التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (گیارہواں حصہ)

41 احادیث ملیں

روایت: ایک حدیث میں آیا ہے: ’’ پہلی امتوں میں ایک بزرگ ریت کے ایک ٹیلہ سے گزرے، گرانی کا زمانہ تھا، وہ اپنے دل میں یہ تمنا کرنے لگے کہ اگر یہ ریت کا ٹیلہ غلہ کا ڈھیر ہوتا تو میں اس سے بنی اسرائیل کو خوب کھلاتا ، حق تعالی شانہ نے اُس زمانہ کے نبی پر وحی بھیجی کہ فلاں بزرگ کو خوشخبری سنادو کہ ہم نے تمہارے لئے اتنا ہی اجر وثواب لکھ دیا جتنا کہ یہ ٹیلہ غلہ کاہوتا ، اور تم اس کو لوگوں میں تقسیم کردیتے‘‘۔

روایت: ایک حدیث میں ہے: ’’جس شخص نے ایک حج کیا اس نے اپنا فرض ادا کیا، اور جس نے دوسرا حج کیا اس نے اللہ تعالی کو قرض دیا، اور جو تین حج کرتا ہے تو اللہ جل شانہ اس کی کھال کو اس کے بال کو آگ پر حرام کردیتے ہیں‘‘۔

روایت: ایک حدیث میں ہے: ’’قیامت کے دن سب سے پہلے خاوند کا بیوی سے سلوک تولا جائے گا، اور بیوی کا خاوند سے سلوک تولا جائے گا‘‘۔

روایت: تراویح کی مشہور دعا: ’’سبحان ذي الملك والملكوت، سبحان ذي العزة والعظمة والهيبة والقدرة والكبرياء والجبروت، سبحان الملك الحي الذي لاينام ولا يموت، سبوح قدوس ربنا ورب الملائكة والروح، اللهم أجرنا من النار، يا مجير،يا مجير،يا مجير‘‘.

روایت: جبرائیل e کا خانہ کعبہ کے غلاف کو پکڑکر دعا کرنا کہ میرے نام اور میرے جسم کو تبدیل نہ فرمانا۔

روایت: جو شخص نماز فجر اور مغرب کے بعدیہ درود شریف پڑھے: ’’اللهم صل على محمد صلاة تكون لك رضا ولحقه أداء‘‘، تو حضور ﷺ کی قبر اور پڑھنے والے کی قبر کے درمیان طاقچہ کھول دیا جائے گا۔

روایت: حضرت عثمان r فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے’’ لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ‘‘کی تفسیر کے متعلق پوچھا، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کی تفسیر ’’لاالہ الااللہ، اللہ اکبر، سبحان اللہ، الحمد للہ، استغفر اللہ، لا حول ولا قوۃ الاباللہ، الاول والآخر، والظاہر والباطن،بیدہ الخیر، یحیی ویمیت،وہو علی کل شیء قدیر‘‘ ہے۔

روایت: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایک جنگ کے دوران قلعہ فتح نہیں ہورہا تھا، آپس میں مشورہ کرنے سے معلوم ہوا کہ ہم سے مسواک کی سنت چھوٹ رہی ہے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مسواک کرنا شروع کردیا، جب دشمنوں نے یہ دیکھا کہ یہ لوگ تو اپنے دانت تیز کررہے ہیں، وہ تو ہمیں کچا ہی کھا جائیں گے، تو وہ ڈر کر بھاگ گئے اور مسواک کی سنت کی وجہ سے قلعہ فتح ہوگیا۔

روایت: موت کے وقت دو شیطانوں کا ماں باپ کی شکل میں آنا اور آدمی کو یہودی یا نصرانی بنانا۔

روایت: ’’أبو الدرداء من الفقهاء العلماء الذين يشفون من الداء‘‘. ابو درداء r ان فقہاء علماء میں سے ہیں، جو لوگوں کو بیماری سے شفاء دیتے ہیں۔