کتاب”دعائے گنج العرش “، کا نام ہی بتلا رہا ہے کہ یہ من گھڑت ہے۔
تفصیل
”اور اسی قسم سے ”دعائے گنج العرش“ہے اس کے بھی اس قدر معتقد ہیں، محتاج بیان نہیں، میں اس دعا کی نسبت کلام نہیں کر تا، دعا کا مفہوم اچھا سہی،لیکن اسناد غلط ہے، قرآن وحدیث میں کہیں نہ یہ دعا آئی اور نہ کہیں اس کی یہ فضیلتیں آئیں، اس کا نام ہی بتلا رہا ہے کہ موضوع ہے۔ بنانے والے کو یہ بھی نہ سوجھی کہ لفظ ”گنج العرش “ کی ترکیب کیا ہے، یہ لفظ عربی ہے یا فارسی؟ ”گنج“ لفظ ِفارسی اور ”عرش“ عربی، اور الف لام بھی عربی کا لگا ہوا، یہ ترکیب ایسی ہوگی جیسے کوئی دکان کا ترجمہ کر ے ”خانۃ التجارت “۔ بھلے مانس کو عربی نام رکھنا تھا تو ” کنز العرش “ لفظ موجود تھا، مگر کیا کیجئے اس کے موضوع ہونے کا ثبوت نام ہی میں رہنا تھا، اور اسناد تو اس کی ایسی غلط ہے کہ اگر ذرا بھی کسی کو تجربہ ہو اور سچی جھوٹی باتیں سنی ہوں تو پہچان سکتا ہے، کیونکہ اتنا مبالغہ جتنا ”دعا ئے گنج العرش “ کی اسناد میں ہے سچی بات میں کبھی نہیں ہوتا۔
ایک چور کا قصہ اس میں لکھا ہے کہ اس کو حاکم نے سزا دینی چاہی، مگر قدرت نہ ہوئی، ہاتھ کاٹنا چاہا نہ کٹا،تلوار سے قتل کر نا چاہا نہ مرا، آگ میں جلانا چاہا نہ جلا، اس کی اس سے وجہ پوچھی گئی تو بیان کیا کہ میرے پاس ”دعائے گنج العرش“ ہے، اس میں گویا چوروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ ”دعا ئے گنج العرش “ پاس رکھو اور خوب چوری کرو، خدا نہ کر ے کہ اللہ میاں کا نام اس واسطے بنایا گیا ہو کہ اس سے گناہ میں مدد ملے ـ استغفر اللہ ـ اچھی طرح سن لیجئے کہ یہ دعا موضوع ہے،یعنی کسی کی تصنیف کردہ ہے، حدیث قرآن سے ثابت نہیں“[1]۔
حوالہ جات
[1] خطبات حکیم الامت : ایجاد بندہ ، ۲۶/۳۲۰ ، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔
ملتی جلتی احادیث
کسی من گھڑت روایت کے بارے میں یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ قرآن و حدیث میں آئی ہے، افتراء علی الشرع ہے اور محض جہالت اور بدعت ہے۔
آج کل مزاج پلٹ گئے ہیں کہ من گھڑت روایات ہی کو پسند کر تے ہیں، قصے بھی پڑھتے ہیں تو وہ، جو بالکل فرضی اور جھوٹ ہیں، اور سچے قصے پسند ہی نہیں آتے، یہ عجیب غلطی ہے۔
روایت: {أنا عرب بلا عین}. میں بلا عین، عرب ہوں ( معاذ اللہ )۔
یہ گھڑی ہوئی حدیث ہے۔
کسی کا کلام یا کتاب سننے یا دیکھنے سے اس کے مصنف کا خفی اثر قلب پر پڑتا ہے۔
بعض کتابیں جن میں بے اصل، اور گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔