مشہور مصرع کہ ”فلک پر دھوم تھی احمد رسول اللہ ﷺ آتے ہیں“، یہ جھوٹ ہے، حدیث ِ بخاری کے خلاف ہے۔
تفصیل
مصرع مشہور ہوا کہ”فلک پر دھوم تھی احمد رسول اللہ ﷺ آتے ہیں“، ایک عالم فاضل نے کہا تھا : یہ جھوٹ ہے، حدیثِ بخاری کے خلاف ہے، اس میں ہے: {استفتح جبرئیل، قیل: من معك؟} [جبرائیل e نے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا کہ آپ کے ساتھ کون ہے؟] ان کو خبر ہی نہ تھی، دھوم کہاں؟[1]۔
حوالہ جات
[1] ملفوظات حکیم الامت :معراج کے متعلق ایک غلط قصہ ، ۱۵/۷۶،ادارہ تالیفات اشرفیہ،ملتان ۔
ملتی جلتی احادیث
آج کل مزاج پلٹ گئے ہیں کہ من گھڑت روایات ہی کو پسند کر تے ہیں، قصے بھی پڑھتے ہیں تو وہ، جو بالکل فرضی اور جھوٹ ہیں، اور سچے قصے پسند ہی نہیں آتے، یہ عجیب غلطی ہے۔
مقدمہ
جو کشف قرآن وحدیث کے خلاف ہو، وہ بالکل غلط ہے۔
دورانِ نماز حضرت علی r کے بدن سے تیر نکالنے والا مشہور قصہ، بے اصل ہے۔
یہ کہنا کہ حضرت حمزہ r پندرہ شعبان کو فوت ہوئے ہیں، درست نہیں، بلکہ آپ r شوال میں فوت ہوئے ہیں۔