سکندر رومی کا قصہ،جس میں یہ ہے کہ وہ آبِ حیات کی تلاش میں گیا، غلط ہے۔
تفصیل
فرمایا : حضرت نظامی l نے سکندر رومی کا قصہ لکھا ہے، اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ وہ آبِ حیات کو گیا، اور یہ بھی لکھا ہے: ؎
مرا خضر تعلیم گر بَوَد دوش
بہ رازے کہ باشد پذیراۓ گوش
یعنی یہ قصہ مجھ کو خضر e نے تعلیم فرمایا، حالانکہ یہ قصہ غلط ہے، کیونکہ جو سکندر آبِ حیات کو گئے تھے وہ سکندر رومی نہ تھے، بلکہ سکندر ذوالقرنین تھے، سکندر رومی کے تو اسلام میں بھی شبہ ہے، اور سکندر ذوالقرنین کے پیغمبر ہونے میں شبہ ہے، تو حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے مکاشفات کے وقت پورے طور پر افاقہ نہیں ہوتا، بلکہ ایک قسم کی غیبت ہوتی ہے، اس وجہ سے سمجھنے میں بہت غلطی ہو جاتی ہے [1]۔
حوالہ جات
[1] ملفوظات حکیم الامت : سکندر رومی کا قصہ ، ۱۰/۲۹۰، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔
ملتی جلتی احادیث
یہ قصہ کہ حضرت علی r نے اپنے صاحبزادے کو کسی سائل کو دے دیا اور اس نے بیچ ڈالا، بالکل غلط ہے اور لغو ہے۔
روایت: {تلك الغرانیق العُلى وإن شفاعتها لتُرْتَجى}. اس قصہ کو قاضی عیاض l اور اکثر محققین نے نقلاً و عقلاً رد کیا ہے۔
حضرت حکیم الامت l کی علمی و اصلاحی خدمات کا اجمالی تعارف
جو کشف قرآن وحدیث کے خلاف ہو، وہ بالکل غلط ہے۔
ہاروت وماروت وزہرہ کا قصہ،نُقَّاد محدثین نے اسے من گھڑت کہا ہے۔