”قصہ جس میں حضرت غوث پاک l نے ایک بڑھیا کے اپنے مرے ہوئے فرزند کے زندہ کرنے کے مطالبے پر ملک الموت سے روحوں کا تھیلا چھین لیا“، یہ حکایت غلط منسوب ہے۔
تفصیل
”۔۔۔ حضرت غوث پاک l کی طرف ایسی ایسی حکایتیں منسوب کی ہیں کہ خدا کی پناہ، چنانچہ ایک بڑھیا کا قصہ ہے کہ اس نے اپنے مرے ہوئے فرزند کے زندہ ہونے کی آپ l سے دعا چاہی،آپ l نے دعا کی تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ اس کی عمر ختم ہو چکی تھی اب زندہ نہیں ہو سکتا، آپ l نے کہا کہ اگر عمر ختم نہ ہو چکی تو پھر آپ سے ہی کیوں کہتے، مگر پھر بھی دعا قبول نہ ہوئی، آپ l نے غصہ میں آکر ملک الموت کا تھیلا جس میں روحیں لئے جارہے تھے چھین کر کھول دیا،سب روحیں نکل بھاگیں، اور سب مردے زندہ ہوگئے، ملک الموت نے اللہ میاں سے شکایت کی، ارشاد ہوا کہ ہمارا محبوب ہے جانے دو ۔۔۔“[1]۔
حوالہ جات
[1] ملفوظات حکیم الامت :ملفوظات ۳۰،رمضان ۱۳۳۶ھ، ۱۹/۱۰۷،ادارہ تالیفات اشرفیہ،ملتان ۔
ملتی جلتی احادیث
حکایت کہ حضرت غوث الاعظم l خود حضور ﷺ کی گیار ہویں کیا کر تے تھے، یہ ثابت نہیں ہے۔
حضرت حکیم الامت l کی علمی و اصلاحی خدمات کا اجمالی تعارف
دورانِ نماز حضرت علی r کے بدن سے تیر نکالنے والا مشہور قصہ، بے اصل ہے۔
حضرت سیدنا داؤد e اور اُورِیا کا قصہ، محض بے اصل ہے۔
قصہ جس میں شہد میں ایک بال دیکھ کر خلفاء اربعہ رضی اللہ عنہم نے اس کی مثال بیان کی، یہ مہمل قصہ ہے۔