التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

’’حضرت عائشہ R امامِ ثالث (حضرت عثمان r )کو نَعْثَل[بے وقوف بڈھا] کہتی تھیں اور لعنت کرتی تھیں‘‘، معاذ اللہ یہ روافض کا محض طوفانِ بہتان ہے، اہلِ سنت کی کسی کتاب میں یہ بات نہیں۔

تفصیل

’’سوال: ۔۔۔ مگر یہ بتاؤ کہ ام المؤمنین عائشہ R  کس کو امام پہچان کردنیا سے گئیں کہ وہ تو تیسرے خلیفہ کو نعثل کہا کیں[اصل میں اسی طرح ہے]، اور لعنت کیا کیں[اصل میں اسی طرح ہے]، اور چوتھے سے لڑیں۔۔۔‘‘۔

جواب: ’’۔۔۔ اور حضرت عائشہ R نے بھی ذی النورین کو امام جانا، اور یہ جوسائل لکھتا ہے کہ عائشہ R امامِ ثالث کو نعثل[بے وقوف بڈھا] کہتی تھیں اور لعنت کرتی تھیں، معاذ اللہ یہ محض طوفانِ بہتان ہے روافض کا، اہلِ سنت کی کسی کتاب میں یہ بات نہیں، امام کے ساتھ گستاخی ہمارے مذہب میں حرام ہے، البتہ شیعہ کے یہاں یہ عین دین ہے کہ اپنےائمہ کو سب کچھ بنا رکھا ہے،صریح زبان پر لانے سے رُواں [بال]کھڑا ہوتا ہے، اور کوئی اہل عقل باور[یقین] کرسکتا ہے کہ حضرت عائشہ R امامِ ثالث کو لعنت کیا کریں، اور پھر اپنے بھائی سے ہی ان کا قصاص طلب کریں،یہ خبر پاکر کہ قاتلِ خلیفہ میرا بھائی ہے[1]، اور بابت طلبِ قصاص اس قدر تکالیف اٹھائیں، یہ بات خوش ہونے کی ہوتی [اصل میں اسی طرح ہے]، مگر یہ خیالات فاسدہ مجانین وحمقا کے ہیں کہ جن کے اصولِ دین ہی تخیلات پر مبنی ہیں‘‘[2]۔

حوالہ جات

[1] حافظ ابن کثیر l نے فرمایا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ حضرت عثمان r کو محمد بن ابو بکر کے علاوہ کسی اور نے شہید کیا ہے،(البدایہ والنہایہ:۱۰/۳۰۸)،عبارت یہ ہے:

{ويروى أن محمد بن أبي بكر طعنه بمشاقِصَ في أذنه حتى دخلت في حلقه، والصحيح أن الذي فعل ذلك غيره وأنه استحىی ورجع حين قال له عثمان: لقد أخذت بلحية كان أبوك يكرمها. فتذمم من ذلك وغطى وجهه ورجع وجاحف دونه فلم يُفِد، وكان أمر الله قدرا مقدورا وكان ذلك في الكتاب مسطورا}.

[2] تالیفات رشیدیہ : سوال ششم، جواب سوال ششم، ص: ۵۷۹ ـ۵۸۱، ادارہ اسلامیات لاہور ۔

علامہ آلوسی l  نے ’’روح المعانی‘‘ (۲۲/۱۱)میں اس حکایت کو باطل، بے اصل کہاہے،حکایت کی سند والفاظ امام  ابن جریر طبری l کی ’’تاریخ الرسل و الملوک‘‘ (۴/۴۵۹)میں موجود ہیں،ملاحظہ ہو:

{كتب إلي علي بن أحمد بن الحسن العجلي أن الحسين بن نصر العطار قال: حدثنا أبي نصر بن مزاحم العطار، قال: حدثنا سيف بن عمر، عن محمد بن نُويرة وطلحة بن الأعلم الحنفي، قال: وحدثنا عمر بن سعد عن أسد بن عبدالله عمن أدرك من أهل العلم أن عائشة رضي الله عنها لما انتهت إلى سَرِف راجعة في طريقها إلى مكة لقيها عبد بن أم كلاب -وهو عبد بن أبي سلمة ينسب إلى أمه - فقالت له: مَهْيَم؟

 قال: قتلوا عثمان رضي الله عنه فمكثوا ثمانيا، قالت ثم صنعوا ماذا؟ قال أخذها أهل المدينة بالاجتماع فجازت بهم الأمور إلى خير مجاز اجتمعوا على علي بن أبي طالب، فقالت: والله ليت أن هذه انطبقت على هذه إن تم الأمر لصاحبك! ردوني ردوني، فانصرفت إلى مكة وهي تقول: قُتِل والله عثمان مظلوما، والله لأطلبن بدمه، فقال لها ابن ام كلاب: ولم؟ فوالله إن أول من أمال حرفه لأنت، ولقد كنت تقولين اقتلوا نعثلا فقد كفر، قالت: إنهم استتابوه ثم قتلوه، وقد قلت وقالوا، وقولي الأخير خير من قولي الأول، فقال لها ابن أم كلاب:

            فمنك البِدَاء ومنك الغِيَرْ                              ومنك الرِياح ومنك المَطَرْ

وأنتِ أمرتِ بقتل الإمام                                 وقلتِ لنا إنه قد كَفَر

فَهَبْنَا أطعناكِ في قتله                                      وقاتله عندنا من أمَر

ولم يسقط السَقْفُ من فوقنا           ولم تنكسف شمسُنا والقمر

وقد بايع الناس ذا تُدْرَإ                              يزيل الشَبَا ويقيم الصَعَر

ويلبس للحرب أثوابها                       وما مَنْ وَفَى مثل مَنْ قد غَدَر

 فانصرفت إلى مكة، فنزلت على باب المسجد فقصدت للحجر فسترت واجتمع إليها الناس فقالت: يا أيها الناس! إن عثمان قتل مظلوما ووالله لأطلبن بدمه....».

سند میں موجود نصر بن مزاحم کوفی کو حافظ ذہبی l نے  ’’جلد رافضی ترکوہ‘‘ (کٹررافضی،محدثین نے اسے ترک کردیا تھا) کہا ہے(میزان: ۴/۲۵۳)۔ 

ملتی جلتی احادیث