”معراج نامہ “، ”ساپن نامہ“، ”وفات نامہ“، یہ سب قصے من گھڑت ہیں۔
تفصیل
”کسی نے خوب کہا ہے خاموشی معنی دارد کہ گفتن نمی (خاموشی ایسے معنی رکھتی ہے جو بیان میں نہیں آسکتے) اسی طرح زبان کے اور بھی گناہ ہیں جن کو لوگ جانتے بھی نہیں، بلکہ بعضے گناہ ایسے بھی ہیں جن کو عام لوگ طاعت سمجھتے ہیں، کیونکہ وہ ذکر اللہ ہے اور ذکر الرسول ﷺ ہیں،مگر حقیقت میں وہ ذکرِ موضوع روایات ہیں، اس میں پڑھے لکھے بھی مبتلا ہیں (پڑھے لکھوں سے مراد معمولی پڑھے لکھے ہیں، ورنہ کامل، اہل ایسی غلطیوں میں کیوں مبتلا ہو تے؟!) اس کی یہ مثالیں ہیں کہ ”معراج نامہ“ پڑھنا، ”ساپن نامہ“ پڑھنا، ”وفات نامہ“ پڑھنا کہ یہ سب قصے موضوع ہیں، کسی معمولی آدمی کی طرف بھی غلط بات کی نسبت برا ہے، دنیا میں بھی اس پر گرفت ہوتی ہے،چہ جائیکہ رسول اللہ ﷺ کی طرف غلط باتیں منسوب کی جائیں۔۔۔“[1]۔
حوالہ جات
[1] خطبات حکیم الامت : خاموشی کے منافع ، ۲۶/۳۱۵، ادارہ تالیفات اشرفیہ،ملتان ۔
ملتی جلتی احادیث
بعض کتابیں جن میں بے اصل، اور گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔
وعظ میں رنگ بھرنے کے لئے رنگین،من گھڑت روایات بیان کی جاتی ہیں، علماء وعارفین کے نزدیک اس سے انوار نہیں بلکہ نار برستی ہے۔
من گھڑت روایات لکھنے والا، پڑھنے والا، شائع کرنے والا سب گنہگار ہیں۔
کسی من گھڑت روایت کے بارے میں یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ قرآن و حدیث میں آئی ہے، افتراء علی الشرع ہے اور محض جہالت اور بدعت ہے۔
آج کل مزاج پلٹ گئے ہیں کہ من گھڑت روایات ہی کو پسند کر تے ہیں، قصے بھی پڑھتے ہیں تو وہ، جو بالکل فرضی اور جھوٹ ہیں، اور سچے قصے پسند ہی نہیں آتے، یہ عجیب غلطی ہے۔