حضور اکرم ﷺ کا کعب بن اشرف اور اس کے رفقاء کی آنکھوں سے مستور ہوجانا کہیں نظر نہیں پڑا۔
تفصیل
’’سوال: کعب بن اشرف نے جو حضور اکرم ﷺ کی سازش کی اس میں یہ حصہ [كذا في الأصل] کہ اس نے حضور اکرم ﷺ کو بلایا اور اپنے ساتھیوں کو پہلے سے قتل کرنے کو کہہ دیا تھا مگر حضور ﷺ ان کی نظروں سے مستور ہوگئے، اور جب بھی وہ قتل کا ارادہ کرتے تو ان کو کعب بن اشرف کی صورت نظر آتی اس لئے قتل نہ کرسکے، اس کے حوالہ کی ضرورت ہے، جو غالبا ’’فتح الباری‘‘ یا ’’عینی‘‘ میں ہے، میرے پاس یہ کتابیں نہیں ہیں ۔
جواب: حضور اکرم ﷺ کا کعب بن اشرف اور اس کے رفقاء کی آنکھوں سے مستور ہوجانا کہیں نظر نہیں پڑا، علامہ سیوطی l نے بھی ’’خصائص کبری‘‘ میں یہ واقعہ نہیں لیا، فاللہ اعلم۔
ہاں سیوطی l نے ایک اور واقعہ ذکر کیا ہے کہ جب سورۂ تبت نازل ہوئی تو ابولہب کی بیوی ایک پتھر لے کر حضور اکرم ﷺ کو نعوذ باللہ مارنے چلی تھی، صدیق اکبر r آپ کے پاس تھے، گھبرا گئے، لیکن جب وہ آئی تو حضور اکرم ﷺ اس کو نظر نہیں آئے‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1]الیواقیت الغالیۃ:چند احادیث کا ثبوت،۲/۱۹۲۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’تمہاری دنیا میں سے میرے لئے تین چیزیں محبوب بنائی گئی ہیں: خوشبو، عورتیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے‘‘،محدثین کی ایک جماعت کے نزدیک اس روایت میں لفظِ ’’ثلٰث‘‘ ثابت نہیں ہے۔
یہ حدیث جو عمر بن خیام جنّی کے نام سے شائع کی جارہی ہے متعدد وجوہ سے غیر معتبر ہے۔
۳ - اس کے تحت دو اجزاء ہیں
روایت: ’’×الصدق ينجي، والكذب يهلك÷. سچ نجات دیتا ہے، اور جھوٹ ہلاک کرتا ہے‘‘۔
یہ لفظ بھی تلاش کے باوجود اب تک نہیں ملا، البتہ حضرت کعب r کا غزوہ تبوک میں شرکت نہ کرنا اور پھر سچ سچ خدمت نبویہ میں عرض کردینا اس روایت کے معنی کی صحت کی دلیل ہے۔
۴ - جزء روایت
×لولاك لما خلقت الأفلاك÷.
یہ لفظ کہیں ثابت نہیں ہے،اور حقیقت یہ ہے کہ کوئی روایت اس مضمون کی ثابت نہیں ہے۔