’’حضرت علی r کی اجازت کے بغیر کوئی صراط پر سے نہ گزرے گا، نیز قبرمیں سب سے حضرت علی r کی امامت کا سوال کیا جائےگا‘‘، یہ روافض کی روایات ہیں۔
تفصیل
’’سوال: ۔۔۔ایسی صورت میں مقابلہ نفسِ پیغمبرﷺ سے جس کی ایذا رسول کی ایذا ہے، اور اس کی بغیر اجازت صراط پر سے کوئی نہ گزرے گا کہ فصل خطاب میں حضرت شیخ اول سے منقول ہے، اور قبرمیں سب سے ان کی امامت کا سوال کیا جائےگا، اور سدی، آپ کا عالم، ’’سورۂ عَمَّ یَتَسَآلُونَ‘‘ کی تفسیر میں لکھتا ہے، دیکھو تو ایسے شخص کے منکر کس کو امام بنائیں گے؟ پس ایسے کی مخالفت اور مقابلہ کو آپس کی بات کہیں گے، اور بالفرض اگر یہی ہے تو اسی پر ثابت رہو، کفارِ قریش مثل ابولہب وغیرہ سے جو پیغمبر کو اَزَار[اصل میں اسی طرح ہے،بمعنی تکلیف] پہنچے قابلِ معاف جانور یا قاتلِ حضرت ہابیل کو ملامت نہ کرو۔ ۔۔‘‘۔
جواب: ’’۔۔۔ اور روایات سائل کی عبورِ صراط پر سے موقوف اجازت حضرت امیرr پر ہے[1]، اور قبر میں سوالِ امامت حضرت امیرr کا ہوگا[2]، روافض کی روایات ہیں، سدی صغیر رافضی کذاب تھا، اہل سنت پر ان روایات سے حجت لانا جہل ہے۔۔۔‘‘[3]۔
حوالہ جات
[1] حافظ خطیب بغدادی l (دیکھئے لآلی المصنوعہ:۱/۳۴۷)،نیز حافظ ابن جوزی l نے ’’ کتاب الموضوعات‘‘ (۱/۳۹۹)میں،حافظ ذہبی l نے ’’میزان الاعتدال ’’( ۱/۲۸)میں، علامہ سیوطی l نے ’’لآلی المصنوعہ‘‘ (۱/۳۴۷)میں،علامہ ابن عراق l نے ’’تنزیہ الشریعہ‘‘ ( ۱/۳۶۶)میں اور علامہ شوکانی l نے ’’الفوائد المجموعہ‘‘ (۲ /۴۷۲)میں اس روایت (یعنی حضرت علی r کی اجازت کے بغیر کوئی شخص صراط پر سے نہیں گذر سکے گا) کو باطل، من گھڑت کہا ہے، حافظ ذہبی l کی عبارت ملاحظہ ہو: {إبراهيم بن حميد الدينوري. عن ذي النون المصري، عن مالك، بخبر باطل متنه: لم يجز الصراط أحد إلا من كانت معه براءة بولاية علي بن أبى طالب}.
[2] حافظ ابن تیمیہ l نے ’’منہاج السنہ‘‘ ( ۷/۱۴۳)میں اس روایت کو متفق علیہ من گھڑت، جھوٹ قرار دیا ہے،عبارت یہ ہے:
{قال الرافضي: البرهان الرابع عشر. قوله تعالى: وقفوهم إنهم مسؤولون من طريق أبي نعيم عن الشعبي، عن ابن عباس، قال في قوله تعالى: وقفوهم إنهم مسئولون عن ولاية علي. وكذا في كتاب الفردوس عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم. وإذا سئلوا عن الولاية وجب أن تكون ثابتة له، ولم يثبت لغيره من الصحابة ذلك فيكون هو الإمام.
والجواب من وجوه:
أحدها: المطالبة بصحة النقل والعزو إلى الفردوس وإلى أبي نعيم لا تقوم به حجة بإتفاق أهل العلم.
الثاني: أن هذا كذب موضوع بالاتفاق.
الثالث: أن الله تعالى قال: بل عجبت و يسخرون و إذا ذكروا لا يذكرون و إذا رأوا آية يستسخرون وقالوا إن هذا إلا سحر مبين أإذا متنا وكنا ترأبا وعظاما أئنا لمبعوثون أو آباؤنا الأولون قل نعم وأنتم داخرون فإنما هي زجرة واحدة فإذا هم ينظرون وقالوا يا ويلنا هذا يوم الدين هذا يوم الفصل الذي كنتم به تكذبون احشروا الذين ظلموا وأزواجهم وما كانوا يعبدون من دون الله فاهدوهم إلى صراط الجحيم وقفوهم إنهم مسئولون ما لكم لاتناصرون بل هم اليوم مستسلمون وأقبل بعضهم على بعض يتساءلون قالوا إنكم كنتم تأتوننا عن اليمين قالوا بل لم تكونوا مؤمنين وما كان لنا عليكم من سلطان بل كنتم قوما طاغين فحق علينا قول ربنا إنا لذائقون فأغويناكم إنا كنا غاوين فإنهم يومئذ في العذاب مشتركون إنا كذلك نفعل بالمجرمين إنهم كانوا إذا قيل لهم لا إله إلا الله يستكبرون ويقولون أإنا لتاركوا آلهتنا لشاعر مجنون بل جاء بالحق وصدق المرسلين.
فهذا خطاب عن المشركين المكذبين بيوم الدين، وهؤلاء يسألون عن توحيد الله والإيمان برسله واليوم الآخر، وأي مدخل لحب علي في سؤال هؤلاء؟ تراهم لو أحبوه مع هذا الكفر والشرك أكان ذلك ينفعهم، أو تراهم لو أبغضوه أين كان بغضهم له في بغضهم لأنبياء الله ولكتابه ودينه؟ وما يفسر القرآن بهذا، ويقول: النبي صلى الله عليه وسلم فسره بمثل هذا إلا زنديق ملحد متلاعب بالدين قادح في دين الإسلام أو مفرط في الجهل لا يدري ما يقول... }.
[3] تالیفات رشیدیہ :سوال ہفتم،جواب سوال ہفتم، ص: ۵۸۶ ـ۵۹۱، ادارہ اسلامیات لاہور ۔
ملتی جلتی احادیث
’’حضرت عائشہ R امامِ ثالث (حضرت عثمان r )کو نَعْثَل[بے وقوف بڈھا] کہتی تھیں اور لعنت کرتی تھیں‘‘، معاذ اللہ یہ روافض کا محض طوفانِ بہتان ہے، اہلِ سنت کی کسی کتاب میں یہ بات نہیں۔
’’آپ ﷺ نے فرمایا: آدم e نے بحق محمدﷺ، علی r ، فاطمہ R ، حسن r ، اللہ سے سوال کیا تھا‘‘، یہ روایت من گھڑت ہے۔
’’غدیر کے دن حضرت علی r کے بارے میں آپﷺ کے ارشاد {من کنت مولاه فعلي مولاه} پر ایک منافق کی ناگواری اور آسمان سے اس پر پتھر کا برسنا‘‘، پتھر گرنے کا قصہ واہی موضوع ہے۔
بعض مشہورمن گھڑت روایات،نیز غیر مستند کتابیں
’’حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا اپنے جنازہ کو صندوق میں رکھنے کو فرمانا، اور قبر میں دفن کرنے سے منع کرنا، اور یہ فرمانا کہ اونٹنی پر رکھ دیجیو جہاں چاہے لے جاوے گی‘‘، یہ قصہ غلط ہے، بعد انتقال دفن ہوئے۔