روایت: ’’حضرت علی r جب بھی حضرت ابو بکر صدیق r سے ملتے تو سلام میں پہل کرتے، ایک دفعہ حضرت علی r نے سلام میں تاخیر کی، تو حضرت ابو بکر صدیق r نے سلام میں پہل کی، پھر رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ علی r نے آج مجھ سے سلام میں تاخیر کی ہے، رسول اللہ ﷺ کے پوچھنے پر حضرت علی r نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے گزشتہ رات خواب میں جنت میں ایک ایسا بڑا محل دیکھا کہ اس جیسا محل میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا، میرے پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ اس شخص کےلئے ہے جو اپنے بھائی سے سلام میں پہل کرے، تو میں نے چاہا کہ یہ محل ابو بکر r کا ہوجائے، تو میں نے سلام میں تاخیر کی، تا کہ ابو بکر r مجھ سے سلا م میں سبقت لے کر اس محل کے حق دار بن جائیں‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] عمدة التحقيق في بشائر آل الصديق:ص:78،مطبعة جمعية المعارف،الطبعة1287هـ .
[2] بهجة النفوس وتحليها بمعرفة ما لها وما عليها:3/27،دار الجيل ـ بيروت،الطبعة الثالثة .
’’ بهجة النفوس‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’وكما فعل علي رضي الله عنه مع أبي بكر رضي الله تعالى عنه في السلام، لأن عليا رضي الله عنه كان إذا لقي أبا بكر رضي الله عنه ابتدأه بالسلام، فلما أن كان يوما لقيه فلم يسلم عليه، فابتدأه أبو بكر بالسلام، ورد عليه علي، فجاء أبو بكر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر له ذلك، فإذا بعلي قد جاء، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: ما منعك أن تبتدئ أبا بكر اليوم بالسلام؟ فقال: يا رسول الله! إني رأيت البارحة قصرا في الجنة فأعجبني، فقلت: لمن هذا؟ فقيل: لمن يبتدئ أخاه بالسلام، فأردت أن أوثر اليوم أبا بكر به على نفسي‘‘.
[3] نزهة المجالس:1/254،المكتبة العصرية ـ بيروت،الطبعة1438هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’ ہجرت کے وقت نبی علیہ السلام اپنے گھر سے باہر تشریف لائے، اور صدیق اکبر r کے دروازے پر پہنچے، ہلکی سی آواز میں سلام کیا، صدیق اکبر r فوراً باہر تشریف لائے جیسے پہلے ہی سے جاگ رہے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: لوگ سو رہے ہیں، کیا آپ جاگ رہے تھے؟ جواب میں صدیق اکبر r نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے کچھ دنوں سے اندازہ ہورہا تھا کہ آپ کو ہجرت کا حکم ملے گا، اور یہ بھی دل مانتا تھا کہ جب آپ ہجرت کےلئے روانہ ہوں گے تو اس غلام کو اپنی غلامی میں اپنے ساتھ لے کر جائیں گے، پھر دل میں یہ خیال آیا کہ اگر یہ حکم رات کو ملا، اور آپ تشریف لائے تو آپ کو جگانے کی تکلیف اٹھانی پڑے گی، چنانچہ جس دن سے خیال آیا، اسی دن سے میں نے رات کو سونا چھوڑ دیا ہے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ آپ کو میرے دروازے پر آکر کھڑا ہونا پڑے‘‘۔
روایت:’’ آپﷺ کا حضرت علی r کے خادم کے کان میں کہنا کہ علی r کی شہادت تیرے ہاتھ سے ہوگی‘‘۔
حضرت عمر بن الخطاب r کا خواب میں دیکھنا کہ نبی کریم ﷺپر بارش ہورہی ہے، آپ ﷺ کے جہاں قدم مبارک ہیں وہاں حضرت ابوبکر r کا سر ہے، بارش کا جو پانی نبی اکرم ﷺپر آرہا ہےوہ سارا کا سارا ابوبکر صدیقr پر آرہا ہے، نیز حضرت عمر rکا اپنے آپ کو بھی قریب کھڑے دیکھنا، اور ابوبکر rسے چھینٹوں کا اڑکر حضرت عمر r پر پڑنا۔
روایت: نبی اکرمﷺ نے واقعۂ افک میں صحابہ کرام p سے مشورہ کیا، حضرت عمرr نے فرمایا: مجھے منافقین کے جھوٹا ہونے کا یقین ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے آپﷺ کے جسم اطہر پر مکھی کو نہیں بیٹھنے دیا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ فحاشی سے ملوث عورت سے آپ کی حفاظت نہ فرمائے، حضرت عثمانr نے فرمایا: اللہ تعالی نے آپﷺ کا سایہ مبارک زمین پر نہیں پڑنے دیا تاکہ کسی کا قدم اس پر نہ پڑے، جب اللہ تعالی نے کسی کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ آپﷺ کے سایہ مبارک پر قدم رکھ سکے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کسی کو یہ اختیار دے دے کہ وہ آپﷺ کی گھر والی کی ناموس کو خراب کردے، حضرت علیr نے فرمایا: حضرت جبرائیلe نے آپﷺ کو خبر دی تھی کہ آپﷺ کے جوتوں میں گندگی لگی ہوئی ہے، اور آپﷺ کو حکم دیا کہ اسے اتار دیں، تو اب یہ کیسے ہوسکتا ہے، کہ آپﷺ کی گھر والی ذرہ برابر بھی کسی برائی میں مبتلا ہو اور اللہ تعالی آپﷺ کو اسے جدا کرنے کا حکم نہ دے۔
روایت: ایک صحابیr کا بیوی کی خدمت سے خوش ہوکر ان سے کہنا کہ جو تم مانگو گی میں ضرور دوں گا، اس پر بیوی کا طلاق کا مطالبہ کرنا، الحاصل پریشان ہوکر صحابی r بیوی کے ساتھ نبی کریم ﷺ سے مشورہ کرنے گئے، راستے میں صحابی r کو ٹھوکر لگی، تو بیوی نے یہ کہہ کر طلاق کا مطالبہ چھوڑ دیا: اب تک تمہیں کوئی مصیبت نہیں پہنچی تھی، اس لئے میں تمہیں منافق سمجھ رہی تھی، اور اب میں مطمئن ہوگئی ہوں۔