایت قابلِ التفات ہی نہیں رہتی، چنانچہ شیخ عبدالفَتَّاح ابوغدّہ ’’المصنوع في معرفة الحدیث الموضوع للعلامة علي القاري‘‘ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں:
’’... وإذا کان الحدیث لا إسناد له، فلا قیمَة لة ولا یُلْتَفَتُ إلیه، إذ الإعتماد في نقل کلام سیّدنا رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم إلینا، إنّما هو علی الإسناد الصحیح الثابت أو مایقع موقعَه، وما لیس کذلک فلا قیمةَ له‘‘[2].
’’۔۔۔ اور جب حدیث کی سند ہی نہ ہو، تو وہ بے قیمت اور غیر قابل التفات ہے، کیوں کہ ہماری جانب ہمارے آقا رسول اللہ ﷺ کے کلام کو نقل کرنے میں اعتماد صرف اسی سند پر ہو سکتا ہے، جو صحیح ثابت شدہ ہو، یا جو اس کے قائم مقام ہو، اور جو حدیث ایسی نہ ہو تو وہ بے قیمت ہے‘‘۔
اسی فریضے کے پیشِ نظرذیل میں ایک مشہور بے سند روایت کی تحقیق ذکر کی جائے گی، جس کے بارے میں محدثینِ کرام نے یہ تصریح فرمائی ہے کہ یہ قول آپﷺ سے ثابت نہیں ہے؛ اس لیے یہ روایت رسول اللہ ﷺ کی جانب منسوب کرنا جائز نہیں ہے۔
حوالہ جات
[1]الإسناد من الدين وصفحة مشرفة:ص:92،تأليف الشيخ عبد الفتاح أبو غدة،الطبعة الأولى141هـ .
[2] المصنوع:شذرات في بيان بعض الاصطلاحات،ص:18،ت:الشيخ عبد الفتاح أبو غدة،ایچ ـ ایم ـ سعید کمپنی کراچی .
[3] إتحاف السادة المتقين:كتاب أسرار الصلاة ومهماتها،الباب الأول،3/50،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[4] المغني عن حمل الأسفار:1/107،رقم:410،ت:أبومحمد أشرف بن عبد المقصود،مکتبة دار طبریة ـ الریاض،الطبعة الأولى۱۴۱۵هـ.
[5] إتحاف السادة المتقين:كتاب أسرار الصلاة ومهماتها،الباب الأول،3/50،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[6] المصنوع:92،رقم:109،ت:الشيخ عبد الفتاح أبو غدة،ایچ ـ ایم ـ سعید کمپنی کراچی .
[7] المصنوع:92،رقم:109،ت:الشيخ عبد الفتاح أبو غدة،ایچ ـ ایم ـ سعید کمپنی کراچی .
[8] الفوائد المجموعة:كتاب الصلوة،25،رقم:33،ت:عبد الرحمن بن يحيى،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة۱۴۱۶هـ .
[9] طبقات الشافعية الكبرى:الطبقة الخامسة،3/478،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1320هـ .
[10] تذكرة الموضوعات:فضل المسجد...:ص:36،كتب خانه مجيدية ملتان ـ باكستان .
[11] المدخل:2/227،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة1401هـ .
[12] الدرر الكامنة:حرف الميم4/144،ت:عبد الوارث محمد علي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .
[13] إتحاف السادة المتقين:كتاب أسرار الصلاة ومهماتها،الباب الخامس،2/452،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
ملتی جلتی احادیث
روایت: آپﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’میری امت کے علما ء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں‘‘۔
روایت: آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’المَعْرِفَةُ رَأسُ مَالِي...‘‘. اﷲ کی معرفت میرا سرمایہ ہے۔۔۔‘‘۔
روایت: ’’خُذُ وا شَطْرَ دِینِکم عن الحُمَیرَاء‘‘. تم اپنا نصف دین حمیراء (حضرت عائشہ R) سے حاصل کرو۔
روایت: ایک مؤمن عورت کی نیکی ستر صدیقین کے عمل کی طرح ہے، اور ایک فاجر عورت کی برائی ہزار فاجر مردوں کی طرح ہے۔
روایت: ’’اتّقُوا مَوَاضِعَ التُّهَم‘‘. تہمت کی جگہوں سے بچو۔