”قصہ جس میں روح قبض کرنے والے فرشتے نے غلطی سے ایک دوسرے شخص کی روح قبض کر لی تھی“، یہ بالکل لغو قصہ ہے۔
تفصیل
”۔۔۔ فرمایا کہ بعضے قصے جو مشہور ہیں کہ کوئی شخص مر گیا،اور تھوڑی دیر میں وہ زندہ ہو گیا، اور دوسرا اس نام کا مر گیا، اور اس زندہ ہونے والے نے بیان کیا کہ مجھ کو کسی مقام پر لے گئے، وہاں حکم ہوا کہ نہیں اس کو نہیں بلایا، بلکہ فلانے کو بلایا تھا، تو فرمایا کہ بالکل لغو قصے ہیں، عزرائیلe غلطی نہیں کر سکتے۔۔۔“[1]۔
حوالہ جات
[1] ملفوظات حکیم الامت : عزرائیل ؑ جان قبض کرنے میں غلطی نہیں کرتے ، ۱۳/۱۷۵،ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان۔
ملتی جلتی احادیث
یہ قصہ کہ حضرت علی r نے اپنے صاحبزادے کو کسی سائل کو دے دیا اور اس نے بیچ ڈالا، بالکل غلط ہے اور لغو ہے۔
بعض کتابیں جن میں بے اصل، اور گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔
آج کل مزاج پلٹ گئے ہیں کہ من گھڑت روایات ہی کو پسند کر تے ہیں، قصے بھی پڑھتے ہیں تو وہ، جو بالکل فرضی اور جھوٹ ہیں، اور سچے قصے پسند ہی نہیں آتے، یہ عجیب غلطی ہے۔
”قصہ جس میں حضرت غوث پاک l نے ایک بڑھیا کے اپنے مرے ہوئے فرزند کے زندہ کرنے کے مطالبے پر ملک الموت سے روحوں کا تھیلا چھین لیا“، یہ حکایت غلط منسوب ہے۔
سکندر رومی کا قصہ،جس میں یہ ہے کہ وہ آبِ حیات کی تلاش میں گیا، غلط ہے۔