التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ہفتم)

روایت: ایک صحابیr کا بیوی کی خدمت سے خوش ہوکر ان سے کہنا کہ جو تم مانگو گی میں ضرور دوں گا، اس پر بیوی کا طلاق کا مطالبہ کرنا، الحاصل پریشان ہوکر صحابی r بیوی کے ساتھ نبی کریم ﷺ سے مشورہ کرنے گئے، راستے میں صحابی r کو ٹھوکر لگی، تو بیوی نے یہ کہہ کر طلاق کا مطالبہ چھوڑ دیا: اب تک تمہیں کوئی مصیبت نہیں پہنچی تھی، اس لئے میں تمہیں منافق سمجھ رہی تھی، اور اب میں مطمئن ہوگئی ہوں۔

تفصیل

ایک صحابیہR  کا عجیب واقعہ لکھا ہےکہ ان کی شادی ہوئی، اللہ تعالی نے ان کو حسن وجمال بھی عجیب دیا تھا اور شادی بھی ایک بڑے امیر کبیر صحابیr سے ہوئی کہ جن کے پاس رزق کی فراخی تھی، ہر طرح کے عیش وآرام کے سامان تھے، میاں بیوی میں خوب محبت تھی اور اچھا وقت گزر رہا تھا،حتی کہ بیوی اپنے خاوند کی خدمت بھی کرتی اور انھیں خوش بھی رکھتی، دونوں میاں بیوی خوشی خوشی زندگی گزار رہے تھے۔

ایک رات صحابی r کو پیاس محسوس ہوئی، اس نے بیوی سے کہا: مجھے پانی دو، بیوی اٹھی اور پانی لے آئی، جب پانی لے کر واپس آئی تو خاوند سو چکا تھا، وہ پانی کا پیالہ لے کر کھڑی رہی حتی کہ جب ان کی دوبارہ آنکھ کھلی تو دیکھا کہ بیوی پانی لے کر کھڑی ہے، وہ بڑے خوش ہوئے، انھوں نے اٹھ کر پانی پیا اور بیوی سے کہا: میں آج اتنا خوش ہوں کہ تم اتنی دیر پانی کا پیالہ لے کر میرے انتظار میں کھڑی رہی، آج تم جو کہو گی میں تمہاری فرمائش پوری کروں گا، جب صحابی r نے یہ کہا تو صحابیہR  کہنے لگی کہ کیا آپ اپنی بات میں پکے ہیں کہ میں جو کہوں گی آپ میری خواہش پوری کریں گے؟ صحابیr کہنے لگے: ہاں پورا کر کے دکھاؤں گا، صحابیہR کہنے لگی کہ اچھا پھر آپ مجھے طلاق دے کر فارغ کردیجئے ۔

اب جب طلاق کی بات ہوئی تو وہ صحابیr بڑے پریشان ہوئے کہ اتنی خوب صورت ، خوب سیرت، اتنی وفا دار اور خدمت گار بیوی کہہ رہی ہے کہ آپ مجھے طلاق دے دیجئے، صحابیr پوچھنے لگے: کیا آپ کو مجھ سے کوئی تکلیف پہنچی ہے؟ بیوی کہنے لگی: بالکل نہیں، صحابیr نے کہا: کیا میں نے آپ کی بے قدری کی ہے؟ ہرگز نہیں، کوئی آپ کی امیدوں کو توڑا ہے؟ کوئی آپ کی بات پوری نہیں کی؟ نہیں ایسی بھی کوئی بات نہیں، صحابیr نے کہا: کیا آپ مجھ سے خفا ہیں؟ بیوی کہنے لگی: ہرگز نہیں، صحابیr نے کہا:تو پھر مجھ سے طلاق کیوں چاہتی ہو؟ کیا تم مجھے پسند نہیں کرتی؟ بیوی کہنے لگی: یہ بات بھی نہیں، پسند بھی بہت کرتی ہوں، محبت کرتی ہوں اسی لئے تو خدمت کرتی ہوں، آپ نے کہا تھا کہ میں آپ کی بات کو پورا کروں لگا، لہذا آپ مجھے طلاق دے کر فارغ کردیں، وہ صحابیr حیران ہیں کہ قول بھی دے بیٹھے، صحابیr کہنے لگے اچھا صبح ہوگی تو نبیe کی خدمت میں جائیں گے اور آپﷺ سے جاکر فیصلہ کروالیں گے، بیوی کہنے لگی بہت اچھا، چنانچہ میاں بیوی رات کو سو گئے۔

صبح ہوئی تو بیوی کہنے لگی کہ چلو جلدی چلتے ہیں، چنانچہ دونوں میاں بیوی گھر سے نکلے اور چاہتے تھے کہ نبیe کی خدمت میں حاضر ہوکر اس مسئلہ کا حل دریافت کریں، ابھی راستے میں ہی تھے کہ صحابیr  کا کسی وجہ سے پاؤں اٹکا اور وہ نیچے گرے اور ان کے جسم سے خون نکلنے لگا، بیوی نے فوراً اپنا دوپٹا پھاڑا اور خاوند کے زخم پر پٹی باندھی، اس کے بعد اس کو سہارا دیا اور کہنے لگی کہ چلو گھر واپس چلتے ہیں، میں آپ سے طلاق نہیں لیتی، صحابیr حیران ہوئے کہ جب تم نے طلاق کا مطالبہ کیا تو مجھے اس وقت سمجھ نہیں آئی، اور اب کہتی ہو کہ طلاق نہیں چاہئے تو مجھے اس کی بھی سمجھ نہیں آرہی، صحابیہR کہنے لگی: گھر تشریف لے چلیں وہاں جاکر میں آپ کو بتا دوں گی۔

جب گھر جاکر بیٹھے تو کہنے لگے: مجھے بتاؤ تو سہی کیا بات ہے؟ صحابیہR نے کہا: میں دل میں سوچتی رہی ہوں کہ میں نے آپ کے گھر میں کوئی پریشانی نہیں دیکھی، کوئی غم نہیں دیکھا، کوئی مصیبت نہیں دیکھی، تو میرے دل میں خیال آیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ میرے خاوند کے ایمان میں فرق ہو، میرے خاوند کے اعمال میں فرق ہو، میرے خاوند سے اگر پروردگار کو  محبت نہیں تو میں اس بندے کی کیا خدمت کروں گی، اس لئے جب آپ نے کہا کہ میں تمہاری بات پوری کروں گا تو میں نے کہا کہ میں اس بندے سے طلاق چاہتی ہوں جس سے میرے پروردگار محبت نہیں کرتے، پھر جب ہم حضورﷺ  کی خدمت میں علم حاصل کرنے کے لئے جارہے تھے، یہ اللہ کا راستہ تھا، آپ گرے اور خون نکلا تو میں فوراً سمجھ گئی کہ آپ کو اللہ کے راستے کا غم پہنچا، مصیبت پہنچی، تکلیف پہنچی، یقیناً اللہ تعالی کو آپ سے پیار ہےاور یہ اللہ تعالی نے آپ کو اپنی ناراضگی کی وجہ سے خوشیاں نہیں دی ہوئیں بلکہ اللہ تعالی کو آپ سے محبت ہے، اب مجھے طلاق لینے کی کوئی ضرورت نہیں، اس لئے میں ساری زندگی آپ کی خادمہ بن کر آپ کی خدمت کروں گی۔

حوالہ جات

[1]  المستدرك على الصحيحين:1/498،رقم:1283ت:عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1422هـ .

[2]  المستدرك على الصحيحين:1/498،رقم:1283ت:عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1422هـ .

[3]  تلخيص المستدرك بذيل المستدرك:1/347،ت:يوسف عبد الرحمن المرعشلي،دار المعرفة ـ  بيروت .

ملتی جلتی احادیث