روایت: ’’معراج کے موقع پر باری تعالیٰ کا فرمان کہ آپ(ﷺ)جوتے نہ اتاریں،جوتوں سمیت آجائیں‘‘، یہ روایت بے اصل معلوم ہوتی ہے۔
تفصیل
’’سوال: لوگ ایک حدیث شریف نقل کر رہے ہیں کہ آپ ﷺ کا مرتبہ ومقام اتنا بلند تھا کہ جب معراج میں تشریف لے گئے تو نعلین شریفین اتار نے لگے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ جوتے نہ اتاریں، آپ کے جوتے آنے سے میرے عرش کی عزت بڑھ جائے گی ۔
جواب: نعلین شریفین کے ساتھ عرش پر جانا میری نظر سے نہیں گذرا، یہ روایت بے اصل معلوم ہوتی ہے‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیۃ : کیا معراج میں حضور ﷺ نعلین کے ساتھ گئے،۲/ ۳۸۱، ۳۸۲۔
علامہ شہاب الدین ابو العباس احمد بن محمد مقری مالکی l (المتوفی حول ۱۰۴۱ھ)نے ’’فتح المُتَعَال فی مدح خير النِعَال‘‘ میں، اور علامہ محمد بن عبد الباقی زَرْقَانی l (المتوفی ۱۱۲۲ھ)نے ’’شرح المواهب اللَّدُنِّيَّۃ‘‘ میں اور علامہ عبد الحی لکھنوی lنے ’’الآثار المرفوعۃ‘‘ (ص:۳۷)میں اس روایت کو موضوع کہا ہے، علامہ عبد الحی لکھنوی l کی عبارت ملاحظہ ہو:
’’فمنها: ما يذكرون من أن النبي لما أسري به ليلة المعراج إلى السموات العلى ووصل إلى العرش المعلى، أراد خلع نعليه أخذا من قوله تعالى لسيدنا موسى حين كلمه: فاخلع نعليك إنك بالواد المقدس طوى. فنودي من العلي الأعلى يا محمد! لا تخلع نعليك، فإن العرش يتشرف بقدومك متنعلا، ويفتخر على غيره متبركا، فصعد النبي إلى العرش وفي قدميه النعلان وحصل له بذلك عز وشأن.
وقد ذكر هذه القصة جمع من أصحاب المدائح الشعرية، وأدرجها بعضهم في تأليف السنية، وأكثر وعاظ زماننا يذكرونها مطولة ومختصرة في مجالسهم الوعظية. وقد نص أحمد المقري المالكي في كتابه ’’فتح المُتَعَال في مدح خير النِعَال‘‘، والعلامة رضي الدين القزوِيني ومحمد بن عبد الباقي الزَرْقَانِي في ’’شرح المواهب اللَّدُنِّيَّة‘‘ على أن هذه القصة موضوع بتمامها، قبح الله واضعها، ولم يثبت في رواية من روايات المعراج النبوي مع كثرة طرقها أن النبي كان عند ذلك متنعلا، ولا ثبت أنه رقي على العرش، وإن وصل إلى مقام دنا من ربه فتدلى فكان قاب قوسين أو أدنى فأوحى ربه إليه ما أوحى. وقد بسطت الكلام في هذا المرام في رسالتي ’’غاية المقال فيما يتعلق بالنعال‘‘ فلتطالع‘‘.