حضرت عمر بن الخطاب r کا خواب میں دیکھنا کہ نبی کریم ﷺپر بارش ہورہی ہے، آپ ﷺ کے جہاں قدم مبارک ہیں وہاں حضرت ابوبکر r کا سر ہے، بارش کا جو پانی نبی اکرم ﷺپر آرہا ہےوہ سارا کا سارا ابوبکر صدیقr پر آرہا ہے، نیز حضرت عمر rکا اپنے آپ کو بھی قریب کھڑے دیکھنا، اور ابوبکر rسے چھینٹوں کا اڑکر حضرت عمر r پر پڑنا۔
تفصیل
روایت: ’’حضرت عمر بن الخطاب r نے ایک دفعہ خواب دیکھا کہ حضور نبی کریم ﷺ پر بارش ہورہی ہے، آپ ﷺ کے جہاں قدم مبارک ہیں وہاں حضرت ابوبکر r کا سر ہے، بارش کا جو پانی نبی اکرم ﷺ پر آرہا ہےوہ سارا کا سارا ابوبکر صدیق r پر آرہا ہے، حضرت عمر r نے اپنے آپ کو بھی قریب کھڑے دیکھا، حضرت عمر r فرماتے ہیں کہ ابوبکر r سے چھینٹیں اڑکر میرے اوپر پڑ رہی ہیں اور میں بھیگا چلاجارہا ہوں، صبح اٹھے اور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا، اے اللہ کے محبوب ﷺ! میں نے رات خواب میں یہ چیزیں دیکھی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ علوم نبوت تھے جو بارش کی طرح میرے اوپر برس رہے تھے، صدیق r کو چونکہ میرے ساتھ کمال مناسبت نصیب ہےاس لئے وہ مجھ سے سب سے زیادہ کمالات پارہا ہے، اور اس کے ساتھ مناسبت کی وجہ سے تم بھی ان علوم کو حاصل کررہے ہو‘‘۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’حضرت علی r جب بھی حضرت ابو بکر صدیق r سے ملتے تو سلام میں پہل کرتے، ایک دفعہ حضرت علی r نے سلام میں تاخیر کی، تو حضرت ابو بکر صدیق r نے سلام میں پہل کی، پھر رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ علی r نے آج مجھ سے سلام میں تاخیر کی ہے، رسول اللہ ﷺ کے پوچھنے پر حضرت علی r نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے گزشتہ رات خواب میں جنت میں ایک ایسا بڑا محل دیکھا کہ اس جیسا محل میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا، میرے پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ اس شخص کےلئے ہے جو اپنے بھائی سے سلام میں پہل کرے، تو میں نے چاہا کہ یہ محل ابو بکر r کا ہوجائے، تو میں نے سلام میں تاخیر کی، تا کہ ابو بکر r مجھ سے سلا م میں سبقت لے کر اس محل کے حق دار بن جائیں‘‘۔
روایت: ’’ آپ ﷺ نے فرمایا : میں نے معراج کی رات اپنی امت کی کچھ عورتوں کو مختلف قسم کے عذاب میں مبتلا پایا: 1 ایک عورت پردہ نہ کرنے کی وجہ سے بالوں کے بل لٹکائی گئی تھی 2 ایک عورت شوہر کو تکلیف دینے کی وجہ سے زبان کے بل لٹکائی گئی تھی 3 غسل جنابت، غسل حیض نہ کرنے اور نماز کا مذاق اڑانے کی وجہ سے ایک عورت کے پیر اس کے پستانوں سے اور ہاتھ پیشانی سے بندھے ہوئے تھے 4 شوہر کے بستر میں ایذاء کا سبب بننے کی وجہ سے ایک عورت پستانوں کے بل لٹکائی گئی تھی 5 چغل خوری اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے ایک عورت کاسر خنزیر کے سر کی طرح، جسم گدھے کے جسم کی طرح تھا 6 احسان جتلانے اور حسد کرنے کی وجہ سے ایک عورت کی شکل کتے کی شکل کی طرح تھی‘‘۔
روایت:’’ آپﷺ کا حضرت علی r کے خادم کے کان میں کہنا کہ علی r کی شہادت تیرے ہاتھ سے ہوگی‘‘۔
روایت: ’’ ہجرت کے وقت نبی علیہ السلام اپنے گھر سے باہر تشریف لائے، اور صدیق اکبر r کے دروازے پر پہنچے، ہلکی سی آواز میں سلام کیا، صدیق اکبر r فوراً باہر تشریف لائے جیسے پہلے ہی سے جاگ رہے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: لوگ سو رہے ہیں، کیا آپ جاگ رہے تھے؟ جواب میں صدیق اکبر r نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے کچھ دنوں سے اندازہ ہورہا تھا کہ آپ کو ہجرت کا حکم ملے گا، اور یہ بھی دل مانتا تھا کہ جب آپ ہجرت کےلئے روانہ ہوں گے تو اس غلام کو اپنی غلامی میں اپنے ساتھ لے کر جائیں گے، پھر دل میں یہ خیال آیا کہ اگر یہ حکم رات کو ملا، اور آپ تشریف لائے تو آپ کو جگانے کی تکلیف اٹھانی پڑے گی، چنانچہ جس دن سے خیال آیا، اسی دن سے میں نے رات کو سونا چھوڑ دیا ہے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ آپ کو میرے دروازے پر آکر کھڑا ہونا پڑے‘‘۔
روایت: ایک صحابیr کا بیوی کی خدمت سے خوش ہوکر ان سے کہنا کہ جو تم مانگو گی میں ضرور دوں گا، اس پر بیوی کا طلاق کا مطالبہ کرنا، الحاصل پریشان ہوکر صحابی r بیوی کے ساتھ نبی کریم ﷺ سے مشورہ کرنے گئے، راستے میں صحابی r کو ٹھوکر لگی، تو بیوی نے یہ کہہ کر طلاق کا مطالبہ چھوڑ دیا: اب تک تمہیں کوئی مصیبت نہیں پہنچی تھی، اس لئے میں تمہیں منافق سمجھ رہی تھی، اور اب میں مطمئن ہوگئی ہوں۔