روایت: ’’آپ s کا ارشاد ہے: قیامت کی علامات میں سے ہےکہ خاوند اپنی بیویوں کو طلاق دیں گے ، اور پھر رجوع کئے بغیر ان کے ساتھ اسی طرح اپنی زندگی گزاریں گے‘‘۔
حکم: شدید ضعیف ہے، بیان نہیں کرسکتے۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] المعجم الأوسط:۵/۱۲7،رقم:۴۸۶۱،ت:طارق بن عوض الله،دار الحرمين ـ القاهرة،الطبعة۱۴۱۵هـ .
[2] المعجم الكبير:۱۰/۲۸۱،رقم:۱۰۵۵۶،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،مكتبة ابن تيمية ـ القاهرة .
[3] كتاب الأمالى:2/372،رقم:2803،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴22هـ .
[4] البعث والنشور:ص:97،رقم:74،ت:أبوعاصم الشوامي الأثري،مكتبة دار الحجاز ـ السعودية،الطبعة الأولى ۱۴36هـ .
[5] بغية الطلب في تاريخ حلب:ص:4۳۰۴،ت:سهيل زكار،دار الفكر ـ بيروت .
[6] المعجم الأوسط:۵/۱۲۸،رقم:۴۸۶۱،ت:طارق بن عوض الله،دار الحرمين ـ القاهرة،الطبعة۱۴۱۵هـ .
[7] البعث والنشور:ص:9۸،رقم:74،أبوعاصم الشوامي الأثري،مكتبة دار الحجاز ـ السعودية،الطبعة الأولى ۱۴36هـ .
[8] مجمع الزوائد:۷/۳۲۳،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .
[9] المجروحين:۱/۳۴۷،ت:محمود إبراهيم زايد،,دار المعرفة ـ بيروت .
[10] العلل الواردة في الأحاديث النبوية:1/219،ت:محفوظ الرحمن زين الله السلفي،دار طيبة ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴05هـ .
[11] تذكرة الحفاظ:ص:۷۵،رقم:۱۵۸،ت:حمدي بن عبد المجيد،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۵هـ .
[12] الضعفاء والمتروکین:۲/3۶،رقم:1597،ت:عبد الله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴06هـ .
[13] ميزان الاعتدال:2/۲۵۷،رقم:۳۶۴۰،ت: علي محمد البجاوي،دار المعرفةـ بيروت .
[14] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:1/۶۶،رقم:۷۴،ت:عبد الطيف،عبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1401هـ .
[15] تلخيص المستدرك بذيل المستدرك على الصحيحين:۳/۳۴۳،ت:يوسف عبد الرحمن المرعشلي،دار المعرفة ـ بيروت .
[16] مجمع الزوائد:۷/۳۳۹،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’قربِ قیامت میں لوگ اپنی بیویوں سے زنا کریں گے‘‘۔
روایت: ’’روز قیامت سب سے پہلے آدمی کی گھر والی اور اس کی اولاد اس سے چمٹ جائے گی، سو وہ اسے اللہ تعالی کے روبرو کھڑا کریں گے، اور کہیں گے: اے ہمارے رب! اس سے ہمیں ہمارا حق دلائیں، کیونکہ اس نے ہمیں ان چیزوں کی تعلیم نہیں دی تھی جس سے ہم ناواقف تھے ، اور یہ ہمیں حرام کھلاتا تھا، اور ہمیں اس کا علم نہیں تھا ، فرماتے ہیں:سو ان کو اس سے بدلہ دلایا جائے گا ‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی نے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کو وحی فرمائی کہ فلاں فلاں شہر کو ان میں رہنے والوں پر پلٹ دو، فرشتے نے عرض کیا: اے پروردگار! اس شہر میں آپ کا بندہ ہے جس نے پلک جھپکنے کے بقدر آپ کی نافرمانی نہیں کی، اللہ تعالی نے فرمایا: اس شہر کو اس بندہ پر اور ان پر پلٹ دو، کیونکہ اس کے چہرے پر میری وجہ سے کبھی بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی‘‘۔
روایت: ’’کمیل بن زیاد lفرماتے ہیں: میں ایک مرتبہ حضرت علی بن ابی طالب r کے ساتھ نکلا، جب آپ ایک جنگل پہنچے تو قبرستان کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: اے قبر والو! اے آزمائش والو! اے وحشت والو! تمہاری کیا خبر ہے؟ ہماری خبر تو یہ ہے کہ (تمہارے جانے کے بعد تمہارے) اموال تقسیم ہوگئے، اولادیں یتیم ہوگئیں، بیویوں نے دوسرے خاوند کرلیے، بس یہی ہماری خبر ہے،تمہاری کیا خبر ہے؟ پھر میری طرف متوجہ ہوکر فرمانے لگے، اے کمیل! اگر ان کو جواب دینے کی اجازت ہوتی تو یہ کہتے: ’’بے شک بہترین زادِ راہ تقوی ہے‘‘، پھر رونے لگے اور مجھ سے فرمایا: اے کمیل!قبر عمل کا صندوق ہے، اور موت کے وقت تمہیں معلوم ہوجائے گا‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ اپنے ایک صحابی rکے ساتھ جھاڑی میں داخل ہوئے، آپ ﷺ نے ایک درخت سے دو مسواکیں توڑیں، ان میں سے ایک ٹیڑھی اور دوسری سیدھی تھی، آپ ﷺ نے سیدھی مسواک اپنے صحابی rکو دے دی، اور ٹیڑھی مسواک خود رکھ لی، تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سیدھی مسواک کے مجھ سے زیادہ حق دار ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ہر گز نہیں، جب بھی کوئی شخص کسی کی مصاحبت اختیار کرتا ہے اگرچہ وہ دن کی ایک گھڑی ہو، اللہ عزوجل قیامت کے دن اس سے اس کی مصاحبت کے متعلق سوال کریں گے، سو میں یہ چاہتا ہوں کہ میں کسی چیز میں اپنے آپ کو آپ پر ترجیح نہ دوں‘‘۔