التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

کتاب”دعائے گنج العرش “، کا نام ہی بتلا رہا ہے کہ یہ من گھڑت ہے۔

تفصیل

”اور اسی قسم سے ”دعائے گنج العرش“ہے اس کے بھی اس قدر معتقد ہیں، محتاج بیان نہیں، میں اس دعا کی نسبت کلام نہیں کر تا، دعا کا مفہوم اچھا سہی،لیکن اسناد غلط ہے، قرآن وحدیث میں کہیں نہ یہ دعا آئی اور نہ کہیں اس کی یہ فضیلتیں آئیں، اس کا نام ہی بتلا رہا ہے کہ موضوع ہے۔ بنانے والے کو یہ بھی نہ سوجھی کہ لفظ  ”گنج العرش “  کی ترکیب کیا ہے، یہ لفظ عربی ہے یا فارسی؟  ”گنج“ لفظ ِفارسی اور ”عرش“ عربی، اور الف لام بھی عربی کا لگا ہوا، یہ ترکیب ایسی ہوگی جیسے کوئی دکان کا ترجمہ کر ے ”خانۃ التجارت “۔ بھلے مانس کو عربی نام رکھنا تھا  تو ” کنز العرش “ لفظ موجود تھا،  مگر کیا کیجئے اس کے موضوع ہونے کا ثبوت نام ہی میں رہنا تھا، اور اسناد تو اس کی ایسی غلط ہے کہ اگر ذرا بھی کسی کو تجربہ ہو اور سچی جھوٹی باتیں سنی ہوں تو پہچان سکتا ہے، کیونکہ اتنا  مبالغہ  جتنا  ”دعا ئے  گنج  العرش  “ کی  اسناد  میں  ہے  سچی  بات  میں  کبھی  نہیں  ہوتا۔

                       ایک چور کا قصہ اس میں لکھا ہے کہ اس کو حاکم نے سزا دینی چاہی، مگر قدرت نہ ہوئی، ہاتھ کاٹنا چاہا نہ کٹا،تلوار سے قتل کر نا چاہا نہ مرا، آگ میں جلانا چاہا نہ جلا، اس کی اس سے وجہ پوچھی گئی تو بیان کیا کہ میرے پاس ”دعائے  گنج العرش“  ہے، اس میں گویا چوروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ ”دعا ئے گنج  العرش “  پاس رکھو اور خوب چوری کرو، خدا نہ کر ے کہ اللہ میاں کا نام اس واسطے بنایا گیا ہو کہ اس سے گناہ میں مدد ملے ـ استغفر اللہ ـ اچھی طرح سن لیجئے کہ یہ دعا موضوع ہے،یعنی کسی کی تصنیف کردہ ہے، حدیث قرآن سے  ثابت  نہیں“[1]۔

حوالہ جات

[1] خطبات حکیم الامت : ایجاد بندہ ، ۲۶/۳۲۰   ، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔