روایت: ’’مومن کے جھوٹے میں شفاء ہے‘‘، یہ لفظ حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ہے،لیکن علامہ سخاوی l وغیرہ کا خیال ہے کہ اس کا مضمون صحیح ہے۔
تفصیل
’’سوال: ×سؤر المؤمن شفاء÷. [مومن کے جھوٹے میں شفاء ہے]
جواب: یہ لفظ حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ہے، لیکن علامہ سخاوی l وغیرہ کا خیال ہے کہ اس کا مضمون صحیح ہے :
×ففي الصحيحين أنه صلى الله عليه وسلم كان إذا اشتكى الإنسان الشيء أو كانت به قَرْحَة أو جرح، قال بإصبعه هكذا - يعني وضع سبابته الأرض ثم رفعها - وقال: بسم الله تربة أرضنا بريقة بعضنا ليشفی سقيمنا بإذن ربنا÷[1]‘‘.
[کیونکہ صحیحین میں ہے کہ جب کوئی شخص آپ ﷺ سے کسی تکلیف کا اظہار کرتا یا اسے کوئی پھوڑا یا زخم ہوتا تو آپ ﷺ اپنی انگلی سےاس طرح کرتے، یعنی شہادت کی انگلی زمین پر رکھ کر پھر اسے اٹھاتے،اور فرماتے: ×بسم الله تربة أرضنا بريقة بعضنا ليشفی سقيمنا بإذن ربنا÷].
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیۃ: ۱۹، احادیث کی تحقیق،۲/۱۲۷،۱۲۸۔
ملاعلی قاری l ’’المصنوع‘‘(ص:۱۰۶،رقم:۱۴۴)میں فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل مرفوع روایت میں نہیں ہے، علامہ نجم الدین غزی l ’’اتقان ما یحسن‘‘ (ص:۲۳۵، رقم:۹۱۵) میں اور علامہ احمد بن عبدالکریم l ’’الجدالحثیث‘‘ (ص:۱۱۶، رقم:۲۰۳) میں لکھتے ہیں کہ یہ حدیث نہیں ہے، علامہ محمد امیر مالکیl ’’النخبۃ البہیۃ ‘‘ (رقم:۱۳۷) میں لکھتے ہیں کہ ان الفاظ کے ساتھ یہ حدیث میں نہیں ہے۔
فائدہ: روایت کی مزید تفصیل جاننے کے لئے دیکھئے : غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ :حصہ اول، ص:۳۳۸ ۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’ گناہ، کفر کا قاصد ہے‘‘۔
میرا (حضرت جونپوری lکا)خیال یہ ہے کہ یہ حدیث نہیں ہے۔
روایت: ’’ کالا جوتا پہننا نسیان کا باعث ہے‘‘، اس بارے میں کوئی حدیث وغیرہ نظر میں نہیں ہے۔
روایت: ناخن کاٹنے کا یہ طریقہ، حدیث میں نہیں ہے، البتہ امام نَوَوِی l کی رائے ہے کہ اس طرح کاٹا جائے۔
۴ - جزء روایت
×لولاك لما خلقت الأفلاك÷.
یہ لفظ کہیں ثابت نہیں ہے،اور حقیقت یہ ہے کہ کوئی روایت اس مضمون کی ثابت نہیں ہے۔
روایت: ’’نمک سے کھانے کی ابتداء کی روایات‘‘،سب معلول ہیں، کسی کا راوی متروک ہے تو کوئی روایت گھڑنے میں متہم ہے۔