{لايسعني سمائي ولا أرضي ولكن يسعني قلب عبدي المؤمن}. میرے آسمان اور زمین مجھے نہیں سما سکے،البتہ میرے مومن بندہ کا دل مجھے اپنے میں سما لیتا ہے‘‘، ان الفاظ سے اس حدیث کی کچھ اصل نہیں ہے،البتہ اس کے ہم معنی ایک دوسری حدیث ثابت ہے۔
تفصیل
’’سوال: حدیث: {لايسعني سمائي ولا أرضي ولكن يسعني قلب عبدي المؤمن}. یہ حدیث کون سی کتاب میں ہے؟ اور اس مضمون کی کوئی آیت قرآن شریف میں ہے یا نہیں؟ اور حدیث مذکورہ کس درجہ کی ہے؟
جواب: حدیث: {لايسعني سمائي ولا أرضي} الخ بتغیر یسیر ’’احیاء العلوم‘‘ امام غزالی l میں مذکور ہے، الفاظ اس کے یہ ہیں: {لم يسعني أرضي ولا سمائي ووسعني قلب عبدي المؤمن}. لیکن ’’احیاء العلوم‘‘ کے شراح اور مُخَرِّجِیْن نے فرمایا کہ بایں الفاظ اس حدیث کی کچھ اصل نہیں، البتہ اس کے ہم معنی دوسری حدیث ابوعتبہ [اصل میں اسی طرح ہے] خولانی r سے جن کی صحابیت مختلف فیہ ہے مرفوعاً مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: {إن لله آنية من أهل الأرض، وآنية ربكم قلوب عباده الصالحين، وأحبها إليه وألينها وأرقها}. اور اس حدیث کی سند کو امام بیہقی l نے حسن کہا ہے، پس الفاظ {آنية ربكم قلوب عباده الصالحين} کا حاصل وہی ہے جو {لكن يسعني قلب عبدي المؤمن} کا ہے، اور تحقیق اور تفصیل اس کی طویل ہے، اور خود قرآن مجید میں ہے: (اَللهُ نُوْرُ السَّموَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُوْرِهِ كَمِشْكوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحٌ). (سورۂ نور، آیت: ۳۵) {قال صاحب الجلالين: مَثَلُ نُورِهِ، أي: صفته في قلب المؤمن. كَمِشكوةٍ فِيهَا مِصبَاحٌ، اَلمِصبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ}. پس اس آیتِ کریمہ میں مشکوۃ یعنی طاق سے مراد قلبِ مؤمن ہے اور مصباح سے مراد نورِ باری تعالیٰ ہے، پس وسعتِ قلبِ عبدِ مؤمن اور اس کا بمعنی چراغ تجلی گاہ حق تعالیٰ ہونا اس آیت سے بھی ثابت ہے، اور صوفیاء کرام اس کے معنی کی صحت پر متفق ہیں، نیز آیت کریمہ: (إنّا عرضنا الأمانة على السموات والأرض والجبال فأبين أن يحملنها وأشفقن منها). (سورۂ احزاب، آیت: ۷۲)میں امانت کی تفسیر معرفت کے ساتھ بھی کی گئی ہے، {کما فی التفسیر الکبیر للإمام الرازي}. پس آسمان و زمین کا اس کا متحمل نہ ہونا اور انسان کا اس کو متحمل ہونا بھی اس مضمون پر دال ہے، فقط،والله تعالىٰ اعلم!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] فتاوی دار العلوم دیوبند : {یسعني قلب عبدي المؤمن} حدیث ہے یا نہیں؟ ۱۸/۱۴۸ مکتبہ حقانیہ ملتان۔
حافظ ابن تیمیہ l فرماتے ہیں کہ اس روایت کا آپ ﷺ سے سنداً ثبوت نہیں ہے،دیکھئے: ’’مجموع الفتاوى‘‘ (۱۸/۷۱)۔ حافظ ابن تیمیہ l کے انتساب سے ملا علی قاری l نے ’’المصنوع‘‘ (رقم:۳۳۱) میں، علامہ ابن عرّاق l نے ’’تنزیہ الشريعہ‘‘ (۱/۱۴۸) میں،علامہ محمد بن طاہر پٹنی l نے ’’تذكرة الموضوعات‘‘ (ص:۳۰) میں اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے،علامہ محمدبن محمد درویشl نے’’اسنى المطالب‘‘ (رقم:۱۰۲۲) میں،امام سیوطیl نے ’’الدرر المنتثرة‘‘ (رقم:۳۱۷) میں، علامہ محمدامیر مالکیl نے ’’النخبۃ البہيۃ‘‘ (رقم:۱۰۳)میں اس روایت کو بے اصل کہا ہے۔
دیگر تفصیلات کے لئے دیکھئے: کتاب غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ،حصہ اول،ص:۳۳۱۔