’’جس نے سورۂ عنکبوت اور سورۂ روم تئیسں رمضان کی رات کو پڑھی تو وہ جنت والوں میں سے ہوگا‘‘، اغلب یہ ہے کہ یہ روایت من گھڑت ہے۔
تفصیل
سوال: ایک شخص کا یہ معمول ہے کہ ماہِ رمضان کی تیئیسویں کو، بعد نمازِ تراویح، سورۂ عنکبوت اور سورۂ روم کو پڑھ کر پانی پر دم کر کے خود بھی پیتا ہے اور سب کو پلاتا بھی ہے، اور اس کا مستدل ایک حدیث ہے، جس کو ’’انیس الواعظین‘‘ میں بایں طور بیان فرمایا ہے: {رسول گفت عليه السلام: من قرء [کذا في الأصل] سورة العنکبوت وسورة الروم فی لیلة الثلاثة والعشرین من رمضان فهو من أهل الجنة}. [رسول e کا ارشادہے: جس نے سورۂ عنکبوت اور سورۂ روم تئیسں رمضان کی رات کو پڑھی تو وہ جنت والوں میں سے ہوگا]شیخ المشائخ رکن الدین والحق ابو الفتح فیض اللہ قدس سرّہ ملک بہرام سراج الدین فرمود اگر خواہی دربہشت بیشک درآئی دو سورۂ مذکور درشب بست وسوم ماہ رمضان بخوان، پس ارشاد ہو کہ آیا شخص مذکورہ کا یہ فعل صحیح اور جائز ودرست ہے یا نہیں ؟
جواب: فضائلِ سورِ قرآن میں جس قدر احادیث ہیں بجز چند احادیث کے سب موضوع ہیں، احادیثِ صحیحہ میں سورۂ فاتحہ، سورۂ ملک، سورۂ کہف، سورۂ اخلاص، سورۂ کافرون والمعوذتین، وسورۂ الٓم سجدہ، وسورۂ دخان، وسورۂ الفتح، وسورۂ یسٓں کی فضیلت تو آئی ہے مگر وہ بھی محض تلاوت کی فضیلت ہے، کوئی مہینے یا دن یا تاریخ کی قید نہیں، اور سورۂ الروم اور سورۂ العنکبوت کی جو فضیلت قیود مذکورہ کے ساتھ ’’انیس الواعظین‘‘ سے نقل کی گئی ہے احادیثِ صحیحہ میں نظر سے نہیں گذری، اغلب یہ ہے کہ موضوع ہے۔
پس جب تک حدیث کا صحیح ہونا معلوم نہ ہوجائے اس وقت تک اس فضیلت کا اعتقاد جائز نہیں، نہ اس پر عمل کرنا جائز، اور ’’انیس الواعظین‘‘ کی روایات معتبر نہیں، واللہ تعالیٰ اعلم! {وقد صرح أئمة الحدیث بأن الحدیث الذي فيه فضائل السور موضوع، ذکره السیوطي في اللآلئ المصنوعة فقط}[1]. [ائمہ حدیث نے وضاحت کی ہے کہ وہ حدیث جس میں مختلف سورتوں کے فضائل ہیں وہ موضوع ہے، اسے سیوطی l نے ’’اللآلیٔ المصنوعہ‘‘ میں ذکر کیاہے]۔
حوالہ جات
[1] امدادالاحکام: انیس الواعظین کی ایک روایت متعلق فضائل سورۂ عنکبوت، ۱/۲۴۶، مکتبہ دار العلوم کراچی۔
ملتی جلتی احادیث
’’ ۲۳ رمضان کی تراویح کے بعد سورۂ عنکبوت اور سورۂ روم سننے سنانے والوں کا جنتی ہونا‘‘، اس مخصوص طریقہ اور مخصوص ثواب کا احادیث صحیحہ سے کوئی ثبوت نہیں ہے۔
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔
{من جدد قبرا أو تمثالا فقد خرج عن الإسلام}.جس نے کسی قبر یا مجسمہ / تصویر کی تجدید کی وہ اسلام سے نکل گیا‘‘، یہ من گھڑت ہے۔
1 ’’بایزید بسطامی l کاباری تعالیٰ کے اختیار دینے پر مختلف چیزیں مانگنا اور باری تعالی کا انھیں دینے سے عاجز ہونا‘‘[معاذاللہ]۔
2 ’’عثمان ہارونی l کاباری تعالیٰ سے روٹھ کر کافر،پھر آپ ﷺ کے منانے پر مسلمان ہونا‘‘ [معاذاللہ]۔
3 ’’حضرت حسین r کے دونوں پاؤں کے نیچے تلووں میں قرآن مجید لکھا ہوا تھا‘‘ [معاذاللہ]۔
4 ’’کلمہ توحید میں دو چیزیں کفر ہیں۔۔۔‘‘ [معاذاللہ]۔
5 ’’بت خانے میں باری تعالی کا خاص بندہ‘‘ [معاذاللہ]۔
6 ’’ایک چور کی حکایت‘‘۔
7 ’’سید عبد القادر l کا اوپر کے ہاتھ سے آسمان اور عصا سے زمین کو تھامنا‘‘ [معاذاللہ]۔
اس وعظ کہنے والے شخص کے کفر میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں، اس کا تمام وعظ سرا سر جہالت اور گمراہی ہے۔
’’فاقہ سے مجبور ہو کر آپ ﷺنے ایک یہودی کے کنویں سے ایک ڈول پر ایک کھجورکے عوض کام کیا، پانچوے ڈول پر رسّی ٹوٹ گئی اور ڈول گر گیا، یہودی نے ایک چانٹا اس زور سے فخر الموجودات ﷺ کو مارا کہ گال سرخ ہوگیا‘‘، مجھے اس کے من گھڑت ہونے کا ڈر ہے۔