روایت: حضرات اہل بیت کا مسکین،یتیم اور قیدی پر اِیثاراور تین دن بھوکا رہنا۔
حکم: من گھڑت
تفصیل
ہر خیر وشر ایک خاص پس منظر رکھتا ہے،جس سے ہمیں نیکی اور بدی کو سمجھنے میں کافی مدد ملتی ہے، انھیں برائیوں میں وضعِ حدیث اپنی نوعیت کی سنگین معصیت ہے، جو بعض خاص عوامل اور افرادکی کار فرمائی ہوتی ہے، محدثین کرام ان افراد کی طرف خصوصیت سے توجہ دلاتے ہیں، تاکہ ہر عام و خاص حدیث نقل کرنے میں حسّاس رہے، اور من گھڑت روایتوں کا سدّ باب ہو جائے،چنانچہ اسی مقصد کے حصول کےلئے، علامہ عبد الحی لکھنوی l نے ’’الآثار المرفوعة‘‘[1] میں وضّاعین کی مختلف قسمیں ذکر کی ہیں،ان میں ایک قسم ان لوگوں کی بھی ہے جو حضرات اہل بیت وغیرہ کی محبت میں غلو کا شکار ہو کر حدیثیں گھڑتے ہیں،چنانچہ آپ فرماتے ہیں:
’’السابع قومٌ حَمَلَهم علی الوَضْعِ حُبُّهم الذي أعْمَاهم وأصَمَّهم کما وَضَعُوا أحادیثَ في مناقبِ أهْلِ البَیْتِ ومَثَالِبِ الخُلَفَاءِ الرَّاشِدِین ومُعَاوِیَةَ وَغَیرِهم، ووَضَعُوا أحادیثَ في مَنَاقِبِ أبي حَنِیفَة‘‘.
’’ساتویں قسم ان لوگوں کی ہے جن کو اندھا،بہرہ کرنے والی محبت نے روایات گھڑنے پر اُ کسایا، جیسا کہ بعض لوگوں نے اہل بیت کے مناقب اور خلفائے راشدین اور حضرت معاویہp وغیرہ کی مذمت میں حدیثیں گھڑیں، اور بعض لوگوں نے امام ابو حنیفہl کے فضائل میں حدیثیں ایجاد کیں‘‘۔
حضرات اہل بیت کے مناقب معتبر نصوص سے ثابت ہیں،اور ہر مسلمان کے دل میں اہلِ بیت کی محبت اور عقیدت مو جود ہے، ان فضائل کو ثابت کرنے کے لئے خود ساختہ روایتوں کا سہارا لینا، نہ صرف عقلاً مذموم امر ہے، بلکہ اسلامی تعلیمات سے جہالت کا ثبوت دینا ہے؛ کیونکہ شریعتِ اسلامی باطل اور من گھڑت روایتوں کی مداخلت قطعاً برداشت نہیں کرتی۔ اسی فریضے کے پیشِ نظر ذیل میں مناقبِ اہل بیت پر مشتمل ایک ایسی روایت بیان کی جائے گی، جس کو متقدمین ومتاخرین علماء کرام نے من گھڑت کہا ہے؛ اس لئے اسے بیان کرنا درست نہیں ہے۔
روایت پر کلام:
حوالہ جات
[1] الآثار المرفوعة:ص:17،دار الکتب العلمیة ـ بیروت .
[2] الكشف والبيان:سورة الدهر،10/101،ت:أبو محمد بن عاشور،دار إحياء التراث العربي ـ بیرت،الطبعة ۱۴۲۲هـ .
[3] سورة الدهر:الآية7 .
[4] نوادر الأصول: الأصل الرابع والأربعون:1/193،ت:إسماعيل إبراهيم،مكتبة الإمام البخاري ـ مصر، الطبعة الأولى ۱۴19هـ .
[5] اللآلئ المصنوعة:1/339،ت:محمد عبد المنعم رابح،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴28هـ .
[6] الفوائد المجموعة:ص:376،رقم:79،ت:عبدالرحمن بن يحيى ،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة ۱۴۱۶هـ .
[7] تذكرة الموضوعات:228،كتب خانه مجيديه،ملتان ـ باكستان .
[8] كوثر النبي:ص:112، المخطوط، نسخة العلامة عبد الله الولهاري(1283هـ) .
[9] كتاب الموضوعات:1/392،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المكتبة السلفية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى ۱۳۸6هـ .
[10] منهاج السنة النبویة:7/175،ت:الدكتور محمد رشاد سالم،مؤسسة قرطبة ـ مصر،الطبعة الأولى۱۴06هـ .
[11] المنتقى مِنْ منهاج الاعتدال:467،ت: محب الدین الخطیب، الرئاسة العامة ـ الریاض،الطبعة الثالثة۱۴۱۳هـ.
[12] الجامع الصحيح لمسلم:كتاب النذر، باب النهي عن النذر،3/1261،رقم:1239،ت:محمد فواد عبد الباقي، دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[13] الجامع الصحيح للبخاري:باب إلقاء النذر العبد إلى القدر،8/124،ت:محمد زهير بن ناصر الناصر،دار طوق النجاة ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .
[14] التلخيص الحَبِيْر:باب زكوة الفطر،2/35۴،رقم:872 ،ت:أبو عاصم حسن بن عباس ،مؤسسة قرطبة ـ مصر،الطبعة الأولى1416هـ .
[15] روح المعاني:29/158،إحياء التراث العربي ـ بيروت .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’ کنتُ کَنْزاً مَخْفِیًّا لا أعْرَفُ ...‘‘. ’’میں ایسا چھپا ہوا خزانہ تھا کہ جسے کوئی پہچانتا نہیں تھا۔۔۔‘‘۔
روایت: بچے کی بسم اﷲ پر، اس بچے کی، اس کے والدین کی اور اس کے اُستاد کی بخشش۔
روایت: ’’جب ابراہیم e نے لوگوں کو حج بیت اللہ کےلیے پکارا، اس کے جواب میں لوگوں نے تلبیہ کہا، چنانچہ جس نے ایک مرتبہ تلبیہ کہا ،تو وہ ایک مرتبہ حج کرے گا، اور جس نے دو مرتبہ تلبیہ کہا، وہ دو مرتبہ حج کرے گا، اور جس نے دو سے زائد مرتبہ تلبیہ کہا، وہ اسی حساب سے حج کرے گا‘‘۔
روایت: ۱-’’میرےآسمان اور زمین مجھے نہیں سما سکے،البتہ میرے مومن بندے کا دل، مجھے اپنے میں سما لیتا ہے‘‘۔ ۲-’’دل رب کا گھر ہے‘‘۔
روایت: آپ ﷺ کا وِصال سے قبل اپنی ذات پر قصاص اور بدلہ دِلوانا۔