روایت: ’’کمیل بن زیاد lفرماتے ہیں: میں ایک مرتبہ حضرت علی بن ابی طالب r کے ساتھ نکلا، جب آپ ایک جنگل پہنچے تو قبرستان کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: اے قبر والو! اے آزمائش والو! اے وحشت والو! تمہاری کیا خبر ہے؟ ہماری خبر تو یہ ہے کہ (تمہارے جانے کے بعد تمہارے) اموال تقسیم ہوگئے، اولادیں یتیم ہوگئیں، بیویوں نے دوسرے خاوند کرلیے، بس یہی ہماری خبر ہے،تمہاری کیا خبر ہے؟ پھر میری طرف متوجہ ہوکر فرمانے لگے، اے کمیل! اگر ان کو جواب دینے کی اجازت ہوتی تو یہ کہتے: ’’بے شک بہترین زادِ راہ تقوی ہے‘‘، پھر رونے لگے اور مجھ سے فرمایا: اے کمیل!قبر عمل کا صندوق ہے، اور موت کے وقت تمہیں معلوم ہوجائے گا‘‘۔
حکم: حضرت علی المرتضی r کی جانب اس حکایت کو منسوب کرنا درست نہیں ہے، تفصیل ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] المجالسة وجواهر العلم:۲/148،رقم:278،ت:أبو عبيدة مشهور بن حسن آل سلمان،دار ابن حزم ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .
[2] تاريخ دمشق:5۰/251،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة 141۷هـ .
[3] مشيخة قاضي القضاة:ص:590،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت، الطبعة الاولى1408هـ .
[4] تاريخ بغداد:۱۴/۱۰۹،رقم:۶۶۱۳،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[5] التاريخ الكبير:۶/۱۶۵،رقم:۸۶۸۲ ،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۲۹هـ .
[6] معرفة الثقات من رجال أهل العلم والحديث ومن الضعفاء وذكر مذاهبهم وأخبارهم:2/447،رقم:2322، ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مطبعة المدني ـ مصر .
[7] الجرح والتعديل:6/۲۴۶،رقم:۱۳۶۳،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .
[8] الضعفاء الكبير:۳/۲۸۶،رقم:1285،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .
[9] الثقات لابن حبان:۸/۴۷۸،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن ـ الهند،الطبعة الاولى۱۳۹۳هـ .
[10] تاريخ الإسلام:5/138،رقم:292،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۴هـ .
[11] الكامل في ضعفاء الرجال:6/251،رقم:1311،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[12] لسان الميزان:۶/۲۱۶،رقم:۵۸۱۹،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[13] امام ابو عبداللہ حاکم l نے ’’المستدرك‘‘میں عمرو بن عبد الغفار کی صرف ایک ہی روایت تخریج کی ہے، اس کے بعد فرماتے ہیں: ’’هذا حديث له طرق عن البراء، ولم يخرجاه‘‘. اس حدیث کے براء r سے کئی طرق ہیں، اور شیخین n نے اس کی تخریج نہیں کی۔ (المستدرك على الصحيحين:۳/۴۳،رقم:۴۳۴۸،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية۱۴۲۲هـ) .
حافظ ذہبی l ’’تلخيص‘‘میں امام حاکم l کی تخریج کردہ حدیث ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’(قلت) كلها ضعيفة عن البراء‘‘. میں کہتا ہوں کہ براء r کی سند سے تمام طرق ضعیف ہیں۔ (تلخيص المستدرك بذيل المستدرك على الصحيحين:۳/۴۰،ت:يوسف عبد الرحمن المرعشلي،دار المعرفة ـ بيروت) .
[14] ذخيرةالحفاظ:ص:۱۱۵۶،رقم:2452ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .
[15] بيان الوهم والإيهام الواقعين في كتاب الأحكام:3/417،ت:الحسين آيت سعيد،دار طيبة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱7هـ .
[16] المغني في الضعفاء:2/۱۴۸،رقم:467۸،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .
[17] ميزان الاعتدال:۳/۲۷۲،رقم:۶۴۰۳،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[18] مجمع الزوائد:4/65،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[19] الكشف الحثيث:20۲،رقم:5۷۲،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .
[20] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:1/93،رقم:355،ت:عبد الوهاب وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .
[21] الكامل في ضعفاء الرجال:3/236،رقم:490 ،ت:عادل أحمد,عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت.
[22] الضعفاء والمتروکین:3/86 ،رقم:313۰،ت:أبو الفداء عبد الله القاضی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۶هـ .
[23] المغني في الضعفاء:2/351،رقم:۵۸۳۸،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۸هـ .
’’المغنی‘‘کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’اتهمه أبو أحمد بن عدي، وقال: عنده عجائب‘‘.
[24] ديوان الضعفاء:ص:367،رقم:3891،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة- مكة،الطبعة الثانية.
[25] تنزيه الشريعة:1/110،رقم:214،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،عبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلميةـ بيروت، الطبعة الثانية1401هـ .
[26] انظر تاريخ بغداد:4/93،رقم:1266،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[27] الكشف الحثيث:240،رقم:۷۰۶،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضةالعربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .
[28] تاريخ عثمان بن سعيد الدارمي:ص:110،رقم:326،ت:أحمد محمد نور سيف،دار المأمون للتراث ـ بيروت .
[29] الجرح والتعديل:۳/۵۰۷،رقم:22۹۸،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعةالأولى1372هـ .
[30] التاريخ الكبير:۳/۲۸۴،رقم:۴۰۲۶،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۲۹هـ .
[31] أحوال الرجال:ص:۴۵،رقم:۱۹،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث اكادمي ـ فيصل آباد باكستان، الطبعة الأولى1411هـ .
[32] ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين:ص:۱۳۸،رقم:۱۴۱۶،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثية ـ مكة المكرمة،الطبعة1387هـ .
[33] الضعفاء والمتروكين:ص:۱۷۷،رقم:۲۰۱،ت،محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .
[34] المجروحين من المحدثين:1/298،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[35] حافظ ذہبیl نے ’’ تذکرة الحفاظ‘‘میں ذکر کردہ حکایت ان الفاظ سے ذکر کی ہے: ’’شبابة بن سوار، أنا يزيد بن عياض، وغير واحد، عن مجالد، عن الشعبي، قال: ما كنت اعرف فقهاء الكوفة إلا أصحاب عبد الله، فقال له قيس الأرقب: أفلا تعرف أصحاب علي؟ فقال: نعم، قال: فتعرف الحارث الأعور؟ قال: نعم، لقد تعلمت منه حساب الفرائض والجد، فخشيت على نفسي منه الوسواس، فلا أدري ممن تعلمه، قال: فهل تعرف ابن صبوة؟ قال: نعم، لم يكن بفقيه، ولم يكن فيه خير، قال: فهل تعرف صعصعة بن صوحان؟ قال: كان رجلا خطيبا، ولم يكن بفقيه .
قال: فهل تعرف رُشَيد الهجري؟ قال الشعبي: نعم، بينما واقف في الهجريين، إذ قال لي رجل: هل لك في رجل يحب أمير المؤمنين؟ قلت: نعم، فأدخلني على رُشَيد، فلما رآني أشار بيده إلي وأنشأ يحدث، قال: خرجت حاجا، فلما قضيت نسكي قلت: لو أحدثت عهدا بأمير المؤمنين، فمررت بالمدينة، فأتيت باب علي، فقلت لإنسان: استأذن لي على سيد المسلمين، فقال: هو نائم، وهو يظن أني أعني الحسن، فقلت: لست أعني الحسن، إنما أعني أمير المؤمنين وإمام المتقين وقائد الغر المحجلين، قال: أوليس قد مات، فقلت: أما والله! إنه ليتنفس الآن بنفس حي، ويعرق من الدثار الثقيل، فقال: أما إذا عرفت سر آل محمد فادخل، وسلم عليه، واخرج، فدخلت على أمير المؤمنين، فأنبأنى بأشياء تكون، فقلت لرشيد: إن كنت كاذبا فلعنك الله، وقمت، وبلغ الحديث زيادا، فبعث إلى رُشَيد فقطع لسانه وصلبه‘‘. (تذكرة الحفاظ:1/65،ت:زكريا عميرات،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۹هـ) .
[36] المؤتلف والمختلف:ص:۱۰۶۶،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،دار الغرب الإسلامي ـ بیروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[37] انظر الضعفاء والمتروکین لابن الجوزي:1/285،رقم:1233،ت:أبو الفداء عبد الله القاضی،دار الکتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .
[38] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:1/۶۰،رقم:۹،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’اللہ عز وجل نے یوشع بن نون eکی طرف وحی بھیجی: میں آپ کی قوم میں سے چالیس ہزار پسندیدہ اور ساٹھ ہزار شریر لوگوں کو ہلاک کرنے والا ہوں، یوشع بن نون e نے عرض کیا: اے رب! شریر لوگ تو سمجھ میں آتے ہیں، پسندیدہ لوگوں کی کیا وجہ ہے؟ اللہ عز وجل نے فرمایا: وہ میرے غضب کی وجہ سے غضبناک نہیں ہوتے، اور وہ لوگوں کے ساتھ مل کر کھانا، پینا کرتے ہیں‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ اپنے ایک صحابی rکے ساتھ جھاڑی میں داخل ہوئے، آپ ﷺ نے ایک درخت سے دو مسواکیں توڑیں، ان میں سے ایک ٹیڑھی اور دوسری سیدھی تھی، آپ ﷺ نے سیدھی مسواک اپنے صحابی rکو دے دی، اور ٹیڑھی مسواک خود رکھ لی، تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سیدھی مسواک کے مجھ سے زیادہ حق دار ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ہر گز نہیں، جب بھی کوئی شخص کسی کی مصاحبت اختیار کرتا ہے اگرچہ وہ دن کی ایک گھڑی ہو، اللہ عزوجل قیامت کے دن اس سے اس کی مصاحبت کے متعلق سوال کریں گے، سو میں یہ چاہتا ہوں کہ میں کسی چیز میں اپنے آپ کو آپ پر ترجیح نہ دوں‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: لاالہ الااللہ ہمیشہ اپنے کہنے والے کو نفع دیتا ہے، اور اس سے عذاب وبلاء کو دفع کرتا ہے جب تک کہ اس کے حقوق سے بے پروہی واستخفاف نہ کیا جائے، صحابہp نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس کے حقوق سے بے پرواہی واستخفاف کئے جانے کا کیا مطلب ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالی کی نافرمانیاں کھلے طور پر کی جائیں، اور ان کو بند کرنے کی کوشش نہ کی جائے‘‘۔
روایت: ’’اللہ تعالی کا ولی حور عین میں سے اپنی زوجہ کے ساتھ تخت پربیٹھا ہوگا جو کہ سرخ یاقوت کا ہوگا، اور اس پر نور کے قبے ہوں گے، سو اس وقت وہ اپنی بیوی سے کہے گا کہ میں تمہاری چال کا مشتاق ہوں، فرمایا کہ وہ سرخ یاقوت کے تخت سے اتر کر سبز مرجان کے باغ کی طرف چلے گی ، اور اللہ عزوجل اس کےلئے اس باغیچے میں دو نور کے راستے پیدا فرمادیں گے، ان میں سے ایک راستہ زعفران کا ہوگا، اور دوسرا کافور کا ہوگا، وہ زعفران کے راستے پر چلے گی اور کا فور کے راستے سے لوٹے گی، اور وہ ناز ونخرے کے ستر ہزار طریقوں سے چلے گی‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی نے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کو وحی فرمائی کہ فلاں فلاں شہر کو ان میں رہنے والوں پر پلٹ دو، فرشتے نے عرض کیا: اے پروردگار! اس شہر میں آپ کا بندہ ہے جس نے پلک جھپکنے کے بقدر آپ کی نافرمانی نہیں کی، اللہ تعالی نے فرمایا: اس شہر کو اس بندہ پر اور ان پر پلٹ دو، کیونکہ اس کے چہرے پر میری وجہ سے کبھی بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی‘‘۔