روایت: ’’جب ابراہیم e نے لوگوں کو حج بیت اللہ کےلیے پکارا، اس کے جواب میں لوگوں نے تلبیہ کہا، چنانچہ جس نے ایک مرتبہ تلبیہ کہا ،تو وہ ایک مرتبہ حج کرے گا، اور جس نے دو مرتبہ تلبیہ کہا، وہ دو مرتبہ حج کرے گا، اور جس نے دو سے زائد مرتبہ تلبیہ کہا، وہ اسی حساب سے حج کرے گا‘‘۔
حکم: آپ ﷺ سے ثابت نہیں ہے، بیان نہیں کر سکتے، البتہ حضرت ابن عباسr اور حضرت مجاہد l سے اس مضمون پر مشتمل الفاظ منقول ہیں۔
تفصیل
مرفوع طریق(آپ ﷺ کا قول):
روایت پر کلام
محمد بن اشعث کے بارے میں ائمہ کرام کے اقوال:
حوالہ جات
[1] الدر المنثور:سورة الحج:الآية:10،27/465،ت:عبد اﷲ بن عبد المحسن الترکي،مرکز هـجر ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۳۲۴هـ .
[2] الدر المنثور:سورة الحج:الآية:10،27/465،ت:عبد اﷲ بن عبد المحسن الترکي،مرکز هـجر ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۳۲۴هـ .
[3] تنزيه الشريعة:كتاب الحج،الفصل الثالث،2/176،رقم:27،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق، دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .
[4] الفوائد المجموعة:كتاب الحج،109،رقم:16،ت:عبدالرحمن بن يحيى،الطبعة ۱۴۱۶هـ .
[5] تذكرة الموضوعات:فضائل الحج والطواف...،ص:73،كتب خانه مجيدية ملتان ـ باكستان .
[6] الكامل في الضعفاء:7/565،رقم:1791،ت:الشيخ عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[7] ميزان الاعتدال:4/28،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[8] لسان الميزان:7/476،رقم:7357 ،ت:شيخ عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[9] جامع البيان:سورة الحج:الآيات:27ـ29،18/606،ت:أحمد شاكر،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲0هـ .
[10] جامع البيان:سورة الحج:الآيات:27ـ18:29/606،ت:أحمد شاكر،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲0هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: حضرات اہل بیت کا مسکین،یتیم اور قیدی پر اِیثاراور تین دن بھوکا رہنا۔
روایت: آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’اگر میں اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو اس حالت میں پاؤں کہ میں عشاء کی نماز میں مشغول ہوں اور سورۂ فاتحہ پڑھ چکا ہوں، اسی دوران میری والدہ مجھے پکار کر کہے: اے محمد! تو میں جواب میں اپنی والدہ سے کہوں گا: حاضر ہوں!‘‘۔
مقدمہ
روایت: ’’مسجد میں باتیں کرنا، نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے،جس طرح چوپایہ گھاس کھاتا ہے‘‘، اور بعض مقامات پر یہ روایت ان الفاظ سے منقول ہے: ’’مسجد میں جائز گفتگو بھی نیکیوں کو ایسے کھا جاتی ہے،جس طرح آگ لکڑیوں کو‘‘۔
روایت: بچے کی بسم اﷲ پر، اس بچے کی، اس کے والدین کی اور اس کے اُستاد کی بخشش۔