۳ - اس کے تحت دو اجزاء ہیں
1 جزء روایت:
’’ أول ماخلق الله نوری‘‘.
سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے میرے نور کو پیدا کیا ہے‘‘۔
ظن غالب یہ ہے کہ یہ الفاظ سید الرسلﷺ کے نہیں ہیں، بلکہ لوگوں کےایجاد کردہ ہیں۔
2 جزء روایت:
’’إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم یکن یرى له ظل في شمس ولا قمر‘‘.
تفصیل
قدِ انور ﷺ کے سایہ نہ ہونے کی روایات غیر مستند ہیں، اسانیدِ معتبرہ حسنہ میں رسول اللہ ﷺ کے قد مبارک کے لئے سایہ وظل ہونا مذکور ہے۔
ایک دوسرے انداز سے
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیۃ: حضور ﷺ کا سایہ تھا یا نہیں؟ ۱/۶۳ـ ۷۰۔
علامہ عبد الحی لکھنوی l ’’الآثارالمرفوعۃ‘‘(ص:۴۴) میں مذکورہ روایت کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وقد اشتهر بين القصاص حديث: أول ما خلق الله نوري، وهو حديث لم يثبت بهذا المبنى وإن ورد غيره موافقاً له في المعنى....‘‘. قصہ گو میں یہ حدیث مشہور ہے: اللہ نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا کیا ہے،حالانکہ یہ روایت اس بنیاد (ان الفاظ)سےثابت نہیں ہے،اگرچہ اس کے ہم معنی دوسری روایت منقول(ثابت) ہے۔۔۔‘‘۔
حضرت لکھنوی l کے کلام ’’اس کے ہم معنی دوسری روایت منقول (ثابت) ہے‘‘سے مرادیہ ہے کہ یہ روایت ان الفاظ سے ثابت نہیں ہے، البتہ اس کی ہم معنی دیگر روایات منقول ہیں،جن میں آپ ﷺ کی ’’اولیت‘‘ ان الفاظ کے علاوہ دوسرے الفاظ سے ثابت ہے،مثلاً: چند سطرآگے علامہ عبدالحی لکھنوی l ہی لکھتے ہیں: ’’نعم ثبت .... متى كنت نبيا؟ قال: و آدم بين الروح والجسد‘‘.البتہ یہ ثابت ہے ....آپ ﷺ نے فرمایا: میں نبی تھا در حالیکہ آدم e روح اور جسم کے درمیان تھے۔
فائدہ:علامہ عبداللہ بن صدیق غماریl نے ’’المرشد الحائر لبیان وضع حدیث جابر‘‘ (ص:۹) میں اس روایت کو من گھڑت،بے اصل کہا ہےاور یہ بھی تصریح کی ہے کہ یہ روایت امام عبدالرزاق l کی کسی تصنیف میں نہیں ہے، تفصیل کےلئے دیکھئے: ’’غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ‘‘، حصہ دوم، ص: ۱۵۳۔
[2] الیواقیت الغالیۃ: میں اللہ کے نور سے پیدا کیا گیا، کی تحقیق،۲/۲۰۸،۲۰۶۔
[3] الیواقیت الغالیۃ: أول ماخلق الله نورى کیا حدیث ہے،۲/ ۴۱۲،۴۱۱۔
[4] الیواقیت الغالیۃ:الصلوة معراج المؤمن، الخ،۲/۶۲ - ۶۶۔
[5]الیواقیت الغالیۃ:حضور ﷺ کا سایہ،۱/۲۹۸۔
[6] الیواقیت الغالیۃ: کیا حضور ﷺ کا سایہ تھا،۲/ ۳۷۳، ۳۷۴۔
[7] الیواقیت الغالیۃ:سرور کائنات ﷺ کا سایہ،۲/۲۴۶۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’اللہ نے عقل کو پیدا کر کے اس سے کہا: آگے ہوجاؤ، عقل آگے ہوگئی، پھر اللہ نے فرمایا: پیچھے ہوجاؤ، عقل پیچھے ہوگئی، اور فرمایا کہ یہ دو کتابیں رب العالمین کی جانب سے ہیں‘‘،یہ من گھڑت ہے۔
روایت : ’’آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ روزِ قیامت دیگر تمام لوگوں کے لیے عمومی تجلی فرمائیں گے، اور اے ابوبکر! آپ کے لئے خصوصی تجلی فرمائیں گے‘‘، اس کےتمام طرق معلول ہیں، ائمہ فن نے ان کے بطلان کا حکم لگایا ہے۔
روایت: ’’ایک گھڑی کا غور و فکر ساٹھ یا اسّی سال کی عبادت سے افضل ہے‘‘۔
اس کے الفاظ تو ثابت نہیں ہیں،لیکن معنی ثابت ہے
۱ – جزء: عمامہ کے فضائل
روایت: ’’تمہاری دنیا میں سے میرے لئے تین چیزیں محبوب بنائی گئی ہیں: خوشبو، عورتیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے‘‘،محدثین کی ایک جماعت کے نزدیک اس روایت میں لفظِ ’’ثلٰث‘‘ ثابت نہیں ہے۔