روایت: ” دلہن کے پاؤں دھو کر گھر میں جا بجا پانی چھڑکنے سے برکت ہوتی ہے “، یہ من گھڑت روایت ہے۔
تفصیل
”۔۔۔ اور ایک دوسرا عمل جو مشہور ہے کہ دلہن کے پاؤں دھو کر گھر میں جابجا پانی چھڑکا جاتا ہے، ” تذکرة الموضوعات“ میں اس کو موضوع قرا ر دیا ہے ۔۔۔“[1]۔
حوالہ جات
[1] اصلاح الرسوم :نکاح حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا،ص:۹۶،۹۷،مکتبہ حقانیہ،ملتان ۔
حافظ ابن الجوزی ؒ نے ” كتاب الموضوعات“( ۲/ ۲۶۸) میں، حافظ ذہبی ؒ نے”ميزان الاعتدال“(۲/۵۲۳) میں،علامہ شوکانی ؒ نے ”الفوائد المجموعة“(ص:۱۶۴) میں، حافظ ابن عراق ؒ نے ”تنزيه الشريعة“(۲/۲۰۰) میں اس روایت کو من گھڑت کہا ہے۔
ملتی جلتی احادیث
حکایت کہ شب برات میں حضرت فاطمہ R نے سویاں پکائیں، یہ محض تہمت ہے کہیں ثابت نہیں۔
بعض اعراب لگے قرآن حضرت علی r کی جانب منسوب کرنا غلط ہے۔
حکایت کہ شب برات وغیرہ میں مردوں کی روحیں گھروں میں آتی ہیں، اور دیکھتی ہیں کہ کسی نے ہمارے لئے کچھ پکا یا ہے یا نہیں، ثابت نہیں ہے۔
روایت: ”جو شخص اللہ کی ہم نشینی اختیار کرنا چاہے تو وہ اہلِ تصوف کے ساتھ بیٹھا کرے“، یہ روایت ان الفاظ سے منقول نہیں ہے۔
آج کل مزاج پلٹ گئے ہیں کہ من گھڑت روایات ہی کو پسند کر تے ہیں، قصے بھی پڑھتے ہیں تو وہ، جو بالکل فرضی اور جھوٹ ہیں، اور سچے قصے پسند ہی نہیں آتے، یہ عجیب غلطی ہے۔