روایت: ’’اللہ تعالی کا ولی حور عین میں سے اپنی زوجہ کے ساتھ تخت پربیٹھا ہوگا جو کہ سرخ یاقوت کا ہوگا، اور اس پر نور کے قبے ہوں گے، سو اس وقت وہ اپنی بیوی سے کہے گا کہ میں تمہاری چال کا مشتاق ہوں، فرمایا کہ وہ سرخ یاقوت کے تخت سے اتر کر سبز مرجان کے باغ کی طرف چلے گی ، اور اللہ عزوجل اس کےلئے اس باغیچے میں دو نور کے راستے پیدا فرمادیں گے، ان میں سے ایک راستہ زعفران کا ہوگا، اور دوسرا کافور کا ہوگا، وہ زعفران کے راستے پر چلے گی اور کا فور کے راستے سے لوٹے گی، اور وہ ناز ونخرے کے ستر ہزار طریقوں سے چلے گی‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] بستان الواعظين ورياض السامعين:ص:132،رقم:227،ت:أيمن البحيري،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت.
[2] مسند أحمد:ص:18/243،رقم:11715،ت:شعيب الأرنؤوط، مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى 1421هـ .
[3] الترغيب والترهيب من الحديث الشريف:۴/2۹4،رقم:۸۲ ،ت:إبراهيم شمس الدين،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1424هـ .
[4] مجمع الزوائدومنبع الفوائد:10/419،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’روز قیامت سب سے پہلے آدمی کی گھر والی اور اس کی اولاد اس سے چمٹ جائے گی، سو وہ اسے اللہ تعالی کے روبرو کھڑا کریں گے، اور کہیں گے: اے ہمارے رب! اس سے ہمیں ہمارا حق دلائیں، کیونکہ اس نے ہمیں ان چیزوں کی تعلیم نہیں دی تھی جس سے ہم ناواقف تھے ، اور یہ ہمیں حرام کھلاتا تھا، اور ہمیں اس کا علم نہیں تھا ، فرماتے ہیں:سو ان کو اس سے بدلہ دلایا جائے گا ‘‘۔
روایت: ’’آپ s کا ارشاد ہے: قیامت کی علامات میں سے ہےکہ خاوند اپنی بیویوں کو طلاق دیں گے ، اور پھر رجوع کئے بغیر ان کے ساتھ اسی طرح اپنی زندگی گزاریں گے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’من جاع أو احتاج، فكتمه الناس وأفضى به إلى الله عز وجل، كان حقا على الله عز وجل أن يفتح له رزقا حسنا من حلال‘‘. جو شخص بھوکا ہو یا محتاج ہو اور اپنی حاجت کو لوگوں سے چھپائے، اور اسے اللہ عز وجل کے سامنے پیش کرے، تو اللہ تعالی کے ذمہ ہے کہ اس کو ایک سال کی روزی حلال طریقہ سے عطا فرمائیں گے‘‘۔
روایت: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایک جنگ کے دوران قلعہ فتح نہیں ہورہا تھا، آپس میں مشورہ کرنے سے معلوم ہوا کہ ہم سے مسواک کی سنت چھوٹ رہی ہے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مسواک کرنا شروع کردیا، جب دشمنوں نے یہ دیکھا کہ یہ لوگ تو اپنے دانت تیز کررہے ہیں، وہ تو ہمیں کچا ہی کھا جائیں گے، تو وہ ڈر کر بھاگ گئے اور مسواک کی سنت کی وجہ سے قلعہ فتح ہوگیا۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ اپنے ایک صحابی rکے ساتھ جھاڑی میں داخل ہوئے، آپ ﷺ نے ایک درخت سے دو مسواکیں توڑیں، ان میں سے ایک ٹیڑھی اور دوسری سیدھی تھی، آپ ﷺ نے سیدھی مسواک اپنے صحابی rکو دے دی، اور ٹیڑھی مسواک خود رکھ لی، تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سیدھی مسواک کے مجھ سے زیادہ حق دار ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ہر گز نہیں، جب بھی کوئی شخص کسی کی مصاحبت اختیار کرتا ہے اگرچہ وہ دن کی ایک گھڑی ہو، اللہ عزوجل قیامت کے دن اس سے اس کی مصاحبت کے متعلق سوال کریں گے، سو میں یہ چاہتا ہوں کہ میں کسی چیز میں اپنے آپ کو آپ پر ترجیح نہ دوں‘‘۔