روایت: ایک صحابیr کا بیوی کی خدمت سے خوش ہوکر ان سے کہنا کہ جو تم مانگو گی میں ضرور دوں گا، اس پر بیوی کا طلاق کا مطالبہ کرنا، الحاصل پریشان ہوکر صحابی r بیوی کے ساتھ نبی کریم ﷺ سے مشورہ کرنے گئے، راستے میں صحابی r کو ٹھوکر لگی، تو بیوی نے یہ کہہ کر طلاق کا مطالبہ چھوڑ دیا: اب تک تمہیں کوئی مصیبت نہیں پہنچی تھی، اس لئے میں تمہیں منافق سمجھ رہی تھی، اور اب میں مطمئن ہوگئی ہوں۔
تفصیل
ایک صحابیہR کا عجیب واقعہ لکھا ہےکہ ان کی شادی ہوئی، اللہ تعالی نے ان کو حسن وجمال بھی عجیب دیا تھا اور شادی بھی ایک بڑے امیر کبیر صحابیr سے ہوئی کہ جن کے پاس رزق کی فراخی تھی، ہر طرح کے عیش وآرام کے سامان تھے، میاں بیوی میں خوب محبت تھی اور اچھا وقت گزر رہا تھا،حتی کہ بیوی اپنے خاوند کی خدمت بھی کرتی اور انھیں خوش بھی رکھتی، دونوں میاں بیوی خوشی خوشی زندگی گزار رہے تھے۔
ایک رات صحابی r کو پیاس محسوس ہوئی، اس نے بیوی سے کہا: مجھے پانی دو، بیوی اٹھی اور پانی لے آئی، جب پانی لے کر واپس آئی تو خاوند سو چکا تھا، وہ پانی کا پیالہ لے کر کھڑی رہی حتی کہ جب ان کی دوبارہ آنکھ کھلی تو دیکھا کہ بیوی پانی لے کر کھڑی ہے، وہ بڑے خوش ہوئے، انھوں نے اٹھ کر پانی پیا اور بیوی سے کہا: میں آج اتنا خوش ہوں کہ تم اتنی دیر پانی کا پیالہ لے کر میرے انتظار میں کھڑی رہی، آج تم جو کہو گی میں تمہاری فرمائش پوری کروں گا، جب صحابی r نے یہ کہا تو صحابیہR کہنے لگی کہ کیا آپ اپنی بات میں پکے ہیں کہ میں جو کہوں گی آپ میری خواہش پوری کریں گے؟ صحابیr کہنے لگے: ہاں پورا کر کے دکھاؤں گا، صحابیہR کہنے لگی کہ اچھا پھر آپ مجھے طلاق دے کر فارغ کردیجئے ۔
اب جب طلاق کی بات ہوئی تو وہ صحابیr بڑے پریشان ہوئے کہ اتنی خوب صورت ، خوب سیرت، اتنی وفا دار اور خدمت گار بیوی کہہ رہی ہے کہ آپ مجھے طلاق دے دیجئے، صحابیr پوچھنے لگے: کیا آپ کو مجھ سے کوئی تکلیف پہنچی ہے؟ بیوی کہنے لگی: بالکل نہیں، صحابیr نے کہا: کیا میں نے آپ کی بے قدری کی ہے؟ ہرگز نہیں، کوئی آپ کی امیدوں کو توڑا ہے؟ کوئی آپ کی بات پوری نہیں کی؟ نہیں ایسی بھی کوئی بات نہیں، صحابیr نے کہا: کیا آپ مجھ سے خفا ہیں؟ بیوی کہنے لگی: ہرگز نہیں، صحابیr نے کہا:تو پھر مجھ سے طلاق کیوں چاہتی ہو؟ کیا تم مجھے پسند نہیں کرتی؟ بیوی کہنے لگی: یہ بات بھی نہیں، پسند بھی بہت کرتی ہوں، محبت کرتی ہوں اسی لئے تو خدمت کرتی ہوں، آپ نے کہا تھا کہ میں آپ کی بات کو پورا کروں لگا، لہذا آپ مجھے طلاق دے کر فارغ کردیں، وہ صحابیr حیران ہیں کہ قول بھی دے بیٹھے، صحابیr کہنے لگے اچھا صبح ہوگی تو نبیe کی خدمت میں جائیں گے اور آپﷺ سے جاکر فیصلہ کروالیں گے، بیوی کہنے لگی بہت اچھا، چنانچہ میاں بیوی رات کو سو گئے۔
صبح ہوئی تو بیوی کہنے لگی کہ چلو جلدی چلتے ہیں، چنانچہ دونوں میاں بیوی گھر سے نکلے اور چاہتے تھے کہ نبیe کی خدمت میں حاضر ہوکر اس مسئلہ کا حل دریافت کریں، ابھی راستے میں ہی تھے کہ صحابیr کا کسی وجہ سے پاؤں اٹکا اور وہ نیچے گرے اور ان کے جسم سے خون نکلنے لگا، بیوی نے فوراً اپنا دوپٹا پھاڑا اور خاوند کے زخم پر پٹی باندھی، اس کے بعد اس کو سہارا دیا اور کہنے لگی کہ چلو گھر واپس چلتے ہیں، میں آپ سے طلاق نہیں لیتی، صحابیr حیران ہوئے کہ جب تم نے طلاق کا مطالبہ کیا تو مجھے اس وقت سمجھ نہیں آئی، اور اب کہتی ہو کہ طلاق نہیں چاہئے تو مجھے اس کی بھی سمجھ نہیں آرہی، صحابیہR کہنے لگی: گھر تشریف لے چلیں وہاں جاکر میں آپ کو بتا دوں گی۔
جب گھر جاکر بیٹھے تو کہنے لگے: مجھے بتاؤ تو سہی کیا بات ہے؟ صحابیہR نے کہا: میں دل میں سوچتی رہی ہوں کہ میں نے آپ کے گھر میں کوئی پریشانی نہیں دیکھی، کوئی غم نہیں دیکھا، کوئی مصیبت نہیں دیکھی، تو میرے دل میں خیال آیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ میرے خاوند کے ایمان میں فرق ہو، میرے خاوند کے اعمال میں فرق ہو، میرے خاوند سے اگر پروردگار کو محبت نہیں تو میں اس بندے کی کیا خدمت کروں گی، اس لئے جب آپ نے کہا کہ میں تمہاری بات پوری کروں گا تو میں نے کہا کہ میں اس بندے سے طلاق چاہتی ہوں جس سے میرے پروردگار محبت نہیں کرتے، پھر جب ہم حضورﷺ کی خدمت میں علم حاصل کرنے کے لئے جارہے تھے، یہ اللہ کا راستہ تھا، آپ گرے اور خون نکلا تو میں فوراً سمجھ گئی کہ آپ کو اللہ کے راستے کا غم پہنچا، مصیبت پہنچی، تکلیف پہنچی، یقیناً اللہ تعالی کو آپ سے پیار ہےاور یہ اللہ تعالی نے آپ کو اپنی ناراضگی کی وجہ سے خوشیاں نہیں دی ہوئیں بلکہ اللہ تعالی کو آپ سے محبت ہے، اب مجھے طلاق لینے کی کوئی ضرورت نہیں، اس لئے میں ساری زندگی آپ کی خادمہ بن کر آپ کی خدمت کروں گی۔
حوالہ جات
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’ایک دفعہ حضرت عبد الرحمن بن عوفr نے سارے مدینے والوں کی دعوت کی، اسی دوران اچانک رسول اللہﷺ کی نظر ایک صحابیr پر پڑی جو کسی گہری سوچ میں تھے، آپﷺ نے پوچھا: عبد الرحمن بن عوفr نے مدینے والوں کی دعوت کی ہے اور تم یہاں بیٹھے کیا غور وفکر کر رہے ہو؟ تو وہ صحابیr کہنے لگے: یا رسول اللہ! میں یہاں اسی فکر میں بیٹھا ہوں کہ کیسے آپﷺ کا ایک ایک امتی جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والا بن جائے؟ اس پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر عبد الرحمن ہزار سال بھی مدینے والوں کی دعوت کرتا رہے تو تمہارے ثواب کو نہیں پاسکتا‘‘۔
روایت: ایک صحابی r کا نبی ﷺ کی اتباع میں مانگ نکالنے کی چاہت کرنا، بال گھنگھریالے ہونے کی وجہ سے مانگ نہ نکلنا، پھر صحابی r کا مانگ نکالنے کےلئے اپنے سر کے درمیان گرم سلاخ کا پھیرنا۔
روایت: ’’جب کوئی بیوی اپنے خاوند کو دیکھ کر مسکراتی ہے اور خاوند بیوی کی طرف دیکھ کر مسکراتا ہے، تو اللہ تعالی دونوں کو دیکھ کر مسکراتے ہیں‘‘۔
روایت: آپ ﷺ کا بچپن میں گم ہونا، پھر حضرت حلیمہ سعدیہ کا پریشان ہونا، اور ایک بوڑھے کا حضرت حلیمہ کو بتوں کے پاس لے جانا، اور آپ ﷺ کا نام سن کر بتوں کا گرجانا۔
روایت: نبی اکرمﷺ نے واقعۂ افک میں صحابہ کرام p سے مشورہ کیا، حضرت عمرr نے فرمایا: مجھے منافقین کے جھوٹا ہونے کا یقین ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے آپﷺ کے جسم اطہر پر مکھی کو نہیں بیٹھنے دیا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ فحاشی سے ملوث عورت سے آپ کی حفاظت نہ فرمائے، حضرت عثمانr نے فرمایا: اللہ تعالی نے آپﷺ کا سایہ مبارک زمین پر نہیں پڑنے دیا تاکہ کسی کا قدم اس پر نہ پڑے، جب اللہ تعالی نے کسی کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ آپﷺ کے سایہ مبارک پر قدم رکھ سکے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کسی کو یہ اختیار دے دے کہ وہ آپﷺ کی گھر والی کی ناموس کو خراب کردے، حضرت علیr نے فرمایا: حضرت جبرائیلe نے آپﷺ کو خبر دی تھی کہ آپﷺ کے جوتوں میں گندگی لگی ہوئی ہے، اور آپﷺ کو حکم دیا کہ اسے اتار دیں، تو اب یہ کیسے ہوسکتا ہے، کہ آپﷺ کی گھر والی ذرہ برابر بھی کسی برائی میں مبتلا ہو اور اللہ تعالی آپﷺ کو اسے جدا کرنے کا حکم نہ دے۔