التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

حضرت عکاشہ r کی مشہور حکایت ہے، بالکل غلط ہے۔

تفصیل

اسی  طرح  حضرت  عکاشہ r کی  حکایت  جو  مشہور  ہے، بالکل  غلط ہے[1]۔

حوالہ جات

[1] اشرف الجواب : باب دوم ،حضورﷺ کی تعریف میں ایسا مبالغہ جس سے دیگر انبیاء ؑ کی توہین ہو جائز نہیں، نیز بعض غیر معتبر رسائل کی تردید، ص : ۱۳۰، دارالاشاعت،کراچی ۔

اس قصہ کو حافظ ابن جوزی ؒ نے ” كتاب الموضوعات“(۱/۳۰۱) میں، حافظ سیوطی ؒ نے ”اللآلی المصنوعہ“ (۱/۲۵۷)میں، علامہ ابن عرّاق  ؒنے ”تنزيہ الشريعہ“ (۱/۳۳۱) میں، علامہ لکھنوی ؒ نے ”الآثارالمرفوعہ“ (ص:۴۰) میں من گھڑت کہا ہے۔

راقم الحروف نے اس  قصہ کی تحقیق کتاب ”غیر معتبر روایات“ (ص:۱۰۰) میں لکھی ہے،حاصل یہ ہے کہ عکاشہ نامی ایک شخص نے آپ ﷺ کے کہنے پر آپ ﷺ سے اس کا مطالبہ کیا کہ میں آپﷺ سے قصاص لینا چاہتا ہوں،کیونکہ آپ ﷺ نے ایک مرتبہ میری برہنہ پیٹھ پر چھڑی چبوئی تھی،آپ ﷺ نے اپنے آپ کو پیش کر دیا،اس پر تمام صحابہ ؓ غمناک ہو گئے،اور آپ ﷺ کی جگہ اپنے آپ کو پیش کرنا شروع کر دیا،حتی  کہ حضرات حسنین ؓ نے بھی اپنے آپ کو پیش کر دیا،لیکن وہ شخص نہ مانا،بالآخر جب آپ ﷺ نے قصاص کے لئے اپنی پیٹھ خالی کی تو اس نے آپ ﷺ کا بوسہ لے لیا،اور کہا کہ میں بس یہی چاہتا تھا،آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی جنتی کو دیکھنا چاہے تو اسے دیکھ لے۔یہ قصہ اس تفصیل کی ساتھ تو من گھڑت ہے، البتہ اس جیسا ایک دوسرا مختصر واقعہ سواد بن غزیّہ نامی صحابی ؓ    کا ثابت ہے۔