کتاب”گل بکاولی “، ”بد ر منیر “، ”قصہ حاتم طائی “، یہ بے اصل کتابیں ہیں۔
تفصیل
”میرا اعتراض صرف ناولوں پر ہی نہیں ہے جو کتابیں بھی اس قسم کی ہوں سب کو الگ کر دینا چاہیے، جیسے: ”گل بکاولی “، ”بد رمنیر “، ”قصہ حاتم طائی“ وغیرہ وغیرہ، یہ سب جلا دینے کے قابل ہیں، تعجب ہے کہ اچھے اچھے عقلمند ان کتابوں سے اپنی اولاد کو نہیں روکتے، بلکہ خود بھی دیکھتے ہیں اور بار بار پڑھتے ہیں، بوڑھے بوڑھے آدمی اس خبط میں مبتلا ہیں، اسی طرح جو کتابیں بے اصل ہیں گو دین کی صورت میں ہوں ان کو مت پڑھو، ان کے پڑھنے سے سوائے وقت ضائع کرنے کے اور کیا حاصل ہے؟! اسی جنس سے، ”معراج نامہ“ہے، عورتیں ”معراج نامہ“ بہت پڑھتی ہیں، اور ”معراج نامہ “ بکتے بھی بہت ہیں [كذا في الأصل]، علی ہذا آج کل مولد شریف کے رسالے بہت تصنیف ہو رہے ہیں، ظاہراً یہ کتابیں خیر ہی خیر ہیں،اسی وجہ سے لوگ ان پر بہت گر ویدہ ہیں، اور منع کرنا بھی ظاہراً سوء ادب معلوم ہوتا ہے، اور ظاہر بین اور نا واقف اور جاہل لوگ منع کر نے والوں کے مخالف بھی ہو جاتے ہیں، اور ان کو بے ادب اور گستاخ سمجھتے ہیں، حالانکہ درحقیقت وہ مانعین گستاخ نہیں، ان کے اس ممانعت کا سبب گستاخی اور بے ادبی نہیں، بلکہ اس کا اصلی سبب شان تحقیق اور ادب ہے، وہ اس کو پسند نہیں کرتے کہ غیر واقعی مضامین اللہ اور رسول کی طرف سے منسوب کئے جائیں، کیونکہ اللہ اور رسول ﷺ نے خود ہی اس کو منع فرمایا ہے “[1]۔
حوالہ جات
[1] خطبات حکیم الامت :اپنی اولاد کو غیر مستند کتب کے مطالعہ سے روکیے ، ۲۶/۳۲۳، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔
ملتی جلتی احادیث
بعض کتابیں جن میں بے اصل، اور گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔
آج کل مزاج پلٹ گئے ہیں کہ من گھڑت روایات ہی کو پسند کر تے ہیں، قصے بھی پڑھتے ہیں تو وہ، جو بالکل فرضی اور جھوٹ ہیں، اور سچے قصے پسند ہی نہیں آتے، یہ عجیب غلطی ہے۔
من گھڑت روایات کے ساتھ اللہ اور رسول ﷺ کا نام لگا دینے سے ان کا پڑھنا جائز نہیں ہوتا، بلکہ یہ تو عین گستاخی اور معصیت ہے۔
کسی کا کلام یا کتاب سننے یا دیکھنے سے اس کے مصنف کا خفی اثر قلب پر پڑتا ہے۔
من گھڑت روایات لکھنے والا، پڑھنے والا، شائع کرنے والا سب گنہگار ہیں۔