التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (گیارہواں حصہ)

روایت: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایک جنگ کے دوران قلعہ فتح نہیں ہورہا تھا، آپس میں مشورہ کرنے سے معلوم ہوا کہ ہم سے مسواک کی سنت چھوٹ رہی ہے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مسواک کرنا شروع کردیا، جب دشمنوں نے یہ دیکھا کہ یہ لوگ تو اپنے دانت تیز کررہے ہیں، وہ تو ہمیں کچا ہی کھا جائیں گے، تو وہ ڈر کر بھاگ گئے اور مسواک کی سنت کی وجہ سے قلعہ فتح ہوگیا۔

تفصیل

حوالہ جات

[1] مشارع الأشوق إلى مصارع العشاق:1/577،ت:إدريس محمد علي ومحمد خالد إسطنبولي،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى1410هـ .

[2] صلوة مسعودي:1/85 ،در مطبع پور صوف مطبوع،الطبعة1325هـ .

[3] فضائل مسواک:۶۰،مكتبة خلیل ـ لاهور .

واضح رہے کہ حافظ ابن جریر طبری l نے ’’تاریخ‘‘میں اس موضوع سے ملحق ایک حکایت تخریج کی ہے، جس کی اسناد ’’انتہائی مخدوش‘‘ہے، حکایت ملاحظہ فرمائیں:

’’ كتب إلي السري، عن شعيب، قال: حدثنا سيف، عن النضر، عن ابن الرُفَيل، قال: لما نزل رستم النجف بعث منها عينا إلى عسكر المسلمين، فانغمس فيهم بالقادسية، كبعض من ند منهم، فرآهم يستاكون عند كل صلاة، ثم يصلون، فيفترقون إلى مواقفهم، فرجع إليه فأخبره بخبرهم وسيرتهم، حتى سأله: ما طعامهم؟ فقال: مكثت فيهم ليلة، لا والله! ما رأيت أحدا منهم يأكل شيئا إلا أن يمصوا عيدانا لهم حين يمسون، وحين ينامون، وقبيل أن يصبحوا، فلما سار فنزل بين الحصن والعتيق وافقهم، وقد أذن مؤذن سعد الغداة، فرآهم يتحشحشون، فنادى في أهل فارس أن يركبوا، فقيل له: ولم؟ قال: أما ترون إلى عدوكم قد نودي فيهم، فتحشحشوا لكم، قال عينه: ذلك إنما تحشحشهم هذا للصلاة، فقال بالفارسية، وهذا تفسيره بالعربية: أتاني صوت عند الغداة، وإنما هو عمر الذي يكلم الكلاب، فيعلمهم العقل، فلما عبروا تواقفوا، وأذن مؤذن سعد للصلاة، فصلى سعد، وقال رستم: أكل عمر كبدي‘‘. (تاريخ الطبري تاريخ الرسل والملوك:3/532،ت:محمد أبو الفضل إبراهيم،دار المعارف ـ مصر،الطبعة الثانية1387هـ) .

ابن رُفَیل کہتے ہیں: جب رستم نجف میں داخل ہوا تو اس نے مسلمانوں کے لشکر کی طرف ایک جاسوس بھیجا، وہ جاسوس قادسیہ کے مقام پر لشکر میں مل گیا، جیسا کہ ان میں سے کوئی بھٹک گیا ہو، سو اس نے دیکھا کہ وہ لوگ ہر نماز کے وقت مسواک کرتے ہیں، پھر نماز پڑھتے ہیں، پھر اپنی جگہوں کی طرف چلے جاتے ہیں، وہ جاسوس رستم کی طرف واپس لوٹا اور لشکر کے بارے میں اور ان کے طور طریقہ کے بارے میں خبر دی، یہاں تک کہ رستم نے پوچھا: ان کا کھانا کیا ہے؟ اس نے کہا: میں نے ان میں ایک رات گزاری، اللہ کی قسم! میں نے ان میں سے کسی کو بھی کچھ کھاتے ہوئے نہیں دیکھا، مگر یہ کہ وہ شام کے وقت، سونے کے وقت اور صبح سے پہلے لکڑیاں چوستے رہتے ہیں، پھر جب رستم چل کر قلعہ اور نہر کے درمیان آیا تو اتفاق سے (اسی وقت) سعد r کے مؤذن نے صبح کی اذان دی، اس نے دیکھا کہ وہ اٹھ کر حرکت میں آگئے ہیں، تو اس نے اہلِ فارس کو پکارا کہ سوار ہوجاؤ، کہا گیا کہ کیوں؟ تو کہا: کیا تم اپنے دشمن کی طرف نہیں دیکھتے کہ ان میں آواز لگا دی گئی ہے، وہ اٹھ کر حرکت میں آچکے ہیں، جاسوس نے کہا: ان کا یہ اٹھنا تو نماز کےلئے ہے، رستم نے فارسی میں کہا، اور یہ اس کی عربی میں تفسیر ہے: میرے پاس صبح کے وقت آواز آئی، اور وہ عمر r تھے، اپنے کتوں (معاذ اللہ) سے گفتگو کرکے ان کو عقل سکھا رہے تھے، پھر جب وہ عبور کرکے آگے بڑھے تو اتفاق سے سعد r کے مؤذن نے اذان دی، سعد r نے نماز پڑھی، اور رستم نے کہا: عمر r نے میرا کلیجہ کھالیا ہے۔

سند میں موجود راوی سیف بن عمر تمیمی ضبی کوفی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’تہذیب التہذیب‘‘میں فرماتے ہیں: ’’ت ـ سيف بن عمر التميمي البرجمي، ويقال السعدي، ويقال الضبعي، ويقال الأسدي، الكوفي، صاحب كتاب الردة والفتوح: روى عن عبد الله بن عمر العمري، وأبي الزبير، وابن جريح، وإسماعيل بن أبي خالد، وبكر بن وائل بن داود، وداود بن أبي هند، وهشام بن عروة، وموسى بن عقبة، ويحيى بن سعيد الأنصاري، ومحمد بن إسحاق، ومحمد بن السائب الكلبي، وطلحة بن الأعلم، وخلق، وعنه النضر بن حماد العتكي، ويعقوب بن إبراهيم بن سعد، وعبد الرحمن بن محمد المحاربي، ومحمد بن عيسى الطباع، وجبارة بن المغلس، وجماعة .

قال ابن معين: ضعيف الحديث، وقال مرة: فليس خير منه، وقال أبو حاتم: متروك الحديث، يشبه حديثه حديث الواقدي، وقال أبو داود: ليس بشيء، وقال النسائي والدارقطني: ضعيف، وقال ابن عدي: بعض أحاديثه مشهورة، وعامتها منكرة، لم يتابع عليها، وقال ابن حبان: يروي الموضوعات عن الأثبات، قال: وقالوا: إنه كان يضع الحديث، قلت: بقية كلام ابن حبان: اتهم بالزندقة، وقال البرقاني عن الدارقطني: متروك، وقال الحاكم: اتهم بالزندقة، وهو في الرواية ساقط، قرأت بخط الذهبي: مات سيف زمن الرشيد‘‘. (تهذيب التهذيب:4/295، رقم:506،دائرة المعارف ـ الهند،الطبعة الأولى1325هـ) .

حافظ مغلطای l ’’اکمال‘‘میں فرماتے ہیں: ’’(ت) سيف بن عمر التميمي البرجمي، ويقال: السعدي، ويقال: الضبي، ويقال: الأسيدي الكوفي، صاحب كتاب الردة والفتوح: كذا ذكره المزي، معتقدا المغايرة بين ضبة، وتميم، وسعد، ولا مغايرة، لأن ابن حبيب قال في المحبر: ضبة بن عمرو بن الحارث بن تميم بن سعد بن هذيل، وقال ابن الجارود: ضعيف، يحدث عنه البخاري، وقال الدارقطني فيما حكاه البرقاني: متروك، وقال أبو سعيد النقاش: عامة أحاديثه موضوعة، وقال الحاكم أبو عبد الله: اتهم بالسرقة، وهو في الرواية ساقط، وقال ابن الجوزي في كتاب الموضوعات: هو كذاب بإجماعهم، وذكره أبو العرب، والساجي، والعقيلي، والبلخي في جملة الضعفاء، وقال ابن حبان البستي: اتهم بالزندقة، ويروي الموضوعات عن الأثبات، أبنا محمد بن عبد الله، قال: سمعت جعفر بن أبان، يقول: سمعت ابن نمير، يقول: سمعت سيفا الضبي، وكان جميع يقول: حدثني رجل من بني تميم، وكان سيف يضع الحديث، وكان اتهم بالزندقة، وفي كتاب الصريفيني: يقال توفي بعد السبعين ومائة‘‘. (إكمال تهذيب الكمال:6/194،رقم:2329،ت:عادل محمد وأسامة بن إبراهيم،الفاروق الحديثة،الطبعة الأولى1422هـ) .

سند میں موجود راوی شعیب بن ابراہیم تمیمی کوفی کے بارے میں ائمہ کا کلام

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’لسان الميزان‘‘میں فرماتے ہیں: ’’شعيب بن إبراهيم الكوفي: راوية كتب سيف عنه، فيه جهالة، انتهى، ذكره ابن عدي وقال: ليس بالمعروف، وله أحاديث وأخبار، وفيه بعض النكرة، وفيها ما فيه تحامل على السلف، وفي ثقات ابن حبان: شعيب بن إبراهيم من أهل الكوفة، يروي عن محمد بن أبان البلخي، روى عنه يعقوب بن سفيان، فيحتمل أن يكون هو، والظاهر أنه غيره‘‘. (لسان المیزان:4/247،رقم:3797، ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ حلب،الطبعة الأولى1423هـ) .

نیز سند میں موجود راوی نضر بن سری ضبی اور ابن رُفَیل کا ترجمہ تلاش بسیار کے باوجود کتبِ رجال میں نہیں مل سکا۔