التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

ماہِ رمضان کے آخر ی خطبہ میں {الوداع الوداع یا شهر رمضان }، پڑھنا بالکل بے اصل ہے۔

تفصیل

”۔۔۔ بہر حال خواہ کسی قسم کی خوشی ہو سب محمود ومطلوب ہے، باقی رنج کے مطلوب ہونے کی تو کوئی دلیل نہیں ہے، بہر حال رنج  نہ واقع ہے اور نہ اس کی کوئی اصل ہے، پس تاسف اور رنج کرنا اور خطبہ میں {الوداع الوداع یا شهر رمضان} [اے  ماہ  رمضان! الوداع، الوداع]  پڑھنا  بالکل  بے  اصل  ہے ۔

ہاں! رمضان المبارک کے آنے سے پہلے کا تو ایک خطبہ خاصہ منقول ہے، چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ شعبان کے جمعہ اخیرہ میں حضور ﷺ نے خطبہ پڑھا، جس میں فرمایا: {یأیها الناس! قد أظلکم شهر عظیم إلخ}. (اے لوگو! تم پر ایک عظیم المرتبت مہینہ سایہ فگن ہو نے والا ہے ) پس رمضان کے آنے کی خوشی تو ظاہر فرمائی ہے، مگر جانے کا غم ظاہر کرنا اور خطبہ  وداعی  پڑھنا  کہیں  منقول  نہیں ۔۔۔“[1]۔

حوالہ جات

[1] خطبات حکیم الامت : روزہ دار کی خوشیاں،۱۰/۴۲۴  ، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔

علامہ ابو الحسنات عبد الحي لکھنوی ؒ نے لکھا ہے کہ یہ مروجہ طریقہ بدعت سے خالی نہیں،دیکھئے: فتاویٰ عبد الحي ؒ(ص:۵۳۴)۔