’’دیوار پر تحریر کرنا مقروض ہونے کا باعث ہے، اور شام کے وقت جھاڑو دینا منع ہے، اور جمعرات کو رات کے وقت دستر خوان جھاڑنا منع ہے‘‘، ان اُمور کی کچھ اصل نہیں ہے۔
تفصیل
’’سوال: عوام میں مشہور ہے کہ دیوار پر تحریر کرنا باعث مقروض ہونے کا ہے، اور شام کے وقت جھاڑو دینا منع ہے، اور جمعرات کو رات کے وقت دستر خوان جھاڑنا منع ہے؟
جواب: ان اُمور کی کچھ اصل نہیں ہے۔ فقط، والله تعالى اعلم!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] فتاوی دار العلوم دیوبند :دیوار پر لکھنا، شام کے وقت جھاڑو دینا، اور شب جمعرات کو دسترخوان جھاڑنا کیسا ہے؟ ۱۷/۲۸۸ مکتبہ حقانیہ ملتان۔
ملتی جلتی احادیث
مشہور قضاءِ عمری کی نماز بے اصل ہے۔
{تصدقوا لموتاكم قبل الدفن. تفدوا لموتاكم بعد الدفن. والسنة أن يتصدق ولي الميت قبل مضي الليلة الأولى بما تيسر}. میت کو دفن کرنے سے پہلے کچھ صدقہ کر دیا کرو،میت کو دفن کرنے کے بعد کچھ صدقہ کر دیا کرو،سنت یہ ہے کہ میت کا ولی پہلی رات گزرنے سے پہلے بسہولت کچھ صدقہ کیا کرے‘‘، یہ روایات بے اصل ہیں۔
1 رسول اللہﷺ کا حضرت بلال r کو بعوض حسنین q خریدنا محض غلط ہے، ایسی باتیں بے اصل، بیان کرنے والامستحق وعظ گوئی نہیں۔
2 ابوہریرہ r کا نکاح بعد وفات رسول اللہﷺ ہوا ہے، پہلے نہیں ہوا، آپ ﷺ کی خدمت میں اس نکاح کے کھانے کا پہنچنا لا اصل ہے۔
3 آنحضرت ﷺ کا شب معراج میں حور کے نور کو سجدہ کرنا بالکل افتراء ہے، قرآن شریف کے بالکل مخالف ہے: {ماكذب الفؤاد مارأى} [جھوٹ نہیں کہا رسول( اللہ ﷺ) کے دل نے جو دیکھا] صاف بیان ہے کہ آپ کو کسی قسم کی غلطی نہیں ہوئی، ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے، سخت زندیق ہے۔
3 شب برات کو تین غسل کرنا، یا حلوا وغیرہ کا پکانا شریعت سے ثابت نہیں، یہ باتیں محض لا اصل ہیں۔
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔
{لايسعني سمائي ولا أرضي ولكن يسعني قلب عبدي المؤمن}. میرے آسمان اور زمین مجھے نہیں سما سکے،البتہ میرے مومن بندہ کا دل مجھے اپنے میں سما لیتا ہے‘‘، ان الفاظ سے اس حدیث کی کچھ اصل نہیں ہے،البتہ اس کے ہم معنی ایک دوسری حدیث ثابت ہے۔